....مثال قائم کر دی گئی!

09:03 AM, 12 Dec, 2025

پاکستان کی تاریخ بدل رہی ہے بلکہ بدل چکی ہے کیا کوئی یہ بات سوچ سکتا ہے کہ دنیا کی اعلیٰ ترین خفیہ ایجنسی (آئی ایس آئی) کے سپائی ماسٹر، تین تارہ جرنیل کو عمرقید بامشقت کی سزا ہو سکتی ہے، دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت، مملکت پاکستان کی فاتح فوج نے اپنے ہی تین تارہ جرنیل کو مثالی سزا دے کر ایک قابل قدر مثال قائم کر دی ہے۔ پاکستان کی تاریخ بدل نہیں رہی ہے بلکہ بدل گئی ہے اور مثال قائم کر دی گئی ہے۔
12 اگست 2024 کو سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز کیا گیا جو 15 ماہ تک جاری رہا، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں یعنی پالیسی مفادات اور سلامتی کے منافی سرگرمیاں، سرکاری اختیارات اور وسائل کا غلط استعمال اور بعض افراد کو بلاجواز نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت کارروائی کی گئی۔ ملزم کو اپنا دفاع کرنے اور مرضی کی قانونی معاونت حاصل کرنے کی سہولیات فراہم کی گئیں، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا، ملزم کو تمام قانونی حقوق بشمول اپنی مرضی کی دفاعی ٹیم کی تعیناتی کا حق دیا گیا۔ سزا کے بعد جرم کو متعلقہ فورم پر اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس قدر مو¿ثر اور بڑے عہدے پر فائز کسی شخص کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو، فوج نے آئین پاکستان میں دیئے گئے آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت محکمانہ کارروائی کر کے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے کے طاقتور ترین شخص کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے۔اس بارے میں کسی کو بھی شکایت نہیں ہو گی اور دوسری رائے نہیں ہے کہ فوج نے آئینی طریقے کے مطابق شفاف محکمانہ کارروائی کر کے اپنے ہی بندے کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ صاف اور شفاف طریقے سے نہ صرف انصاف ہوا ہے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آیا ہے۔
پاکستان تبدیل ہو رہا ہے۔ ہم ایک فاتح قوم بن چکے ہیں، ہم نے اپنے ازلی دشمن کو عبرتناک شکست دے کر اپنی حیثیت منوا لی ہے۔ بھارت، پاکستان کا ازلی دشمن ہے ہم سے ہر لحاظ سے بڑا طاقتور ملک ہے۔ آبادی ہو یا معاشیات، سیاست ہو یا سفارت کاری وہ خطے میں ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں بھی ہم پربھاری ہے۔ عظیم اشتراکی ریاست بھی اس کی آبیاری کرتی رہی ہے اور عظیم ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی اسے سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے لیس کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہا۔ اسرائیل جیسی ریاست، مسلم دشمنی میں بھارت کی ساتھی رہی ہے، مئی 2025کے معرکے میں پاکستان پر جو خودکش ڈرونز چھوڑے گئے تھے وہ اسرائیلی کنٹرول میں تھے، اسرائیلی ماہرین دہلی میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت میںمکمل طور پر شریک تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے حامل مغربی ممالک و مسلم دشمن عیسائی قوتیں بھارت کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے میں مصروف رہی ہیں جبکہ پاکستان دسمبر 79ءمیں اشتراکی افواج کے افغانستان پر حملے سے لے کر 2001 میں امریکی اتحادی افواج کے افغانستان پرحملے تک فرنٹ لائن ریاست کے طور پر حالت جنگ میں رہا ہے۔ 2022 میں امریکی اتحادی افواج کے افغانستان سے رخصتی کے بعد فتنہ الہند اور خوارج پاکستان پر پل پڑے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام نے مل کر نہ صرف بھارتی طاقت اور عظمت کا غرور پاش پاش کردیا ہے بلکہ نمک حرام تحریک طالبان پاکستان و کابلی طالبان کی پاکستان دشمنی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ دنیا ایک فاتح اور طاقتور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہماری بھارت پر عسکری فتح کا چرچا ہم نے اتنی دفعہ نہیں کیا جتنا عالمی طاقت امریکہ کے صدر ٹرمپ نے کیا ہے۔ وہ ہر مقام اور موقع پر پاکستان کی فتح کا چرچا کرتے ہوئے شرماتے نہیں ہیں، گرائے جانے والے رافیل کی تعداد بیان کرتے ہیں، ہندوتوا کا پرچارک بھارتی وزیراعظم مودی کو تو چپ سی لگ گئی ہے وہ کسی اسی عالمی میٹنگ میں شریک نہیں ہوتا ہے جہاں ٹرمپ کی آمد و شرکت متوقع ہو اب تو ٹرمپ کا رافیل ذکر مودی کی چھیڑ بن چکا ہے۔ پاکستان ایک فاتح ملک کے طور پر جانا جا رہا ہے۔ پاک افواج عالمی سطح پر اپنا آپ منوا چکی ہیں۔ فیض حمید کی عمر قید بامشقت ہماری فاتح افواج کی پذیرائی میں اور بھی اضافے کا باعث بنے گی۔ ہماری فوج نے کارکردگی اور احتساب کے حوالے سے ریکارڈ قائم کر دکھایا ہے۔ فوج اس سے پہلے سیاست میں اپنی مداخلت کا باب بند کر چکی ہے۔ ملکی سیاست و معیشت سول حکمرانوں کی ذمہ داری ہے لگتا ہے ہماری سیاست کسی قسم کی تبدیلی کے لئے تیار نہیں ہے وہی کرپشن کی کہانیاں، وہی بے اعتدالیاں، وہ ناکارکردگی ہمارے سامنے ہے۔ ہماری قومی معیشت بہتری نہیں دکھا رہی ہے، قرضوں پر قرضے لئے جا رہی ہے، معاشی نمو، افزائش آبادی کی شرح سے کم ہے ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے۔ بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، توانائی کا شعبہ پیداواری عمل میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ گردشی قرضے کا حجم ہو یا قومی قرضے کا حجم، قومی اور شخصی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے۔آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے ہمارے معاشی نظام کی کمزوریوں اور تباہ کاریوں کا پردہ چاک کر دیا ہے کرپشن کا فروغ ناسور بن چکا ہے۔
فوج اپنا کام کر رہی ہے اپنا سکہ جما چکی ہے اپنے ازلی دشمن پر فتح حاصل کر کے اپنی کارکردگی کا ثبوت فراہم کر چکی ہے۔ فیض حمید کو سزا دے کر اپنی صفوں سے کرپشن اور نااہلی کے خاتمے کا ثبوت بھی فراہم کر چکی ہے۔ دوسری طرف ہماری سویلین حکومت ہے۔ وہ حکومت چاہے کیئرٹیکر ہو یا منتخب کردہ یا ہائی برڈ، اپنی کارکردگی دکھانے میں ناکام نظم آ رہی ہے۔ پاکستان کی افزائش آبادی سردست سوہان روح بن چکی ہے حالانکہ اسے ہم حسن تدبیر سے تعمیروترقی کا زینہ بھی بنا سکتے ہیں۔ چین نے اپنی آبادی کو عالمی معاشی طاقت بننے کا ذریعہ بنایا ہے۔ ہم ابھی تک کرپشن و نااہلی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، عالمی حالات تبدیل ہو رہے ہیں نئی ٹیکنالوجیز سامنے آ رہی ہیں، نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں، پاکستان عالمی منظر پر چھا جانے کی راہ پر گامزن ہے، فوج تبدیل ہو گئی ہے اس نے اپنا راستہ، آئینی و قانونی متعین کر لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کب اپنا کردار ادا کرے گی؟ پاکستان کو حقیقی طاقت بنانے کے عمل کا آغاز کب ہو گا؟ قوم منتظر ہے۔

مزیدخبریں