ہم کو لشکر کی حمایت سے ڈرانے والے ....

09:02 AM, 12 Dec, 2025

اس میں کوئی شک نہیں کہ فوج کسی ریاست کا دبدبہ اوروقار ہوتی ہے ۔دنیا کی ہر ریاست نے اپنی بقاء¾ سلامتی ¾ دفاع اور استحکام کیلئے اپنی فوج کو ہر وہ ہتھیار اور ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے جو کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے ضرور ی ہو۔اپنی سرحدو ں کی حفاظت کرسکے اور کسی اندرونی خطرے یا قدرتی آفت میں اپنے لوگوں کی مدد گار اورمعاون بھی ثابت ہو۔ بلاشبہ دنیا کہ ہرفوج یہ تمام ذمہ داریاں سرانجام دیتی ہے ۔فوج ایک لامحدود طاقت کا نام ہے کہ یہ لامحدود طاقت ہی ریاست کو اندرونی اوربیرونی طاقتوں سے محفوظ رکھتی ہے ۔ فوج میں طاقتور ور ترین شخص بھی ریاست کے آئین اورفوج کے قانون کا پابند ہوتا ہے مگر ایسے زخموں کا کیا ¾کیا جائے جس کو مرہم سے آگ لگ جائے ؟ اُس دُکھ کا علاج کیا ہے جو کوئی اپنا ہی دیدے۔ افواج ِ پاکستان ایک منظم ترین ادارہ ہے جس میں چلنے والے جزا سزا کے عمل سے اکثر پاکستان کے عوام لا علم رہتے ہیں لیکن جب کسی اعلیٰ فوجی افسرکی سزا کا مطالبہ عوامی مطالبے کی شکل میں تبدیل ہو جائے تو پھر بدقسمتی کا سفر شروع ہو جاتا ہے ۔سابق لیفٹینٹ جنرل و سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید بھی اُن بدقسمت اور مکار لوگوں میں سے ایک تھا جس نے پاکستان کی عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچایا ۔ جس نے ہزاروں نہیں لاکھوں سیاسی ورکروں کی محنت کو اپنی جہالت ¾خود غرضی ¾ تکبر اورغرور کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ ایک ایسا شخص جوخدائی لہجے میں بات کیا کرتا تھا ۔ اُس نے ریاستی مفادات اور سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہوئے ملک و قو م کو پس پشت ڈالا ۔ وہ اختیارات جو ریاست نے اُس کے عہدہ کو دئیے تھے اُس نے اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیے اور مستقبل کی سیاسی پلاننگ کا حصہ بن کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا کھلا مذاق اڑاتا رہا ۔اُس نے ذاتی فائدے کیلئے عام آدمیوں کو بھی نقصان پہنچائے جو اُس کے منصب اور اُس مرتبے کے منافی تھا جو ریاست پاکستان نے اُسے دے رکھا تھا ۔ 12 اگست 2024 کو سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی کا آغاز ہوا، جو 15 ماہ تک جاری رہاملزم پر چار الزامات عائدکیے گئے ،ان الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں جو ریاست کی سلامتی اور مفادات کے لیے نقصان دہ ہیں، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، اوربعض افراد کو بلاجواز نقصان پہنچانے کے الزامات شامل ہیں۔طویل اورجامع قانونی کاروائی کے بعد، ملزم کو تمام الزامات ثابت ہونے پر مجرم قرار دیتے ہوئے 11 دسمبر 2025 کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھااور ملزم کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے،ان حقوق میں اپنی مرضی کی دفاعی ٹیم تعینات کرنے کا حق بھی حاصل تھا-مجرم کو متعلقہ فورم پر اپیل کا حق حاصل ہے ۔مجرم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے دانستہ طور پر سیاسی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام پیدا کرنا، اسکے علاوہ بعض دیگر معاملات میں مجرم کے ملوث ہونے کے معاملے کو علیحدہ طور پر نمٹا جارہا ہے جن کے فیصلے بعد ازاں منظر پر آ جائیں گے۔ میں آج فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اُن تمام زبانوں کو بند کردیا جو برملا کہہ رہی تھیں کہ فیض حمید کا بال بھی بیکا نہیں ہو گا ۔ عنقریب عمران نیازی اورفیض حمید ایک سٹیج پر نظر آئیں گے ۔ حقیقت میں صرف عمران نیازی اکیلا ذہنی مریض نہیں ہے اُس نے ذہنی مریضوں کی ایک پوری نسل پید ا کر رکھی ہے جن کیلئے مزید ذہنی امراض کے ہسپتال بنانے پڑیں گے ۔ میں نے بہت پہلے لکھ دیاتھا کہ فیض حمید کو سزا دیئے بغیر عمران نیازی کی سزا جسٹفائی نہیں ہو گی ۔ اُسے پاکستان کے منصف ذہن کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔فیض حمید کی گرفتاری سے لے کرآجتک مجھے ایک لمحے کیلئے شک یا وسوسہ بھی نہیں اٹھا تھا کہ فیض حمید سزا سے بچ جائے گا ۔ جب آصف زرداری نے کہا تھا کہ ”جیل دو سال بعد محسوس ہونا شروع ہوتی ہے ۔“ میں نے اگلے دن ہی لکھ دیا تھا کہ عمران نیازی کو جیل اُس دن محسوس ہو گی جس دن فیض حمید کو سزا ہو گی۔ عمران نیازی اکرام اللہ نیازی کے مرنے پر یتیم نہیں ہوا تھا اُس کی یتیمی آج رات سے شروع ہو گی ۔ پاکستان ترقی کی ایک نئی ڈگر پر چل پڑا ¾ جس کا دہائیوں سے انتظار تھا وہ مبارک گھڑی آ ج آن پہنچی ہے ۔ پاکستانیوں مبارک ہو کہ پاکستان سزا جزا کے ایک نئے دور میں داخل ہوچکا ۔ابھی تو فیلڈ مارشل کے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز بننے سے پہلے اور بعد میں چلنے والی سوشل میڈیا کمپین کا بھی حساب کتاب ہونا ہے۔ ابھی تو افواج پاکستان پر کتے کی طرح بھونکنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں آنا ہے ۔ ابھی تو 9مئی کے سیاہ دن کے سیاہ چہروں کو منظر عام پر لانا ہے جنہوں نے قومی وقار کو داﺅ پر لگایا ۔ ابھی تو بھارتی ¾ افغانی اور اسرائیلی بیانیے پاکستانی عوام کے ذہنوں میںانڈیلنے والوں کو کوئے یار سے سوئے دار تک جانا ہے ۔ پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان مخالف بیانیے چلانے والوں کو گلیوں اورچوراہوں میں لے کر آنا ہے۔ انہیں پاکستان کے محب وطن عوام کے سامنے کھڑے کرکے ان کے مکروہ 
چہرے دکھانے ہیں۔ آج رات سے عمران نیازی کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی ۔ وہ جو کہتا تھا ” میں کلہ کافی آں “ اللہ نے اُسے کلہ ہی کردیا ہے ۔ افواج ِ پاکستان کے اس تاریخی فیصلے پر قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ دن دور نہیں جب عمران نیازی کی حقیقی سزائیں بھی شروع ہو جائیں گے ۔ ویسے تو کل رات حامد میر کا پاکستان میں مائنس ون کے فارمولے کا وی لاگ سن کر ہی میں سمجھ گیا تھا کہ اس چہرے پر جو ہوائیاں اڑ رہی ہیں اُس کے پس منظر میں کچھ بڑا ہو چکا ہے۔ میں نے اُس کے وی لاگ پرکمنٹ میں بھی لکھا تھا میرصاحب آج آپ کے چہرے پرہوائیاں اڑ رہی ہیں آپ کی باڈی لینگوئج بدلی ہوئی ہے مجھے کیا علم تھا کہ یوتھ برگیڈ زیر حراست بلکہ سزا یافتہ ہو چکی ہے ۔ اس سزا میں ایمان والوں کیلئے کھلی نشانیاں ہیں ۔ یہی فیض حمید تھا جس نے دھونس کی بنیاد پر عمران نیازی کی بدمعاشی قائم کرنے کی ناکام کوشش کی اور آج اپنے تمام اعزازات سے محروم ہو کر ذلت و رسوائی کے گہرے گڑے میں جا گر ہے جہاں عنقریب اس کا ہینڈ سم بھی پہنچ جائے گا۔ فیض حمید کی سزا اُن سب کیلئے عبر ت کا نشان ہے جو ریاست پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں ۔ فیلڈ مارشل قوم آ پ کے ساتھ ہے ۔ آپ کے اس فیصلے کے ساتھ ہے اور اُس فیصلے کے بھی ساتھ ہے جوعنقریب آنے والا ہے ۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔۔۔ دشمنان ِ وطن مردہ باد۔۔۔ ہم کو ہمارے لشکر سے ڈرانے والا آج خود اکیلا ہوا تو عابد حسین عابد کا شعر یاد آ گیا کہ :
ہم کو لشکر کی حمایت سے ڈرانے والے 
تُوکسی روز اکیلا بھی تو ہو سکتا ہے

مزیدخبریں