اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرض پروگرام کے تحت زیادہ تر اہداف پورے کر لیے ہیں، اور ملک کی معاشی کارکردگی میں واضح بہتری آئی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات اور سیلاب کے باوجود اپنی معیشت کو مستحکم رکھا۔ مالی کارکردگی کی بہتری کے حوالے سے آئی ایم ایف نے ذکر کیا کہ پرائمری سرپلس 1.3 فیصد رہا، جو کہ آئی ایم ایف کے طے شدہ ہدف کے مطابق تھا۔
رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا، مگر یہ دباؤ عارضی ثابت ہوگا۔ اس دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، اور آئندہ برسوں میں ان ذخائر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان کی مضبوط اقتصادی پالیسیوں نے اسے حالیہ معاشی بحران سے نکالنے میں مدد دی، اور اس سال کی معاشی ترقی توقعات سے بہتر رہی۔ تاہم، حالیہ سیلاب نے آئندہ سال کی معاشی ترقی پر کچھ اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا قرض پروگرام کامیابی سے جاری ہے، اور اس نے دونوں پروگرامز کی مد میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط فراہم کر دی ہے۔