سلامتی کونسل کی اصلاحات: نمائندگی کی جنگ یا مراعات کے نئے مراکز

09:28 AM, 13 Aug, 2026


دوسری جنگِ عظیم کی ہولناکیوں کے بعد 1945ءمیں جب اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کا بنیادی مقصد دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دوزخ سے بچانا اور بین الاقوامی امن قائم کرنا تھا۔ تاہم اس ادارے کے سب سے بااثر اور بااختیار ادارے یعنی ”سلامتی کونسل“کو جس قالب میں ڈھالا گیا، وہ بنیادی طور پر اس دور کے فاتحین کی سیاسی و معاشی فوقیت کا مرہونِ منت تھا۔ پانچ مستقل ارکان (P5) کو حاصل ”ویٹو پاور“ ایک ایسا خصوصی حق تھا جس کا مقصد بڑی طاقتوں کو باہم تصادم سے روکنا اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ منسلک رکھنا تھا لیکن وقت کے ساتھ یہی ویٹو پاور عالمی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھری۔
آج جب ہم اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں داخل ہو چکے ہیں، دنیا کی آبادی 8 ارب سے تجاوز کر چکی ہے اور اقوامِ متحدہ کے ارکان کی تعداد 193 تک پہنچ گئی ہے۔ سلامتی کونسل کا 1965ءکا پرانا ڈھانچہ نوآبادیاتی دور کی ایک یادگار سے زیادہ کچھ محسوس نہیں ہوتا۔ کونسل میں افریقہ، لاطینی امریکہ، جنوبی ایشیا اور تمام مسلم دنیا کی نمائندگی انتہائی ناکافی ہے جس کے باعث اس کی فیصلہ سازی میں عالمی جنوب (Global South) کے خدشات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
اسی ناانصافی کے ازالے کے لیے 2008ءمیں جنرل اسمبلی نے بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کے فریم ورک کی بنیاد رکھی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اصلاحات کا یہ سفر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے محض بیانات اور سفارتی تعطل کا شکار ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اصلاحات کیسے کی جائیں، بلکہ یہ ہے کہ طاقت کے مراکز کو کیسے تقسیم کیا جائے۔اس وقت اقوامِ متحدہ میں مختلف بلاکس اپنے اپنے مفادات اور وژن کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف G4 (برازیل، جرمنی، بھارت اور جاپان) کا گروپ ہے جو اپنے لیے سلامتی کونسل میں مستقل نشستوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف افریقی گروپ ہے جو تاریخی ناانصافیوں کے خاتمے کے لیے دو مستقل ویٹو نشستوں کا طالب ہے۔ جبکہ فرانس اور میکسیکو جیسی ریاستیں انسانیت سوز مظالم کی صورت میں ویٹو کے رضاکارانہ عدم استعمال کی پیشکش کر رہی ہیں۔
تاہم اس تمام بحث میں سب سے منطقی اور متوازن موقف پاکستان کی قیادت میں قائم Uniting for Consensus (UfC) بلاک نے پیش کیا ہے۔ UfC کا وژن سادہ لیکن انتہائی بصیرت افروز ہے۔ سلامتی کونسل میں مزید ”مستقل ارکان“ کا اضافہ مسئلہ کا حل نہیں بلکہ ایک نئی خرابی کا پیش خیمہ ہے۔ اگر پانچ مستقل ارکان پہلے ہی عالمی ادارے کو مفلوج کر چکے ہیں تو ان کی تعداد میں اضافہ مزید تعطل اور ویٹو کے ناروا استعمال کا باعث بنے گا۔غزہ کی حالیہ انسانی صورت حال اس کی روشن ترین مثال ہے۔ کس طرح ایک واحد ویٹو کے ذریعے عالمی برادری اور کونسل کے اکثریت اراکین کی منشا کو رد کر کے لاکھوں انسانوں کو بمباری کی لہروں کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر کل کو مزید ممالک کو یہ غیر جمہوری استحقاق دے دیا گیا تو عالمی امن کے فیصلوں میں متصادم مفادات کا ایسا دلدل بنے گا جس سے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔
G4 ممالک کی مستقل رکنیت کی خواہشات پر اگر معروضی نظر ڈالی جائے تو کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت جو خود کو ایک بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، کا تاریخی اور حالیہ ریکارڈ اقوامِ متحدہ کے منشور سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازع پر سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انحراف، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، آرٹیکل 370 کی منسوخی، اور 1960ءکے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں اور اقوامِ متحدہ کے فورمز کی توقیر پر اپنے یکطرفہ فیصلوں کو فوقیت دیتا ہے۔ مزید برآں ملک کے اندر ہندوتوا نظریات کا غلبہ، اقلیتوں سے نا روا سلوک، اور بین الاقوامی سرحدوں سے باہر پراکسی کارروائیوں کے الزامات ایسی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں جو ایک مستقل سلامتی کونسل کے رکن کے لیے درکار غیر جانب داری کی ضامن ہو۔اسی طرح اگر جرمنی کو مستقل نشست دی جاتی ہے تو اس سے یورپ کا کونسل میں غلبہ مزید بڑھ جائے گا (جہاں پہلے سے برطانیہ اور فرانس موجود ہیں) جبکہ سلامتی کونسل کا اصل مقصد علاقائی توازن قائم کرنا ہے۔ غزہ پر جرمنی کے یکطرفہ اور انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں سے متصادم رویے نے بھی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
اس کے برعکس، UfC کا متبادل تجویز کردہ ماڈل ایک زیادہ منصفانہ اور پائیدار حل پیش کرتا ہے۔ UfC کی تجویز کے مطابق غیر مستقل ارکان کی تعداد کو 10 سے بڑھا کر 20 کیا جائے۔ان نشستوں کی مدت کو زیادہ لچکدار اور قابلِ تجدید بنایا جائے اور ان نشستوں کو افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور دیگر کم نمائندگی والے خطوں میں منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے۔یہ ماڈل”مستقل ارکان“کا ایک نیا اور لاچار اشرافیہ طبقہ پیدا کرنے کے بجائے جمہوری انتخابات کے ذریعے ”احتساب“ کو یقینی بناتا ہے۔ جب ممالک باقاعدہ انتخاب کے ذریعے کونسل کا حصہ بنیں گے تو وہ دنیا کی وسیع تر رائے عامہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے اور ان کی کارکردگی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جا سکے گا۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کا بنیادی مقصد اس ادارے کا ”قانونی جواز“ اور”کام کرنے کی صلاحیت“ بحال کرنا ہونا چاہیے نہ کہ اقتدار کے نئے مراکز بنانا۔ دائمی اور ناقابلِ منسوخ نشستیں جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو چند طاقتور ممالک کی جاگیر بنانے کے بجائے اسے ایک ایسی مشترکہ اور جمہوری چھتری بنایا جائے جہاں ہر چھوٹے بڑے ملک کو برابری کی سطح پر سننے اور بولنے کا موقع ملے۔اگر ہم واقعی دنیا کو زیادہ پرامن اور منصفانہ بنانا چاہتے ہیں تو حل طاقت کی مزید اجارہ داری (مستقل رکنیت) میں نہیں بلکہ شمولیت، گردشی نمائندگی اور جمہوری احتساب میں پنہاں ہے اور یہی UfC کے فریم ورک کا اصل جوہر ہے۔

مزیدخبریں