پاکستان کے ہاتھوں نئے عالمی نظام کی تشکیل 

09:27 AM, 13 Aug, 2026


 پاکستان نے مسلم ممالک کے درمیان نیٹو طرز کے دفاعی تعاون کی بنیاد رکھ دی ہے۔ 7 اگست 2026ءکو وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ میں سہ فریقی مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ قصر الصفا محل میں ہونے والی تقریب میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان بھی شریک تھے۔ معاہدہ تینوں ممالک کے تاریخی تعلقات، اسلامی اخوت، مشترکہ تزویراتی مفادات اور طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کی اہم ترین شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی و ترک حکام بھی موجود تھے۔ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے معاہدے کی شقوں کو تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثل قرار دیا ہے، جس کے تحت ایک رکن پر حملہ پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان اور ترکی نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی کسی موجودہ اتحاد یا تزویراتی تعلق کا متبادل ہے۔ اس کا بنیادی مقصد اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ سادہ الفاظ میں اگر کسی ایک ملک کو بیرونی خطرے یا حملے کا سامنا ہو تو دوسرے دونوں ممالک اس کے دفاع میں ساتھ کھڑے ہوں گے۔
اس معاہدے کی اہمیت تینوں ممالک کی مختلف مگر ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتوں میں بھی پوشیدہ ہے۔ پاکستان کے پاس مضبوط اور تجربہ کار مسلح افواج، وسیع دفاعی تجربہ اور جوہری ڈیٹرنس ہے۔ سعودی عرب اپنے وسیع مالی وسائل، توانائی اور اہم جغرافیائی و سیاسی حیثیت کے باعث خطے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ترکی جدید دفاعی صنعت، ڈرون ٹیکنالوجی اور روایتی فوجی صلاحیتوں کے ساتھ نیٹو میں طویل تجربہ رکھتا ہے۔ ان صلاحیتوں کا امتزاج ایک ایسے علاقائی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد بن سکتا ہے جو تینوں ممالک میں سے کوئی ایک ملک تنہا تشکیل نہیں دے سکتا۔یہ معاہدہ اچانک وجود میں نہیں آیا۔ اس کی بنیادی اینٹ گزشتہ برس ریاض میں وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے سے رکھی گئی تھی۔ 17 ستمبر 2025ءکو ہونے والے اس معاہدے میں بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت قرار دیا گیا تھا۔ اس طرح کئی دہائیوں پر محیط پاک سعودی دفاعی تعلقات ایک منظم اور وسیع تر شراکت داری میں تبدیل ہوئے، جس میں دفاع کے ساتھ سرمایہ کاری، سیاسی روابط اور علاقائی سفارت کاری کو بھی اہمیت حاصل ہوئی۔ترکی کی شمولیت نے اس دوطرفہ تعاون کو سہ فریقی علاقائی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا راستہ کھولا ہے۔ 
وزیراعظم شہباز شریف کی خارجہ پالیسی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ پاکستان کسی ایک طاقت کے کیمپ تک محدود ہونے کے بجائے سعودی عرب، ترکی، چین، ایران اور امریکا سمیت مختلف ممالک کے ساتھ اپنے تزویراتی مفادات کے مطابق تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ یہی کثیرالجہتی سفارت کاری پاکستان کو علاقائی بحرانوں میں زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
2026ءکے ایران بحران کے دوران بھی پاکستان کو پیچیدہ سفارتی توازن کا سامنا رہا۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ اور تاریخی روابط رکھنے والا ملک ہے، جبکہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بھی پاکستان کے گہرے تعلقات ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام آباد نے کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف رہنماو¿ں سے رابطے کیے جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ اس طرزِ عمل نے پاکستان کو محض بحران سے متاثر ہونے والے ملک کے بجائے بحران کے حل میں کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر نمایاں کیا۔مئی 2025ءکے پاک بھارت فوجی بحران نے بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو نمایاں کیا۔ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی ہوئی۔ اس بحران کے دوران پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ اس کے خلاف جارحیت کی صورت میں مخالف کو فوجی اور سیاسی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ترقی دے کر فیلڈ مارشل بنایا گیا اور بعد ازاں چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔
مکہ دفاعی معاہدے کے بعد ایران کے ممکنہ ردعمل پر بھی سوال اٹھے، تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس معاہدے پر تشویش کی کوئی وجہ نہ ہونے کا مو¿قف اختیار کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر یہ شراکت داری دفاعی اور علاقائی سلامتی تک محدود رہتی ہے تو اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے علاقائی خودمختاری کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم ممالک اپنی سلامتی کے معاملات میں بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرکے ایک ایسا علاقائی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جس میں فیصلہ سازی کا اختیار زیادہ تر خود ان کے ہاتھ میں ہو؟ اگر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعاون کامیابی سے آگے بڑھتا ہے تو دیگر مسلم ممالک بھی اس ڈھانچے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مصر، قطر، کویت اور دوسرے ممالک کی شمولیت اسے وسیع تر علاقائی سلامتی کے نظام میں تبدیل کر سکتی ہے۔
مکہ معاہدے کی اصل اہمیت اسی امکان میں پوشیدہ ہے۔ یہ صرف تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ نہیں بلکہ مسلم دنیا میں اپنی سلامتی، مفادات اور مستقبل کے بارے میں زیادہ خودمختار فیصلوں کی جانب ایک اہم قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اپنی فوجی قوت، جوہری ڈیٹرنس، سعودی عرب کے ساتھ گہرے دفاعی تعلقات، ترکی کے ساتھ بڑھتے عسکری تعاون اور متوازن سفارت کاری کے باعث اس ابھرتے ہوئے نظام میں مرکزی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر یہ تعاون دانش مندی، اعتدال اور باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو پاکستان محض نئے علاقائی نظام کا حصہ نہیں ہوگا بلکہ اس کی تشکیل میں بھی ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

مزیدخبریں