سیاسی ہیجان اور لانگ مارچز

09:26 AM, 13 Aug, 2026


پاکستان کی سیاسی تاریخ سڑکوں کی سیاست، دھرنوں اور اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کے نعروں سے بھری پڑی ہے۔ جب بھی سیاسی جماعتیں ایوان کے اندر خود کو بے بس پاتی ہیں یا اقتدار کے ایوانوں پر دباو بڑھانا چاہتی ہیں، تو لانگ مارچ کو حتمی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سڑکوں کی سیاست کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سلسلہ 1992 میں بینظیر بھٹو شہید نے نواز شریف حکومت کے خلاف مارچ کی کال دے کر کیا تاہم یہ اب بھی جاری ہے۔ ماضی کے تمام لانگ مارچز اور پی ٹی آئی کی احتجاجی روش میں جو سب سے بڑا تضاد ہے، وہ ہے پارلیمانی فورم کا بائیکاٹ اور سڑکوں کی تصادم پسندانہ سیاست۔
پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی قومی و صوبائی ایوانوں میں باقاعدہ موجود ہیں، سرکاری مراعات، تنخواہیں اور پارلیمانی فنڈز وصول کر رہے ہیں، لیکن جب عوام کے حقیقی مسائل پر قانون سازی، معاشی بحران پر بحث یا آئینی و قانونی راستے سے اپنے مطالبات منوانے کی بات آتی ہے، تو اس اعلیٰ ترین آئینی فورم کو بالکل فراموش کر دیا جاتا ہے۔ ایوان کے اندر سنجیدہ اور مثبت کردار ادا کرنے کے بجائے، تمام تر توانائیاں اسلام آباد پر ’چڑھ دوڑنے‘، شاہراہوں کو بند کرنے اور ریاستی دارالحکومت کو یرغمال بنانے پر صرف ہوتی ہیں۔ دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں یہ طرزِ عمل قبول نہیں کیا جاتا کہ آپ خود پارلیمان کے اندر بیٹھ کر بھی آئینی راستوں کو رد کریں اور احتجاج کے نام پر ریاست پر حملہ آور ہوں۔
ماضی میں جب بھی دیگر جماعتوں نے لانگ مارچ کیے، ان کے پاس ایک واضح سیاسی یا آئینی مقصد تھامثلاً عدلیہ کی بحالی یا عدم اعتماد کی تحریک۔ وہ مارچ سیاسی مذاکرات، آئینی راستوں اور تصفیے پر ختم ہوئے۔ اس کے برعکس، پی ٹی آئی کا 2014 کا 126 دن کا دھرنا ہو، 2022 کے ’حقیقی آزادی مارچ‘ ہوں یا حالیہ کالز، ان میں ہمیشہ پارلیمانی یا آئینی تصفیے کے بجائے سڑکوں پر مستقل تصادم کی پالیسی نظر آئی۔ دیگر سیاسی جماعتوں نے دہائیوں میں ایک یا دو بار انتہائی مجبوری میں یہ قدم اٹھایا۔ پی ٹی آئی نے لانگ مارچ، دھرنے اور احتجاج کو ایک روزمرہ کا سیاسی عمل بنا دیا ہے۔ بار بار کی ناتجربہ کارانہ اور ادھوری کالز نے نہ صرف عام شہری کو عذاب میں مبتلا کیا بلکہ معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا، جس سے عوامی سطح پر ایک شدید سیاسی تھکاوٹ پیدا ہوئی۔ 2009 کے مارچ میں مسلم لیگ (ن) ہو یا 2019 میں جے یو آئی (ف)، ان کی قیادت ایک پیج پر تھی اور ان کا نظم و ضبط مضبوط تھا۔ پی ٹی آئی کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایک طرف سڑکوں پر پیش قدمی کا اعلان کرتی ہے اور دوسری طرف خود اندرونی دھڑے بندی، قیادت کے باہمی اختلافات اور متضاد بیانات کا شکار نظر آتی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بیانیے کی تبدیلی اور فوکل پرسنز کا ٹکراو¿ یہ ثابت کرتا ہے کہ احتجاج کی کال کے پیچھے کوئی متفقہ اور منظم حکمتِ عملی موجود ہی نہیں۔ 
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سڑکوں کا دباو صرف ایک حد تک کام کر سکتا ہے، حتمی اور پائیدار حل ہمیشہ پارلیمان کے اندر اور آئینی دائرے میں ہی نکلتا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھ کر پارلیمان کو ناکارہ بنانا اور سڑکوں پر چڑھائی کرنا کسی طور جمہوری طرزِ زندگی نہیں۔ بار بار لانگ مارچ کی ناکام کالز اور اندرونی خلفشار نے پی ٹی آئی کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اس کا تحریکی اثر و رسوخ روز بروز گھٹ رہا ہے۔ اگر تحریک انصاف نے اپنے اندرونی شیرازے کو مجتمع نہ کیا، پائیدار پارلیمانی مذاکرات کا راستہ نہ اپنایا اور تصادم کی سیاست کو ترک نہ کیا، تو یہ مسلسل احتجاجی کالز خود اسی کی سیاسی بقا اور مقبولیت کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی دھڑے انا اور سنسنی خیزی کو چھوڑ کر ملک کو معاشی و سیاسی استحکام کی طرف جانے دیں۔
پاکستان میں اب احتجاجی سیاست کی کوئی جگہ نہیں۔ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کی کال دی ہے پارٹی کے اندر اس تاریخ پر بھی یکساں رائے نہیں ۔ سہیل آفریدی نے اس کا اعلان کیا ہے مگر بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ اس طرح سلطان اکرم راجہ اور مشال یوسفزئی نے بھی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری کی ہے۔ پارٹی کے کئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے کئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ارکان پارلیمان کو بانی کی رہائی میں کوئی دلچسپی نہیںان کے مطابق اراکین پارلیمان خود تو تمام مراعات ، تنخواہیں اور فنڈز لے رہے ہیں مگر پارٹی کے بانی کی رہائی میں دلچسپی نہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی نے عمران خان کی رہائی کا معاملہ نہ کبھی پارلیمنٹ میں اٹھاہے نہ اس پر کوئی عوامی تحریک چلائی ہے۔ اس لئے بانی کی رہائی کا معاملہ لٹکا ہوا ہے پارٹی کی قیادت بھی منتشر ہے اس لئے پانی کی رہائی نظر نہیں آتی۔

مزیدخبریں