صحافی کا بنیادی اور اہم ترین فرض ظلم، ناانصافی اور حق تلفی کے خلاف آواز بلند کرناہوتاہے، سچی اور بے باک صحافت معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے اور کمزوروں کی آواز بننے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے،صحافت کے اہم فرائض سچائی کا بیان، حالات کا درست اور سچا رخ عوام کے سامنے لانا اورآواز بننا،مظلوم اور بے آواز لوگوں کی تکلیفوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا ہوتا ہے ،طاقتور اور ذمہ دار اداروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا بھی صحافتی امورمیں شامل ہے اور معاشرتی اصلاح برائیوں کو ختم کرنے کے لیے فکری اور عملی بیداری پیدا کرنا ہوتا ہے ایک سچا صحافی دبا¶ یا خوف کی پروا کیے بغیر ہمیشہ حق کا ساتھ دیتا ہے یہی کام محسن رضا نقوی نے کیا جو بنیادی طور پر ایک صحافی ہی ہیں جنہوں نے سچ کا علم بلند کر کے سومنات کے مندر ہلا دیئے جس میں کہا گیا کہ نظام تباہ ہو چکا،اگر وہ چل رہا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے 80 سال سے جو یہ نظام ہے وہ تباہ ہے،کہا جاتا ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے محسن نقوی نے کڑوا سچ بول کر آتے جاتے حکمرانوں کو آئینہ دکھا دیااور آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتاکیا یہ سچ نہیں کہ آج سرکاری ادارے کرپشن کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں کیا یہ سچ نہیں کہ ہرادارہ خسارہ دکھا رہا ہے اور اس کے کرتا دھرتا کرپشن کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں کیا یہ سچ نہیں انصاف بکتا ہے عدالتوں میں انصاف برائے فروخت کا بورڈ آویزاں ہے کیا یہ سچ نہیں کہ پولیس میں ہر دوسرا بندہ کروڑوں کی کرپشن میں ملوث ہے تھانے بکتے ہیں جن کی باقائدہ بولیاں لگتی ہیں ڈی سی اور کمشنر کےلئے الگ ریٹ
ہیں جو جتنا گڑ ڈالے گا اتنا ہی میٹھے کا مزہ زیادہ لے گاکیا یہ سچ نہیں کہ معمولی پٹواری کا اس کا پرائیویٹ منشی بھی لاکھوں میں کھیلتا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ ترقیاتی کاموں میں بھی کمیشن کے نام پر لوٹ مار کی جاتی ہے کیا یہ سچ نہیں کہ ہم سب کرپشن کے رنگ میں رنگے ہیں جس کا ہاتھ نہیں پہنچتا وہ شریف ہے اور جس کاجتنا ہاتھ پہنچتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ ”ٹوکا“ چلاتا ہے نیب کرپشن ختم کرنے کےلئے بنایا گیاوہ بھی سالہاسال کیسز کو عدالتوں میں گھسیٹاہے پھر پتہ چلتا اربوں روپے ڈکارنے والا ملزم باعزت بری ہو گیاانٹی کرپشن کو ہی لے لیں وہ کیا تیر مار رہا ہے ایسے ہی کئی محکمے اٹھا لیں کرپشن کے رنگ میں رنگے ہیں تو پھر اگر محسن نقوی نے سچ بول دیا ہے تو اس میں کون سی بری بات ہے سچ تو ہے بھی یہ کہ جو حکومت آئی کھا پی کے چلتی بنی پھر بھیس بدل کر نئے انداز میں وارد ہوئی نئے نعروں کے ساتھ عوام کو بے وقوف بنانے کےلئے؟یہی سچ ہیں کہ ہم سب کرپٹ ہیں چور اچکے ہیں اس کے باوجودہم دین کے ٹھیکیدار بھی بنے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ صرف میںہی سچا مسلمان ہوں قارئین آج حضرت عمر فاروقؓ کی 43 اصلاحات کتابوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں جو ہمارے لئے مشعل راہ ہےں حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اس سے پہلے کہ اللہ کریم کے سامنے تمہارا محاسبہ کیا جائے تم اپنا خود احتساب کر لو۔وہ حضرت عمر بن خطابؓ جوبائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرتے تھے ایک بار کہیں جا رہے تھے توکوڑے کے ڈھیر کے قریب رک گئے ساتھ چلنے والوں نے اذیت محسوس کی تو فرمایا کہ یہ ہے تمہاری دنیا جس کے پیچھے تم رات دن دوڑتے ہو نہ ملے توتم روتے ہو۔ انہوں نے دنیا کے ساز وسامان عیش و عشرت کوکوڑے کے ڈھیر سے تشبیہ دی جس کےلئے آج قومی وصوبائی اسمبلی کے ٹکٹ خریدے جاتے ہیں سینٹ کےلئے بولیاں لگتی ہیں اسی دنیا کےلئے ایوان کا ایوان خرید لیا جاتا ہے جبکہ اس کی حیثیت مچھر کے پر سے بھی زیادہ نہیں ایک بار حضرت عمر فاروق جمعہ کی نماز کےلئے لیٹ ہو گئے جب پہنچے تو کہا کہ میرے پاس ایک ہی قمیص تھی جسے دھو رہا تھا اس لئے لیٹ ہوا ہوں آج کے حکمران اپنے گریبان میں جھانکیں کہ غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں اور حضرت عمر فاروق ؓ کی مثالیں دیتے ہیں کیاوہ ان کے احکامات پر عمل بھی کرتے ہیں آج کے حکمرانوں نے تو قوم کو اربوں روپے کے گردشی قرضوں تلے دبا دیا ہے صحت تعلیم کے نام پر قرضے ہڑپ کےے گئے نہ صحت ملی اور نہ ہی تعلیم؟توشہ خانہ کے نام پر ملنے والے تحائف بیچ دئےے جاتے ہیں اپنی بیویوں کوخاتون اول کا ٹائٹل دیا جاتا ہے حکمرانوں نے اربوں کے قرضے لئے جو آج تک واپس نہ کے بلکہ معاف کروا لئے گئے جبکہ جناب عمرؓ نے اپنی بیویوں کو خلافت سے دور رکھا کہا جاتا ہے کہ جناب عاصم بن عمر ؓکو کسی نے تحفہ دیااور فرمایا اسے بیت المال میں جمع کرادو آج حکمرانوں کا حال یہ ہے کہ وہ عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے ہیں اور رعایا دووقت کی روٹی کی محتاج ہے مختلف ٹیکسز کے نام پر لوٹ مار کی جارہی ہے بجلی بل گیس کے بلوں کی بھرمارہے کوئی اس طرف دھیان نہیں دیتاکہ عوام کس حال میں جی رہے ہیں اور وہ وقت دورنہیں کہ جب عوام کا ہاتھ اور سیاستدانوں کا گریبان ہو گا اوروہ وقت دور نہیں؟ اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے توبہ تائب کرلو ؟؟؟
ظالمومحسن نقوی آ رہا۔۔۔!!!
09:25 AM, 13 Aug, 2026