پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف لڑائی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک نیا انٹیلیجنس سینٹر قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے ایک جدید اور مربوط نظام فراہم کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، علی امین خان گنڈاپور نے محکمہ داخلہ کا دورہ کرتے ہوئے "پراونشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسسمنٹ سینٹر" (پفٹیک) کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو سینٹر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے پر 210 ملین روپے کی لاگت آئی ہے اور اسے صرف دو ماہ میں مکمل کیا گیا۔ خیبرپختونخوا، پیفٹیک سینٹر قائم کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یہ مرکز ایک ڈیجیٹل اور انٹیگریٹڈ سسٹم ہے جو ملک بھر میں انٹیلیجنس شیئرنگ اور تھریٹ اسیسمنٹ کا عمل تیز اور مؤثر بنائے گا۔ اس نظام کے تحت وفاقی حکومت اور صوبوں کو آپس میں مربوط کیا جائے گا تاکہ دہشتگردی کے خلاف بہتر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ دہشتگردی کے خلاف لڑائی ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے جس میں حکومت، عوام اور اداروں کو یکجا ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پفٹیک دہشتگردی کے تدارک کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کرے گا اور بروقت انٹیلیجنس شیئرنگ کے ذریعے دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔
مزید یہ کہ صوبے کے 36 اضلاع کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں پیفٹیک سے براہ راست جڑیں گی، جس سے رئیل ٹائم انٹیلیجنس شیئرنگ ممکن ہو گی اور دہشتگردی کی سرگرمیوں کے خلاف فوری اقدامات کیے جا سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس مرکز کو خیبرپختونخوا کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جدید نظام کے ذریعے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔