میرے نام کا ایک خط ہر ماہ شگر کے ڈاکخانے سے پوسٹ ہوتا تھا۔ سندیسہ اس مہارت سے لکھا جاتا کہ بائیسویں خط کے بعد بھی مجھے اندازہ نہ ہوا کہ لکھنے والا کون ہے؟ میلے اور بھیگے ہوئے پیلے کاغذ پر بکھر چکے لفظوں میں سے جذبات جھانکتے تھے اور کوئی مدعا نہیں ہوتا تھا۔ ہم جب سات برس پہلے دیوسائی ٹریک کیلئے سکردو گئے تو شگر ہمارے لیے اجنبی تھا۔ اس سفر کو جب داستان دیوسائی کا نام دے کر مجسم کیا تو تب سے وہ کتاب شگر کے مضافات میں پہنچی اور کہانی میں نئے کردار جھانکنے لگے۔ کتاب کے آخری صفحے پر مصنف کا پتہ درج تھا اور پھر وہی پتہ زندہ ہو کر سانس لینے لگا۔ کسی اجنبی کی طرف سے ملنے والے بارہویں سندیسے میں لکھا تھا کہ برالڈو کے جذبات منجمد ہو چکے ہیں، آبشاروں سے پانی نہیں گرتا، برف کی سفید لکیریں ساکت ہو کر ٹھہری ہوئی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ تم برفوں کے پگھلنے کے بعد سورج کی حدت سے ڈر کر ادھر آؤ تو اس بار ہمارے گاؤں بھی آنا کہ وہاں کوئی نہیں آتا، جو آتا ہے وہ زندگی اور موت کی شرط پر کنکورڈیا کی طرف نکل جاتا ہے۔ تم آؤ تو دیکھنا ہم اظہار کو ترسے ہوئے گونگے اور بہرے ہیں جن کے لیے ہم صرف سیڑھی ہیں، منزل نہیں۔ اس نے پھر ایک اور ادھورے خط میں لکھا تھا کہ تم پھولوں بھرے بلند میدانوں پر سجی سجائی شیوسر جھیل کی بارگاہ میں لفظ نچھاور کرتے ہو مگر طویل برفانی راہوں پر منتظر آنکھوں کو فراموش کر دیتے ہو، اب کی بار بلتستان آؤ تو ہماری کہانی بھی لکھنا جس کے سبھی کردار داسو اور تھنگل کی ندیوں سے ہوتے ہوئے خوبانی اور سیبوں کو فطری ذائقہ فراہم کرتے ہیں اور خود ان کی دعائیں مقام قبولیت پر پہنچنے سے پہلے اپنے مفاہیم کھو دیتی ہیں۔ ایک اجنبی خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ تم وہی کچھ لکھتے ہو جسے اکثریت پڑھنا چاہتی ہے، ان کے لیے نہیں لکھتے ہو جو خط لکھ کر پوسٹ کرنے کے لیے بھی دو دن کا سفر طے کرتے ہیں۔۔ دریا عبور کرتے ہیں۔۔ بہانے تراشتے ہیں۔ ہر خط کے لفافے پر پوسٹ آفس شگر کی مہر اور اس کے درمیان درج تاریخ میرے لیے ایک بھید تھا اور خط لکھنے والے کا نام اور مقصد ایک راز، میرے پاس جواب بھیجنے کے لیے کوئی ایڈریس نہ تھا جیسے خط لکھنے والا میری طرف سے کسی جواب کا منتظر ہی نہ ہو۔ ستمبر کے اوائل میں مجھے اس کا آخری خط ملا جس کے لفظوں میں ضعیف ہو چکے عقیدوں کی طرح امید اور حوصلے کا فقدان تھا۔ اس نے لکھا کہ اب برف نے راستوں کے ساتھ میری رگوں میں دوڑتا لہو بھی منجمد کر دیا ہے، خط لکھنا اور پھر دریائے برالڈو کے تین پل عبور کر کے ڈاکخانے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔ برفوں کے پگھل جانے کے بعد اگر خواہشات زندہ رہیں تو خط پوسٹ ہو پائے گا۔ آپ کبھی اسکولے یا کنکورڈیا کے لیے نکلیں تو شگر اور حیدر آباد کے بعد داسو کے گاؤں تک چلے آنا۔ ہم بنیادی تعلیم کو ترسے ہوئے لوگ کالج میں پڑھنے کی حسرت کو احساس کمتری میں ڈھالے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں۔ تم لوگ جس جہاں میں فرحت و خوشی تلاش کرنے چلے آتے ہو، ہم وہاں محرومی کی بلندیوں پر محبت کی آکسیجن کو ترستے ہیں۔ پھر اکتوبر سے جون تک مجھے کوئی خط نہ ملا۔ میں چاہنے کے باوجود بھی جوابی خط نہ بھیج سکا۔ وٹس ایپ اور سوشل سکرین کے دور میں شگر کے ڈاکخانے سے پوسٹ ہونے والے خط سچائی سے بھرپور تھے اس لیے میری ان فائلوں میں سج گئے جن میں شمال کے سفر کی تفصیل، ہوٹلوں کی رسیدیں، نایاب نقشے اور کچھ ٹکٹیں محفوظ تھیں، جس فائل سے دیوسائی، راما، فیری میڈوز، پھنڈر اور شیندور کا عکس جھانکتا تھا، ان فائلوں میں بائیس خط اپنے یک طرفہ اظہاریے کے ساتھ رکھ دئیے گئے اور داسو کے گاؤں تک جانے کا فیصلہ اس آخری خط کو پڑھتے ہی کر لیا گیا۔ مڈل اور میٹرک کے بعد تعلیم جیسی بنیادی سہولت کا حصول ان کے لیے ممکن تھا جو سکردو یا شگر میں رہائش رکھنے کا مالی حوصلہ رکھتے تھے ورنہ از خود تیاری کے بعد امتحانات سکردو میں دینے کے لیے اخراجات برداشت کرنا سب کے لیے ممکن نہ تھا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بننے والی چوٹی کے ٹو اپنے سائے تلے صرف محرومیاں پالتی تھی۔ شگر کے زہر موہرا کے پہاڑوں سے محرومیوں کا مداوا ممکن نہ تھا۔ ان بائیس خطوط سے بہت سے جذبات اور احساسات نمودار ہوتے تھے جن پر بے حسی کی برفوں کا گلیشئر پھیلا تھا اور وہ اپنے اظہار تک نہ آ سکے تھے۔ میں نے داسو جانے کا فیصلہ اسی شام کر لیا تھا جس شام اس نے اپنے گیارہویں خط میں یہ جملہ لکھا تھا پریشان حال اور تہی دامن لوگوں کی محبت ویرانے میں کھلے ہوئے پھول کی طرح یک طرفہ ہوتی ہے۔
بھیگا ہوا خط
09:11 AM, 12 Aug, 2025