مودی سرکار کی الٹی گنتی

09:11 AM, 12 Aug, 2025

بھارت میں جمہوریت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں ایک بڑے سیاسی طوفان نے جنم لیا ہے جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کو ووٹوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک منظم اور مجرمانہ دھوکہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے انتخابی عمل کو اس قدر مسخ کر دیا کہ ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا دعویٰ ہی مشکوک ہو گیا ہے۔ اس انکشاف کا مرکز کرناٹک کا حلقہ اسمبلی مہا دیوا پورہ ہے جو بنگلور سنٹرل لوک سبھا سیٹ کا حصہ ہے۔ یہاں بی جے پی محض 32 ہزار 707 ووٹوں سے جیتی، لیکن راہول گاندھی کا دعویٰ ہے کہ ایک لاکھ سے زائد ووٹ جعلی یا چھیڑ چھاڑ شدہ تھے۔ حالانکہ کانگریس نے اس لوک سبھا نشست کے 8 میں سے 7 اسمبلی حلقوں میں فتح حاصل کی تھی، مگر حتمی نتیجہ کچھ اس طرح الٹ پلٹ کر دیا گیا جیسے عوامی مینڈیٹ کی کوئی وقعت نہ ہو۔ راہول گاندھی کے مطابق ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد نریندر مودی کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے، عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے اور اب بھارتی سکیورٹی ادارے مبینہ طور پر جعلی ووٹوں اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے مودی کو اقتدار میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے بہار انتخابات میں بھی یہی فارمولا استعمال ہونے کا خدشہ ہے جس میں ریاستی مشینری کا غلط استعمال، اپوزیشن جماعتوں پر ٹارگٹڈ کریک ڈاؤن اور ووٹر لسٹوں میں رد و بدل شامل ہے۔ یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بھارت میں جمہوریت حقیقی عوامی حمایت کھو چکی ہے اور اداروں، عدلیہ اور میڈیا کو ہتھیار بنا کر اختلاف رائے کو دبانے اور انتخابی عمل کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس کے مطابق اس دھاندلی کے پانچ بڑے حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ ڈپلیکیٹ ووٹر انٹریز جن کی تعداد تقریباً 11 ہزار 965 ہے۔ ایک ہی شخص مختلف پولنگ بوتھ اور یہاں تک کہ مختلف ریاستوں جیسے مہاراشٹر اور اتر پردیش میں بھی رجسٹرڈ پایا گیا، کچھ نام صرف مہا دیوا پورہ میں ہی چار مرتبہ درج تھے۔ دوسرا، جعلی یا فرضی پتے جن کی تعداد 40 ہزار سے زائد ہے۔ ایسے پتے ’’0‘‘ لکھے گئے یا بے معنی الفاظ سے بھرے گئے تاکہ ووٹر کی شناخت کا پتہ نہ چل سکے۔ تیسرا، ایک ہی پتے پر درجنوں یا سیکڑوں ووٹرز کا اندراج جیسے ایک کمرے کے مکان میں 80 ووٹر یا ایک بریوری جیسے کمرشل مقام پر 68 ووٹرز۔ چوتھا، ووٹر آئی ڈی کارڈ پر تصویر کی چھیڑ چھاڑ یا عدم موجودگی جن کی تعداد 4 ہزار سے زائد ہے، تاکہ بوتھ پر تصدیق ممکن نہ ہو۔ پانچواں، فارم 6 کا غلط استعمال، جو نوجوان ووٹرز کے لیے مخصوص ہے، لیکن اسے 60 سے 90 سال عمر کے افراد کے اندراج کے لیے استعمال کیا گیا، اور بعض نے دو مختلف بوتھ پر ووٹ بھی ڈالے۔ یہ سب انتظامی غفلت نہیں بلکہ دانستہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ہیرا پھیری تھی جس کی مودی سرکار ماہر ہے۔ راہول گاندھی نے مودی سرکار کو مزید بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن محض لاپروا نہیں بلکہ اس دھاندلی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ای سی نے ڈیجیٹل ووٹر لسٹیں تباہ یا چھپا دیں، پولنگ سٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے سے انکار کیا اور الیکٹرانک ریکارڈز تک رسائی روک دی۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بھی اس دھاندلی کی تصدیق کرتے ہوئے انتخابی کمیشن پر ادارہ جاتی غداری کا الزام لگایا۔ بی جے پی اور ای سی کا ردعمل ہمیشہ کی طرح دھمکی، انکار اور توجہ ہٹانے کی حکمت عملی پر مبنی تھا۔ ای سی نے راہول گاندھی کو قانونی طور پر چیلنج دیا کہ وہ حلف کے تحت نام لیں، تا کہ ان پر نیا قانونی دباؤ ڈالا جا سکے، جبکہ بی جے پی رہنماؤں نے شواہد کو ’’سیاسی ڈرامہ‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا۔ یہ معاملہ صرف ایک حلقے تک محدود نہیں بلکہ پورے بھارت میں ایک طرزِ عمل کے طور پر دہرایا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر میں انتخابی نتائج پولنگ رجحانات سے میل نہیں کھاتے، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں شہری و دیہی نتائج میں غیر فطری ہیر پھیر دیکھنے کو ملی، اور اتر پردیش و گجرات میں ووٹرز کی تعداد اچانک بڑھ گئی جبکہ مردم شماری کے اعداد و شمار میں اس کا کوئی جواز نہیں۔ راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ بھارت کا انتخابی نظام اب جمہوری نہیں رہا بلکہ اسے پروگرام اور منیپولیٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سب اس جمہوری چہرے کے پیچھے کا تاریک منظرنامہ ہے جسے دنیا ’’ابھرتی ہوئی جمہوریت‘‘ کے طور پر دیکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کی فتوحات عوامی مینڈیٹ سے زیادہ اعداد و شمار کی ہیرا پھیری کا نتیجہ ہیں، الیکشن کمیشن آزادی کھو کر حکومتی آلہ کار بن چکا ہے، اور اپوزیشن کو منظم منصوبہ بندی کے تحت ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف بھارت کا داخلی بحران نہیں بلکہ ایک عالمی جمہوری ایمرجنسی ہے، کیونکہ دنیا کی چھٹی آبادی کا ووٹ کا حق داؤ پر لگا ہے۔ اگر دنیا نے اس خاموش بغاوت کو نظر انداز کیا تو وہ خود اس جرم میں شریک ہو گی۔ راہول گاندھی کے پاس محض الزامات نہیں بلکہ فرانزک شواہد موجود ہیں۔ اگر بھارت نے اپنی جمہوریت واپس حاصل کرنی ہے تو یہ لمحہ ایک بڑے احتساب کا آغاز ہونا چاہیے۔ عدلیہ کو تحقیقات کرنا ہوں گی، سول سوسائٹی کو متحرک ہونا پڑے گا اور عالمی برادری کو یہ سوال کرنا ہو گا کہ جب انتخابات پہلے سے طے شدہ ہوں، ادارے قابو میں ہوں اور اپوزیشن کو مجرم بنا دیا جائے تو کیا اسے اب بھی جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟ بصورت دیگر، بھارت کا اگلا الیکشن جمہوریت نہیں بلکہ آمریت کے دوام کی ایک رسمی کارروائی ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ سچ سامنے آئے اور عوام کو ان کا حق واپس ملے، ورنہ ووٹ کی طاقت ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔۔۔ اور یقینی طور پر مودی سرکار کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔

مزیدخبریں