14 اگست کو احتجاج سازش ہو گا

09:11 AM, 12 Aug, 2025

تخلیق پاکستان سے پہلے ہندوستان کا ایک مسلم نواب سیر و تفریح کی غرض سے ترکیہ چلا گیا۔ اُن دنوں ترکیہ میں اتا ترک کا دور تھا اور ترکیہ قوم آزادی کے مزے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ نواب صاحب نے اپنے نوابانہ ٹھاٹھ کے مطابق ایک مہنگے ہوٹل میں کمرہ لیا اور رہنا شرو ع کر دیا۔ ایک دن نواب صاحب اپنے ہوٹل سے نکل کر ترکیہ کی سڑک پر آئے تو ترکیہ کے ایک بھکاری نے نواب صاحب سے بھیک کا سوال کیا۔ نواب صاحب نے اپنی جیب سے سکہ رائج الوقت مبلغ دس روپے نکال کر بھکاری کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ بھکاری کو بڑی حیرت ہوئی کہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے اتنی زیادہ خیرات دے دی۔ اُس نے نواب سے پوچھا: جناب آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ آپ کا تعلق کس مٹی سے ہے؟ آپ کون سے خطے کے باسی ہیں؟ نواب نے اپنی مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے کہا: ’’ میں ہندوستان سے آیا ہوں۔‘‘ یہ بات سنتے ہی بھکاری کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اُس نے وہ روپے نواب کے منہ پر دے مارے اور کہا: ’’کسی آزاد قوم کے بھکاری کو بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی غلام قوم کے نواب سے بھیک لے‘‘۔ یہ ہے وہ آزادی جس پر غلام قوموں کے نوابوں کو آزاد قوم کے بھکاریوں کے ہاتھوں ذلت اٹھانا پڑ جاتی ہے اور یہی وہ آزادی تھی جس پر ترکیہ کے بھکاری نے ناز کیا تھا۔
14 اگست 1947ئ، تخلیق پاکستان کا دن جب 1857ء میں شروع ہونے والی آزادی کی جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور پاکستان دنیا کے نقشہ ایک اسلامی ریاست بن کر ابھرا۔ 90 سال کی یہ داستان اپنے عروج و زوال کی منازل طے کرتی ہوئی آخر کار ایک عظیم اسلامی ریاست بن کر دنیا کے نقشہ پر ابھری۔ درد کے انگنت افسانے اس کی بنیادوں میں دفن ہوئے تب کہیں جا کر وہ صبح نور میسر آئی جس کا خواب امرتسر سٹیشن پر پڑی ادھ کھلی آنکھوں نے دیکھا تھا۔ چاندنی سے زیادہ پاک اور غلاف ِ کعبہ سے مقدس آنچل تار تار ہوئے، قتل و بربریت کی خون آشام دیویوں نے کھلے عام کوچہ و بازار میں رقص کیا۔ انسانوں نے انسانوں کے ساتھ غیر انسانی رویہ کی وہ مثال قائم کی کہ آج بھی اُس درد کی ٹیسیں دو جانب محسوس کی جاتی ہیں۔ یہاں پہنچتے ہوئے 78 سال کے اس طویل سفر میں ہم نے پانچ جنگیں دیکھیں، پاکستان کو بنتے بگڑتے اور ٹوٹتے دیکھا، پاکستان پر چار بد ترین مارشل لا دیکھے، وزراء اعظم کی شہادتیں دیکھیں، دہشت گردی کیخلاف کوچہ و بازار میں بکھرے عام شہریوں کے لاشے دیکھے جن میں عورتیں، بچے، بوڑھے جوان سبھی تھے۔ ہمارے فوجیوں کے جوان جسموں پر بہنوں، مائوں اور بیٹیوں نے بین کیے۔ پاکستان کے جغرافیے کی حفاظت کیلئے ہمیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ پاکستان کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جو پاکستانیوں کی تھی ہی نہیں۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ پاکستان تخلیق ہونے سے لے کر آج تک پاکستان کے کسی منتخب وزیر اعظم نے اپنا دورانیہ مکمل نہیں کیا۔ کبھی آئین بنتے اور ٹوٹتے تھے تو گلہ تھا کہ ہمارا متفقہ آئین نہیں ہے۔ اب متفقہ آئین ہے تو روزانہ اُس کی پامالی ہوتی ہے۔ اس متفقہ آئین کے مزار پر بھی دو فوجی آمر اپنے چراغ روشن کر چکے ہیں۔ متفقہ آئین کے بعد بھی ہماری اسمبلیاں بچپن کی دوستی کی طرح بنتی اور ٹوٹتی رہیں۔ کبھی مہاجروں کا مسئلہ تھا اور پھر ہم نے مہاجروں کو مسئلہ بنتے دیکھا، کبھی مطالعہ پاکستان میں، پاکستان کے ابتدائی مسائل پڑھے تھے پھر انتہائی مسائل بھی دیکھے، پاکستان بنا تو خزانے کا مسئلہ تھا لیکن اب کتنی بار خزانہ لا ولد کا خزانہ سمجھ کر لوٹا گیا ہے کوئی گنتی ہی نہیں۔ کبھی ہمارے حصے میں بیوروکریسی نہ آنے کا مسئلہ تھا اور اب بیوروکریسی نے خزانہ پرتگال منتقل کر دیا ہے اور یہ میں نہیں وزیر دفاع خواجہ آصف کہتا ہے۔ مشرقی پاکستان 1971ء میں بنگلہ دیش بنا لیکن اُس کی بنیاد 1954ء کے صوبائی انتخابات میں ’’جگتو فرنٹ‘‘ بنا کر رکھ دی گئی تھی اور بدقسمتی یہ بھی تھی کہ ’’جگتو فرنٹ‘‘ بنانے والے چار اشخاص میں سے تین قائد اعظم کے قریبی ساتھ حسین شہید سہروردی وزیر اعظم پاکستان، شیر بنگال مولانا فضل الحق، جنہوں نے قرارداد لاہور پیش کی اور ایم ایس ایف مشرقی پاکستان کے صدر مجیب الرحمان شامل تھے جبکہ چوتھے اتحادی سوشلسٹ مولانا بھاشانی تھے۔ پاکستان کے ابتدائی سال میں قائد کے سپاہیوں اور اقبال کے شاہینوں نے اس ریاست میں بسنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جو ایک فاتح سپاہ مفتوح کے ساتھ کرتی ہے جس کا فائدہ آرمی چیف جنرل ایوب خان نے اٹھایا اور پاکستان کے عوام بھی اُس لوٹ مار سے اتنے تنگ تھے کہ جمہوری طریقے سے بنے وطن پاکستان پر انہیں ایوب خان جیسا بے رحم انسان بھی رحمت ِ باری تعالیٰ ہی محسوس ہوا۔
5 اگست کے ناکام ترین احتجاج کے بعد مسٹر عمران احمد خان نیازی نے ایک بار پھر ریاست پاکستان کو چیلنج کرتے ہوئے تخلیق پاکستان کے دن کو ’’یوم احتجاج‘‘ کے طور پر منانا شروع کر دیا ہے۔ گو کہ پاکستان کے حوالے سے ناپسندیدہ بیانات کا سلسلہ عمران نیازی سے شروع نہیں ہوتا لیکن عمران نیازی وہ پہلا شخص ضرور ہے جس نے طالبان کے بعد پہلی بار پاکستان کے اداروں کو چیلنج کیا اور اُن پر حملے بھی کیے۔ عمران نیازی بارہا اپنے آپ کو مجیب الرحمان سے تشبیہ دے چکا ہے لیکن یہ نہ تو 1971ء کا شکست خوردہ پاکستان ہے اور نہ ہی وہ فوج جس کے درمیان ایک ہزار میل کا سمندر تھا۔ ابھی تک عالمی معروض بھی عمران نیازی کی حمایت میں نہیں، سو ان حالات میں کوئی ایسی کاوش کرنا سوائے لاشیں وصول کرنے کے اور کچھ نہیں۔ یہی منصوبہ 9 مئی کو بھی تھا لیکن افواج پاکستان نے اپنی ذہانت سے اِسے بچا لیا۔ اگست کا مہینہ جاری ہے اور دو دن بعد پھر تخلیق پاکستان کا دن ہے۔ ایک ایسا دن جس دن ہمیں تجدید عہد کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں موجود انتشاری ٹولہ اس کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے ہر وہ جتن کر رہا ہے جو اُس کے بس میں ہے۔ ہمیں یہ یقین کرنا پڑے گا کہ اس وقت پاکستان رکھوالوں اور دہشت گردوں میں واضح تقسیم ہو چکا ہے گو دہشت گرد تعداد میں کم ہیں لیکن دہشت گردی ہمیشہ ہوتی ہی کم تعداد اور کمزور بیانیے کے ساتھ ہے۔ ہمیں ان حالات میں پاکستان پر منڈلانے والی دہشت گرد گدِھوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنا ہو گا۔

مزیدخبریں