نئی دہلی: اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکراتی دور اور پاکستان کے بطور 'ثالث' ابھرنے پر بھارت کے سیاسی ایوانوں میں آگ لگ گئی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس نے نریندر مودی پر زوردار تنقید کرتے ہوئے اسے بھارت کی عالمی تنہائی قرار دیا ہے۔
کانگریس کے سینئر رہنما نے دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان عالمی امن کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان پل بن رہا تھا، تو مودی کی "نمستے ٹرمپ" ڈپلومیسی کہاں چھپی ہوئی تھی؟۔بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ مودی کی جانب سے ٹرمپ کے لیے کی گئی تشہیری مہمات کے باوجود، وائٹ ہاؤس نے اہم تزویراتی مذاکرات کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا، جو مودی سرکار کے منہ پر طمانچہ ہے۔
ماہرینِ خارجہ امور کا ماننا ہے کہ پاکستان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی معاونت سے جس طرح ایران اور امریکہ کو جنگ بندی پر آمادہ کیا، اس نے بھارت کے "پاکستان مخالف" پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر ناکام بنا دیا ہے۔ مودی حکومت کو اس وقت بھارتی میڈیا اور عوامی حلقوں میں سخت ہزیمت کا سامنا ہے کہ وہ اس اہم علاقائی پیشرفت میں تماشائی کیوں بنے رہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں امن کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر گزرتا ہے، جس پر بھارت میں شدید سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔
پاک،امریکہ ایران سفارت کاری: مودی سرکار کے لیے ڈراونا خواب، بھارت میں اپوزیشن کا مودی کی خارجہ پالیسی پر دھاوا
12:56 PM, 12 Apr, 2026