اسلام آباد: پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی امریکہ-ایران مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اعلان کیا ہے کہ فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے بعد امریکی وفد اسلام آباد سے روانہ ہو گیا ہے۔
فریقین کے درمیان 21 گھنٹے تک اعصاب شکن گفتگو جاری رہی، جس میں کئی بار تعطل آیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق، ایرانی وفد نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ کڑی شرائط کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا: "ہم نے ایک منصفانہ اور حتمی آفر دے دی ہے، اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے ہ وہ امن کا راستہ چنتا ہے یا تعطل کا۔ پاکستان نے ان مذاکرات کے لیے سخت سکیورٹی اور سفارتی سہولیات فراہم کیں، تاہم فریقین کے درمیان گہرے اختلافات مذاکرات کی ناکامی کی وجہ بنے۔
امریکی وفد کی واپسی کے بعد اب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر ایران کے ممکنہ جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ جے ڈی وینس کا یہ دورہ اگرچہ کسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکا، لیکن اس نے اسلام آباد کو ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر ابھارا ہے۔
اسلام آباد میں 21 گھنٹے کا مذاکراتی مشن کسی ڈیل کے بغیر ختم
09:31 AM, 12 Apr, 2026