ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری جنگ وقتی طور پر ہی سہی لیکن تھم تو گئی ہے، لیکن خطرات بدستور اس لیے قائم ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران جارحانہ بیانات دینے سے باز نہیں آ رہے ۔ لیکن چونکہ پاکستان کی دانشمند قیادت مفاہمت کے عمل کا حصہ ہے اس لیے امید بھی قائم ہے۔اس امیدکی وجہ یہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کے دوران کسی بھی لمحے پاکستان ایک خاموش تماشائی نہیں رہا بلکہ ایک فعال ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ چونکہ اب یہ کوششیں رنگ لاتی نظر آرہی ہیں لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ یہ نیک نیتی مستقبل میں پاکستان کے لیے بھی بڑے فائدوں کے دروازے کھول دے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ نے عالمی سیاست کا ایک نیا نقشہ بھی بنانا شروع کر دیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس تمام صورتحال میں تنہائی کا شکار ہوتے ہوئے نظر آئے، نیٹو کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا، روس ،شمالی کوریا اور بعض یورپی ممالک نے اپنی ترجیحات واضح کیں اور خلیج میں تیل کی ترسیل کا سب سے اہم راستہ، آبنائے ہرمز، اس جنگ کا مرکز بن گیا۔ ایران نے اس راستے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس کی وجہ سے عالمی معیشت دبا¶ میں آ گئی اور دنیا کو اندازہ ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کتنا ضروری ہے۔
یہ کالم تحریر کیے جانے کے وقت تک کی صورتحال یہ تھی کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچنا شروع ہو چکے تھے اس کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا بھی بڑی تعداد میں موجود ہے اور دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ عالمی طاقتیں پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے ثالثی کا کردار دے رہی ہیںیقینا یہی وہ لمحہ ہے جو پاکستان کی ساکھ کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔
اس جنگ کی اب تک کی صورتحال سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ آج کے دور میں کوئی اپنی طاقت اور تکنیکی مہارت کی برتری کی بنیاد پر جتنی مرضی ہٹ دھر می کا مظاہرہ کر لے آخر کار اسے مذاکرات کی میز پر ہی آنا پڑتا ہے۔ اس کا مطلب واضح ہے کہ دنیا میں اب طاقت کے ساتھ ساتھ سفارتکاری کو بھی اہمیت دینا ہو گی، اور بلاشبہ اس وقت پاکستان اس سفارتکاری کا مرکزی کردار بنا ہوا ہے۔ شائد یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ کامیابی کی طرف نہیں جاتا۔ طاقت کے استعمال سے وقتی فائدہ تو حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر مستقل امن نہیں لایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حالات حد سے زیادہ خراب ہونے لگے اور عالمی دبا¶ بڑھا، تو واشنگٹن کو مذاکرات کی طرف آناہی پڑا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جنگ میں دونوں ہی فریق خود کو فاتح قرار دے رہے ہیں، مگرشائد انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اصل فاتح تو وہ ہے کہ جس نے جہازوں کی بمباری، میزائلوں کے حملے اور انسانی جانوں کا ضیاع روک دیا۔
اگر دانشمندی کا سلسلہ برقرار رہے تویہ صورتحال پاکستان کے لیے اقتصادی لحاظ سے ایک سنہری موقع بن سکتی ہے۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جب کوئی ملک عالمی بحران میں مثبت کردار ادا کرتا ہے تو عالمی ادارے اور طاقتیں اس کے ساتھ معاشی تعاون بڑھاتی ہیں۔ قرضوں میں نرمی، نئی سرمایہ کاری، اور تجارتی معاہدے ایسے ہی مواقع پر جنم لیتے ہیں۔ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کو ایک نئی پہچان مل رہی ہے۔ یورپ، ایشیا اور دیگر ممالک نے اس بات کا خیر مقدم کیا ہے کہ پاکستان امن کے لیے نتیجہ خیز کوششیں کر رہا ہے اور انہی کوششوں کے نتیجہ میں،یقینا، جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس کا مطلب تو بالکل واضح ہے کہ اب پاکستان صرف ایک علاقائی ملک نہیں رہا بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرنے والا ملک بن رہا ہے۔
دفاعی لحاظ سے بھی اس کردار کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ جب کسی ملک کی اہمیت بڑھتی ہے تو اس کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون کے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ مشترکہ مشقیں، جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون ایسی ہی صورتحال میں پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج پہلے ہی پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہیں، اور اس جنگ میں ثالثی کا کردار اس ساکھ کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
لیکن اس سارے منظرنامے میں اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ اگر کسی بھی وجہ سے کسی بھی سطح پرمذاکرات ناکام ہو گئے تو جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو بہت احتیاط اور توازن کے ساتھ قدم اٹھانا ہو گا۔ ہمیں کسی ایک فریق کا حصہ بننے کے بجائے امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنا ہو گا۔
ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ دنیا ایک بدترین بحران کا شکار تھی دنیا پر نا صرف عالمی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا اور خوراک، تیل اور دیگر اشیا ضروریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں بلکہ ایک قحط سالی اور توانائی کے بدترین بحران کی صورتحال بھی پیدا ہو چکی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے شہباز شریف، عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی صورت میں ایسے مسیحا بھیجے کہ آج ان کے حمائتی تو در کنار ان بدترین مخالف اور ان کے دشمن بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔
یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک لمبی سفارتی کوشش، مسلسل رابطے اور ایک ایسا کردار تھا جس نے نہ صرف جنگ رکوانے میں مدد دی بلکہ خطے میں امن کی امید کو دوبارہ زندہ کیا۔ آج اگر دنیا سکھ کا سانس لے رہی ہے تو اس میں مرکزی کردارپاکستان کا ہی ہے اور عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ہی امریکہ اور ایران نے کم از کم دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیاہے۔
موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر ہم دانش مندی، صبر اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں تو یہ بحران پاکستان کے لیے ایک نئی اقتصادی، سفارتی اور دفاعی طاقت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آج پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد کی طرف ہیں۔ یہ لمحہ تاریخ میں بار بار نہیں آتا۔ اگر ہم نے اسے صحیح طریقے سے استعمال کر لیا تو آنے والے سالوں میں ان شااللہ پاکستان نہ صرف ایک مضبوط ملک بن کر ابھرے گا بلکہ ایک ایسا ملک بھی بنے گا جس کی بات دنیا سننے پر مجبور ہو گی۔
پاکستان کو اقتصادی، سفارتی اور دفاعی سطح پر فائدہ ہو گا
09:29 AM, 12 Apr, 2026