ریاست کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کو ہمیشہ ایک ہی زاویے سے دیکھنے کی عادت ڈال لی ہے۔ ہمارے ہاں گفتگو کا دائرہ عموماً وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں روزمرہ کی مشکلات اپنا سب سے زیادہ وزن ڈالتی ہیں جیسے آٹا، بجلی، مہنگائی، غربت، بیماری، علاج اور پیٹرول جبکہ اکثر بحث وہیں ختم بھی ہو جاتی ہے۔ یہ مسائل اپنی جگہ نہ صرف حقیقی ہیں بلکہ تکلیف دہ بھی ہیں مگر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم انہی کو ریاست کی مکمل تصویر سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری یا عالمی حکمت عملی کی بات کرے تو اسے غیر ضروری دانشوری یا حقیقت سے فرار قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ریاست ایک سادہ اکائی نہیں بلکہ ایک پیچیدہ نظام ہے جو بیک وقت کئی سطحوں پر کام کرتا ہے۔ داخلی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات دو الگ دنیائیں ضرور ہیں مگر یہ ایک دوسرے سے کٹی ہوئی نہیں بلکہ جڑی ہوئی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان کے تقاضے مختلف ہیں، ان کی ترجیحات مختلف ہیں اور ان کے فیصلوں کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ داخلی سطح پر ریاست کو عوامی مسائل، فلاح، معیشت اور نظم و نسق کو سنبھالنا ہوتا ہے جبکہ خارجی سطح پر اسے اپنی بقا، ساکھ، مفادات اور اثر و رسوخ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ ایک ریاست بیک وقت دونوں میدانوں میں سانس لیتی ہے، دونوں میں فیصلے کرتی ہے اور دونوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک فکری مغالطہ تیزی سے جڑ پکڑ چکا ہے کہ اگر ریاست اندرونی طور پر مسائل کا شکار ہے تو اسے عالمی سطح پر متحرک ہونے کا کوئی حق نہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ہم سب سے بڑی علمی لغزش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم داخلی ناکامیوں کو خارجی سرگرمیوں کے خلاف دلیل بنا دیتے ہیں اور یوں ہم نہ صرف ریاست کے کردار کو محدود کر دیتے ہیں بلکہ اس کی ممکنہ کامیابیوں کو بھی خود ہی رد کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل تجزیہ نہیں بلکہ ایک طرح کا ردعمل ہے جو زیادہ تر جذبات، سیاسی وابستگی اور عدم برداشت سے جنم لیتا ہے۔اگر پاکستان کسی حساس عالمی معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے یا بڑی طاقتوں کے درمیان ایک سفارتی پل بنتا ہے تو یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری حکمت عملی، ایک طویل سفارتی عمل اور ایک واضح قومی مفاد ہوتا ہے۔ یہ وہ سطح ہے جہاں فیصلے نعروں یا جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس مفادات، خطرات اور مواقع کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں فوراً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس کا عام آدمی کو کیا فائدہ؟یہ سوال بظاہر معقول لگتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک محدود فہم کی عکاسی کرتا ہے۔دنیا کی کوئی بھی سنجیدہ ریاست اپنے داخلی مسائل کو جواز بنا کر عالمی معاملات سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتی۔ امریکہ کے اندر شدید سیاسی تقسیم موجود ہے، چین کو معاشی دباو¿ کا سامنا رہتا ہے، یورپ مہاجرین کے بحران سے مسلسل نبرد آزما ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اپنی عالمی حیثیت کو ترک نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستیں ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر کھڑی ہوتی ہیں اور ہر محاذ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر کوئی ریاست صرف اپنے داخلی مسائل میں الجھ کر عالمی سطح سے خود کو الگ کر لے تو وہ نہ صرف اپنی حیثیت کھو دیتی ہے بلکہ اپنے مسائل کو مزید پیچیدہ بھی بنا لیتی ہے۔
پاکستان کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کو اندرونی طور پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل عوام کی زندگی کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ ان مسائل سے انکار ممکن نہیں اور نہ ہی ان کی اہمیت کو کم کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ ان مسائل کو بنیاد بنا کر ہر خارجی کامیابی کو مسترد کر دینا دانشمندی نہیں بلکہ ایک طرح کی فکری تنگی ہے۔اصل مسئلہ تنقید نہیں، بلکہ تنقید کا معیار ہے۔ ایک باشعور معاشرہ تنقید کرتا ہے، سوال اٹھاتا ہے اور جواب طلب کرتا ہے مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ کون سا معاملہ کس دائرے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے لگتے ہیں۔ ہم سفارتی کامیابی کو بھی اسی ترازو میں رکھتے ہیں جس میں ہم بجلی کے بل یا آٹے کی قیمت کو تولتے ہیں اور جب دونوں کا وزن برابر نہیں آتا تو ہم نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ یہ کامیابی بے معنی ہے۔یہ رویہ نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ خطرناک بھی ہے کیونکہ اس سے ایک مستقل مایوسی جنم لیتی ہے۔ ہم اپنی کامیابیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں اور اپنی ناکامیوں کو سمجھنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ یوں ہم ایک ایسے دائرے میں پھنس جاتے ہیں جہاں ہر چیز غلط دکھائی دیتی ہے اور کچھ بھی درست محسوس نہیں ہوتا۔ ایک ملک داخلی طور پر کمزور ہو سکتا ہے مگر عالمی سطح پر مو¿ثر بھی ہو سکتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے ہمیں تسلیم کرنا سیکھنا ہوگا۔ یہ کوئی منافقت نہیں بلکہ حکمت عملی ہے۔ ریاستیں اپنے تمام مسائل حل ہونے کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ وہ بیک وقت مختلف میدانوں میں آگے بڑھتی ہیں کیونکہ عالمی نظام میں جگہ خالی نہیں رہتی۔ اگر آپ پیچھے ہٹتے ہیں تو کوئی اور آگے بڑھ جاتا ہے۔
ہمیں بطور قوم یہ سیکھنا ہوگا کہ ہر چیز کا فوری اور براہ راست فائدہ نہیں ہوتا۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے اثرات وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جو پس منظر میں رہ کر مستقبل کو بہتر بناتی ہیں۔ اگر ہم ہر چیز کو صرف فوری فائدے کے پیمانے پر پرکھیں گے تو ہم کبھی بھی بڑی تصویر کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ایک بالغ اور سنجیدہ قوم کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت دو حقیقتوں کو تسلیم کر سکے۔ یہ مان لے کہ ملک کے اندر مسائل بھی ہیں اور باہر مواقع بھی۔ یہ سمجھ لے کہ تنقید ضروری ہے مگر اس کے لیے درست تناظر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر ہم نے یہ فرق نہ سیکھا تو ہم ہمیشہ ایک ہی سوال دہراتے رہیں گے اور ہر بار غلط نتیجہ نکالتے رہیں گے۔یاد رکھیے کہ موقع پر چوکا مارنا واقعی ایک آرٹ ہے اور ہر کوئی اس فن میں مہارت نہیں رکھتا، مگر جو قومیں یہ فن سیکھ لیتی ہیں وہی تاریخ میں اپنی جگہ بناتی ہیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔
ریاست کا عالمی کردار، ایک اٹل حقیقت
09:25 AM, 12 Apr, 2026