ڈومور سے ڈو سم تھنگ تک

09:24 AM, 12 Apr, 2026

میں جب یہ الفاظ قرطاس پر اتار رہا ہوں تو اس وقت دنیا میں صرف ایک ہی نام کی گونج ہے اور وہ نام ہے ”پاکستان“۔ پوری دنیا کے دارالحکومت اپنے ٹائم زونز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس وقت جاگ رہے ہیں ۔ ایرانی وفد جمعہ کی شب کے پچھلے پہر اسلام آباد پہنچا تو امریکی وفد پندرہ گھنٹے کا سفر کرکے ہفتے کی دوپہر ساڑھے گیارہ بجے اسلام آباد کے نور خان ایئر بیس پر اترا۔امریکا کے نائب صدرجے ڈی وینس امریکی نائب صدر کے لیے مختص طیارے ایئر فورس ٹو سے باہر آئے تو ان کے استقبال کے لیے نائب وزیرعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈاراور فیلڈ مارشل، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر موجود تھے۔یہ امن مذاکرات کروانا۔ جنگ میں مصروف دو اہم حریفوں کو جنگ کے میدان سے اٹھاکر مذاکرات کی ٹیبل پر بٹھا دینا پاکستان کے لیے معرکہ حق 2.0ہے ۔اللہ تعالی نے پاکستا ن کو بھارت کے خلاف معرکہ حق میں بھی فتح سے سرخروکیا تھا اور اب انشاللہ معرکہ حق 2.0میں بھی فتح پاکستان کا مقدر بنی ہے۔
جو مناظر اس وقت ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں ایسے مناظر پہلے شاید کبھی دیکھنے میں نہیں آئے کہ پاکستان جیسا ملک تیسری عالمی جنگ کو روکنے والا بن گیا ہے۔ان مذاکرات کے نتائج جو بھی نکلیں۔ آج نکل آئیں یا کچھ مزید وقت لگ جائے یا دوہفتوں کی جنگ بندی میں مزید توسیع ہوجائے اور مذاکرات کے اگلے دور کا اعلان سامنے آجائے ۔یا ممکن ہے جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہیں تو دنیا جنگ سے مکمل محفوظ ہوچکی ہو۔یا خدانخواستہ یہ مذاکرات معطل یا ناکام ہوچکے ہوں۔ان مذاکرات کا نتیجہ کوئی بھی نکلے پاکستان جیت چکا ہے۔پاکستان نے جو کرنا تھا وہ کرچکا۔ پاکستان نے دنیا کے لیے امن جیت لیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب امریکی صدراعلان کرچکے تھے کہ وہ ایرانی تہذیب مٹانے کے لیے وحشیانہ بم باری کریں گے ۔ نہ صرف اعلان بلکہ اپنی فوج کو ایران پر بلاتفریق حملے کا حکم دے چکا تھا۔دنیا گھڑی کی سوئیاں دیکھ رہی تھی ۔امریکی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کی ڈیڈلائن تھی۔ پوری دنیاانتہائی برے نتائج کے خدشے سے دوچار تھی لیکن پاکستان اپنا کام کررہا تھا۔پاکستان کی قیادت وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ ساتھ اسحاق ڈار بھی چوبیس گھنٹے کام کررہے ہیں۔راتوں کی نیند دنیا کے امن پر قربان کرتی پاکستانی قیادت نے ناممکن کو ممکن کردکھایااورتباہی ٹل گئی ۔وزیراعظم شہبازشریف نے ڈیڈلائن کے خاتمے سے ایک گھنٹہ پہلے ٹویٹ کرکے امریکا کو جنگ بندی کو ایک موقع دینے کی بات کی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کی بات کو تسلیم کرتے ہوئے فوری جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی ۔ایران نے بھی اس جنگ بندی کو قبو ل کرلیا۔
اس کے بعد دنیا کی طرف سے پاکستان کا شکریہ اداکرنے کی لائن لگ گئی ۔میرے ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک ایک دارلحکومت کو صرف اسحاق دار سے بات کرنے کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑرہا تھا ۔ایک کے بعد ایک سربراہ مملکت کا فون آرہا تھا۔جو فون پر پاکستان کا شکریہ نہیں اداکرسکے انہوں نے اپنے اپنے ملک میں وزارت خارجہ کے ذریعے بیان جاری کرکے پاکستان کا شکریہ اداکیا ۔کچھ ممالک کی طرف سے ایکس اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے شکریہ اداکیا گیا۔یہ لمحات اس لیے بھی تاریخی ہیں کہ اس سے پہلے پاکستان کا نام کبھی غیرقانونی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے ،دوسرے ممالک میں جرائم یا ویزہ پابندیوں جیسی خبروں میں آتا تھا لیکن اس وقت تعریفوں اور توصیفوں کے ڈونگرے برسانے کے لیے پاکستان کا نام لیا جارہا ہے۔
آٹھ اپریل جس رات یہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا وہ دن نہایت کٹھن تھا ۔ایک وقت میں یوں لگا جیسے پاکستان کی کوششوں کو ڈیل ریل کردیاجائے گا۔امن دشمن عناصر شدید متحرک تھے ۔ایران کی طرف سے سات ایریل کو الجبیل میں سعودی عرب کی تیل تنصیاب پر بڑا حملہ کردیا گیا۔یہ بات سعودی عرب کو انتہائی ناگوار گزری کیونکہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان پاکستان پہلے ہی ثالث کا کردار اداکرتے ہوئے دونوں طرف کی غلط فہمیاں دورکرکے ایک دوسرے کی زمین حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرواچکا تھا اسکے باوجود ایران کی طرف سے حملہ بڑی خلاف ورزی تھی۔ پاکستان ایک طرف امریکا کو ایران پر فیصلہ کن حملہ نہ کرنے اور جنگ بندی پر قائل کررہا تھا کہ دوسری طرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان حالات نازک ہورہے تھے۔سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ رابطہ کرکے ایران کو سخت پیغام دینے کی بات کی۔شکوہ کیا کہ آپ نے ایران کو ہماری یقین دہانی کروائی تھی ہم نے اس کی خلاف ورزی کی نہیں تو ایران نے ایسا کیوں کیا۔پاکستان نے امریکا کو چھوڑ کر اپنے بردارملکوں کا معاملہ حل کرانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ وزیراعظم پاکستان نے سعودی ولی عہد سے بات کی اور ان کو یقین دلایا کہ ہم اس معاہدے پر قائم ہیں کہ ”سعودی عرب پر حملہ پاکستا ن پر حملہ ہے“اگر ایران نے واپسی کی راہ نہ لی تو پاکستا ن بغیر کچھ سوچے سعودی عرب کے دفاع کے لیے کھڑا ہوجائے گا ۔ پھر پاکستان ایک ثالث نہیں بلکہ ایک مجبوری میں ایک فریق بن کرسامنے آئے گا۔مسلح افواج کے کورکمانڈرز کی کانفرنس ہوئی اس میں بھی یہی موضوع زیر بحث رہا۔ ایران کو ایک بارپھر بتایا گیا کہ پاکستان ایران کو جنگ سے بچانے کے لیے ثالث کا کردار اداکررہا ہے اس کو اس جنگ میں فریق بننے پر مجبور نہ کیا جائے۔اس پیغام کا ایران پر اثر ہوا اور حملے کو غلط فہمی کا لبادہ پہنا کر پاکستان کو امن کوششیں جاری رکھنے کی درخواست کر دی گئی۔ 
پاکستان کو یہ عزت مفت میں نہیں ملی۔ پاکستان نے معرکہ حق میں اپنے سے سات گنابڑے دشمن کو شکست دے کر یہ عزت کمائی ہے کہ دنیا فاتحین کی عزت کرتی ہے۔پاکستا ن صرف فاتح نہیں تھا بلکہ امن کا خواہاں ۔جارحیت کے خلاف اور توسیع پسندانہ عزائم سے کوسوں دور دنیا کے لیے قابل قبول ریاست بن کر ابھرا ہے۔آپریشن سندور میں ہندوستان کی شکست کے بعد سے امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔پاکستان کی سفارتکاری مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی ۔ پاکستان نے امت مسلمہ کی قیادت حقیقی معنوں میں سنبھال لی۔ثالثی اور امن کے لیے جو مذاکرات قطر میں ہوا کرتے تھے ان کا مقام تبدیل ہوکر اب اسلام آباد بن چکا ہے۔چین کے ساتھ مل کر پاکستان نے دنیا کو جنگ کی مزید تباہ کاریوں سے روک دیا ہے۔دنیا پاکستان کی احسان مند ہے۔وہ امریکا یہاں سے پاکستان کے ہمیشہ ”ڈومور“ کے پیغامات آتے تھے اب وہاں سے ”پلیز ڈو سم تھنگ “کے پیغامات آرہے ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ ساتھ امریکا کے لیے بھی ”سم تھنگ“ نہیں بلکہ بہت کچھ کررہا ہے۔امریکا کو بھی پاکستان کا احسان مند ہونا پڑےگا۔پاکستان ہمیشہ زندہ آباد۔

مزیدخبریں