ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں پاکستان کے ریگولیٹری اقدامات عالمی سطح پر اجاگر

07:32 PM, 11 Sep, 2026

نیویارک:پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مؤثر ریگولیٹری نظام اور علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے زیر اہتمام ڈیجیٹل اثاثوں، بلاک چین، ٹوکنائزیشن اور ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجیز کے موضوع پر بریفنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں رکن ممالک، اقوام متحدہ کے اداروں اور سرکاری و نجی شعبے کے ماہرین نے شرکت کی۔

 پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی عالمی مالیاتی نظام میں تیزی سے اہمیت حاصل کر رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو ان ٹیکنالوجیز کے صرف صارف بننے کے بجائے ان کی تشکیل اور پالیسی سازی میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اور علاقائی تعاون، تکنیکی معاونت اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے ترقی پذیر ممالک ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق ریگولیٹری فریم ورک پر روشنی ڈالی۔

 بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل مالیاتی جدت طرازی سرحد پار ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے، مالیاتی شمولیت بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی ترقی کے ساتھ مؤثر ضابطہ کاری بھی ضروری ہے، واضح قوانین صارفین کے تحفظ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

 بریفنگ میں پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام، قانون سازی، لائسنسنگ اقدامات اور ریگولیٹری سینڈ باکس سمیت مختلف اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

 شرکاء نے ڈیجیٹل فنانس، ڈیجیٹل شناخت، عوامی خدمات اور شفافیت میں بلاک چین ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ سائبر سکیورٹی، ضابطہ کاری، ادارہ جاتی استعداد اور مساوی رسائی کے چیلنجز کا بھی جائزہ لیا۔

 بریفنگ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ علاقائی تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ ایس سی او خطے کے ممالک کے درمیان ڈیجیٹل معیشت، سرحد پار ادائیگیوں اور مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

 سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ ترقی پذیر ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے، تکنیکی تعاون اور استعداد کار میں اضافے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرسکتا ہے۔

مزیدخبریں