روئی کی طرح بکھرتے آشیانے

09:13 AM, 11 Sep, 2025

آج دل بہت بوجھل ہے ہر آنکھ نم ہے ہر طرف غم ہی غم ہیں دکھ اتنے ہیں کہ مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہر سو بے بسی کے ڈیرے ہیں ایک دوسرے کی طرف ترسی نگاہیں اور ہر نگاہ میں لاکھوں سوالات ہیں ان سوالات کے جواب کون دے گا کوئی ہے جو زنجیر عدل ہلائے اور کہے کہ جس اللہ نے ہمیں پیداکیا وہی ہمارے دکھوں کا مداواکرے گا بے شک کہ وہی ہمارے آنسوئوں کو سہارا دے سکتا ہے کیونکہ وہی تو ہے جو چلا رہا ہے نظام ہستی ،آج ہر طرف آہ و بکاہ کا عالم ہے کہیں گھروں کے گھراجڑ گئے تو کہیں پالتو جانور جان سے گئے اب ایک ہی در ہے جس کا دامن پکڑے گے تو خیر کی آواز آئے گی اور وہی مشکلات کا خاتمہ کرے گا وہی مشکل کشا ہے وہی ہمیں ہمت،صبراور استقامت دے گا اور ایک بار پھرخوشحالی دروازے پر دستک دے گی آج سیلاب اور بارشوں نے میلوں تک کئی گائوں صفحہ ہستی سے مٹا دئیے کئی پیارے اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے لوگ درخت لگانے کے بجائے انہیں کاٹ رہے ہیں ہر سال شجر کاری کے لئے لاکھو ں کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ یہ لاکھوں درخت جاتے کہاں ہیں؟ سب کی توجہ صرف پیسہ کمانے پر ہے، مگر یہ نہیں سوچا جا رہا کہ ہم فطرت کے خلاف جا کر دراصل اپنی ہی تباہی کا سامان پیدا کر رہے ہیں پارکوں اور کھلی جگہوں اورزمینوں پر قبضہ کرکے سوسائٹیاں بنا دی گئی ہیں،سب کچھ جاننے کے با وجودحکومت مکمل خاموش اور انتظامیہ تماشائی بنی ہوئی ہے، اس وقت سیلاب سے جانی و مالی نقصان اور تباہی و بربادی کے جو مناظر دکھائی دے رہے ہیں وہ نوح دور کی یاد دلا رہے ہیں، ملک ایک بہت بڑے سمندر میں تبدیل ہو گیا، سیلابی ریلے جدھر چاہتے ہیں ادھرکا رخ کر لیتے ہیں جس سے پچاس ہزار سے زائد آشیانے صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہیں کہ ان کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، 2010 میں بھی ایسا ہی سیلاب آیا تھا جس میں دو ہزار سے زائد انسان جان سے گئے تھے لیکن افسوس ایسے طوفانوں سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا، اب بھی ایک دوسرے کے خلاف سیاست دانوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ ہر طرف کھانے پینے کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور ہم سیاست کر رہے ہیں، سب سے زیادہ مسائل میں بچے اورخواتین گھری ہوئی ہیں، متاثرین کہاں جائیں،چاروں طرف کھلا علاقہ اور پانی ہی پانی ہے ہر طرف سنگ دلی کے واقعات ہو رہے ہیں،پنجاب میں چاول 60 فیصد، کپاس 35 فیصد اور گنا 30 فیصد ضائع ہو گی ملک بھر میں حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، سندھ میں بھی اسی طرح کی تباہی کے خطرات لاحق ہیں، جس سے قومی غذائی تحفظ اور معاشی استحکام داؤ پر لگ گیا ہے پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں پانچ سو سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں،لاکھوں افراد فوری انسانی امداد کے منتظر ہیں، بزرگوں کو ہٹا کر نوجوانوں کو آگے لانا چاہیے، ملک میں بارشیں زیادہ ہوئی ہیں، ہمیں آنے والے سیلابوں کی بھرپور تیاری کرنی ہو گی یہ تو سچ ہے لیکن اس کیلئے سابقہ حکومتوں نے کیا کیا؟ہم سیاست کرتے رہے جو ڈوب مرنے کا مقام ہے عالمی اداروں کی جانب سے امدادی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ قدرتی آفات کا مقابلہ انسان کے بس کی بات نہیں، تاہم اِن آفات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر حکمتِ عملی سے قابو پاکر انہیں کم ضرور کیا جاسکتا ہے، مگر کیسے کم کیا جاسکتا ہے یہ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں، ہم ابھی تک اسی بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ ڈیمز بنائے جائیں یا نہ بنائیں، افسوس کی بات ہے کہ ڈیمز کی تعمیر ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں ، آج صورتِ حال یہ ہے پاکستان میں سیلابی ریلے اور بارش کا پانی جگہ جگہ تباہی کی ہولناک داستانیں رقم کرکے سمندر میں جا گرتا ہے اس پر دنیا ہمارا مذاق اڑاتی ہے، قدرتی آفات کے نتیجے میں تباہی کی ایک وجہ شائد کرپشن بھی ہے ،سیلابی ریلوں کے لیے انسدادی اقدامات، بارش کے پانی کی سٹوریج اور پھر استعمال، سیلاب کے وارننگ سسٹم اور شجرکاری وغیرہ پر کوئی خاص توجہ ہی نہیں دی گئی، ملک میں درختوں کومافیا کے ہاتھوں کٹائی کا 
سامناہے جس سے ماحول تبدیل ہو رہا ہے اور ہم مسائل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں،درخت اور جنگلات سیلابوں اور دریائی کٹائو سے بچائو کا اہم ذریعہ ہیں، ملک میں ٹمبرمافیاایک بڑی طاقت ہے، جو جنگلات کوبری طرح نقصان پہنچانے کے باوجود احتساب سے بچی ہے، ہمارے پاس اب تک ایسا کوئی نظام ہی نہیں کہ سیلابوں اور بارشوں کی وارننگ دے کر آبادی کو بروقت محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جاسکے،آج تک ہر تباہی کے بعد سوائے رونے دھونے اور دلاسوں کے کچھ نہ کرسکے، ہر بار سیلابی پانی اترتے ہی ہم پھر آئندہ مون سون تک چین کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں جبکہ تباہی کے منظر دیکھ کر روح تڑپ جاتی ہے ہم کب تک سیلابی صورتحال میں روئی کی طرح آشیانے بکھرتے دیکھتے رہیں گے آئیں ابھی بھی وقت ہے سدھر جائیں حالیہ سیلاب میں کتنے ہی گھر تباہ ہوگئے، دکھ کی بات تویہ ہے حکومت اور این جی اوز ہر بار آفات کے بعد صرف کھانے کے پیکٹ اور عارضی امداد تقسیم کر کے خود کو بری الزمہ سمجھ لیتی ہیں، اصل مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دیتا ،ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت نوٹس لے، اگر ماحولیاتی تباہی اور قبضوں کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو حالات مزید بگڑیں گے۔

مزیدخبریں