ایک طرف جدید ٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد ہیں اور اس نے انسان کے لئے بہت ساری آسانیاں بھی پیدا کی ہیں تو دوسری جانب، جرائم پیشہ افراد بھی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اس کا ستعمال کرتے پائے جاتے ہیں۔ ادھر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سے استفادہ کر رہے ہیں اور جرائم پیشہ بھی۔ لیکن مستقبل کئی طرح کے چیلنج لئے ہمارے سامنے ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ جدید علوم میں ہر طرح کی مہارت حاصل کی جائے اور اپنی نوجوان نسل کو بھی اس بارئے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ وہ جرائم پیشہ افراد کی مذموم کاروائیوں سے محفوط و ماومون رہ سکیں۔ ملک بھر کے میڈیا خصوصاً الیکٹرونکس میڈیا کے مذموم استعمال کے حوالے سے خبریں سامنے آتی رہتی ہیں ۔ اور مذموم سرگرمیوں میں ملوث جب لوگ پکڑے جاتے ہیں تو ہوش ربا انکشافات سامنے آتے ہیں۔ جس کی تفصیل انہی سطور میں بیان کی جائے لیکن سردست ہم انٹر نیٹ کی اس حیرت انگیز دنیا کی بات کریں گے جس کے بغیر اب زندگی کے امور چلانے مشکل نظر آتے ہیں لیکن اسی حیرت انگیز دنیا میں ’ایک اندھی‘ دنیا بھی ہے جسے ڈارک ویب سائٹ کہتے ہیں۔جس کی تفاصیل ایک رپوٹ کی صورت بین الاقوامی خبر رساں ادارئے کی ویب پر سامنے آئی تو سوچا اپنے قارئیں سے اسے شئیر کیا جائے تاکہ عوام الناس میں اس بارئے مزیدآگاہی پیدا ہو۔
رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ پر ایک اور دنیا بھی موجود ہے، جو ڈارک ویب کہلاتی ہے۔ ڈارک ویب کیا ہے؟ اور کس طرح کام کرتی ہے؟ اس بارے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد زیادہ معلومات نہیں رکھتی۔ڈارک ویب ایک ایسا حساس موضوع ہے، جسے میڈیا میں کبھی نمایاں جگہ نہ مل سکی۔ ڈارک ویب ورلڈ وائڈ ویب کا ایک ایسا حصہ ہے جس تک پہنچنے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈارک ویب جرائم کی وہ دنیا ہے، جہاں قانون کے ادارے بھی نہیں پہنچ پاتے۔ کیونکہ انٹرنیٹ کے اس گھناؤنے کاروبار سے ہوشربا پیسہ اور کمائی منسلک ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کاروبار سے دنیا کی بہت طاقتور ہستیاں بھی جڑی ہیں۔ اسلحہ کی فروخت، منشیات کے کاروبار کے علاوہ خواتین، مردوں اور بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کی ویڈیوز یہاں اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غیر قانونی مارکیٹ کی طرح ہے۔ استحصال کی ویڈیوز کی خرید و فروخت اور نمائش جیسی سرگرمیاں ڈارک ویب کے وجود کی ضامن ہوتی ہیں۔ عام افراد گوگل پران پوشیدہ سرگرمیوں کو سرچ نہیں کر سکتے۔ صرف وہی افراد ان ویب سائٹس تک پہنچ سکتے ہیں جن کا تعلق انٹرنیٹ جرائم کی اس دنیا سے ہو یا پھر وہ اس کمیونٹی کا حصہ ہوں۔ یہ ویب سائٹس فائر والز کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں۔ڈارک ویب ڈیپ ویب کا ایک حصہ ہے۔ ڈارک ویب پر اجرتی قاتل بھی دستیاب ہوتے ہیں اور اپنی نفسانی و نفسیاتی تسکین کی خاطر قتل کروانے والے گروہ بھی۔ ایک اندازے کے مطابق عام لوگوں کی رسائی صرف سولہ فیصد ویب سائٹس تک ہے جبکہ باقی تمام ڈارک ویب پر مشتمل ہیں۔ اگر آپ ڈارک ویب کی سائٹ کھول بھی لیں تو آپ یہ پتہ نہیں چلا سکتے کہ اس کو کون چلا رہا ہے یا ا س کے پیچھے کون سا مافیا کام کر رہا ہے۔
ڈارک ویب نے منشیات خریدنے والوں کا کام بہت آسان کر دیا ہے ایسے لوگ جو سرعام یا کسی گلی کوچے یا کسی ایجنٹ کے ذریعے منشیات خریدنے کا کشٹ نہیں اٹھانا چاہتے وہ بھی منشیات کی خریداری کے لیے ڈارک ویب کا استعمال کرتے ہیں۔ اس ویب کو استعمال کرنے والوں میں نوجوانوں اور طالب علموں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ کیونکہ یہاں لین دین پوشیدہ ہوتا ہے اور پکڑے جانے کا ڈر بھی نہیں ہوتا۔بٹ کوائن کا زیادہ استعمال ڈارک ویب میں کیا جاتا ہے۔ منشیات، جعلی پاسپورٹ یا فحش مواد کی خرید و فروخت بٹ کوائن کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والی کیٹیگری ہے۔ کریڈٹ کارڈز کی معلومات ہیک کر کے یہاں بہت سستے داموں بیچی جاتی ہے۔
معاشرے سے اس ناسور کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے '' یہ بہت ہی غیر صحتمند سماج ہے۔ یہاں سیاسی موضوعات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ بہت معذرت کے ساتھ ایسے واقعات نہیں رکیں گے۔ کیونکہ ریاست اور سماج ایسے معاملات میں سنجیدہ نہیں‘‘۔سوال یہ ہے کہ ایسے جرائم پیشہ افراد کی معلومات کا ممالک کے بیچ اشتراک کیوں نہیں کیا جاتا؟ کیا اس بارے میں انسانی حقوق کے اداروں نے کبھی توجہ دی؟ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ ایسے مجرموں اور سزا یافتہ لوگوں کے ڈیٹا کا ملکوں کے بیچ اشتراک ہونا چاہیے۔ ان کا ایک گلوبل ڈیٹا بننا چاہیے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسے لوگ بہت ہی خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ نہایت خاموشی سے اور چابک دستی سے اپنا کام کرتے ہیں۔ اور کسی کو خبر نہیں ہونے دیتے۔ سہیل ایاز کے کیس نے کسی ایک کو نہیں بلکہ پوری دنیا کی حکومتوں کو بے نقاب کر دیا ہے یہ مسئلہ صرف تیسری دنیا کے پسماندہ ممالک کا نہیں بلکہ برطانیہ، امریکا اور یورپ میں بھی آئے روز ایسے واقعات منظر عام پرآتے رہتے ہیں ان کے سدباب کے لئے حکومتوں کو مربوط نظام بنانا چاہیے۔
لیکن حرف آخر کے طور پر افراد معاشرہ کے ساتھ والدین کو اپنے بچوں کی حرکات وسکنات پر کڑی نظر رکھنی ہوگی تاکہ وہ کسی غلط بندے کے ہاتھ نہ چڑھیں۔
ٹیکنالوجی فائدہ یا نقصان؟
09:13 AM, 11 Sep, 2025