چوپال میں آج’’ چاچا چودھریـ‘‘ موجود تھے۔چاچا چودھری یوں توسیاسی شخصیت ہیں لیکن سب ان کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے بہت زیادہ عزت کرتے ہیں۔ نتھو ، پھتو بھی ان کی خوب خاطر مدارت کررہے تھے ، ان کو باقاعدہ لسی دی تاکہ گرمی میں ان کی پیاس بجھ سکے۔ ’’چاچا چودھری‘‘نے جب لسی سے پیاس بجھالی تو نتھو اور پھتو کو خوب دعائیں دیں۔ اسی اثنا میں چپ سائیں بھی چوپال میں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔ سب احتراماً اٹھے اور باآواز بلند سلام کیا۔۔چپ سائیں نے سانس بحال کی اور اس کے بعد ’’چاچا چودھری‘‘ سے مدعا پوچھا ۔ ۔ ۔ ’’چاچا چودھری ‘‘ نے چپ سائیں سے کہا کہ سائیں جی ۔۔۔یوں تو آپ جانتے ہیں کہ میں سیاسی شخصیت ہوں ، آج کل دو تین باتیں مجھے بہت زیادہ پریشان کررہی ہیں؟۔۔۔ چپ سائیں نے پوچھا ۔۔بھائی بتائیں۔۔۔ چاچا چودھری بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ ایک تو اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مزید صوبوں کی بازگشت سنائی جارہی ہے۔۔۔دوسرا۔۔۔مجھے ووٹروں کا رویہ بہت تنگ کررہا ہے ۔ ۔ ۔ سیاسی مخالفین ایک دوسرے پر کبھی سیاہی، کبھی جوتا اور کبھی انڈا پھینکتے ہیں۔۔۔ سائیں جی سیاسی وابستگی اپنی جگہ لیکن ۔۔ سیاست دانوں کودیکھ کریہ رویہ عدم برداشت کو پروان چڑھا رہا ہے۔۔ سائیں جی آپ اس بارے میں کچھ بتائیں۔
سائیں جی نے پوری بات سنی اوراس کے بعد بولے۔۔ حق ہو!۔۔۔دوستو۔۔بھائی کی دونوں باتیں انتہائی قابل غوراورقابل مباحثہ ہیں۔ چوپال کے دوستو اوربچو پاکستان ایک کثیرالثقافتی، لسانی اور جغرافیائی اعتبار سے وسیع ملک ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں، زبانیں اور روایات موجود ہیں جو ملک کی رنگینی کا باعث ہیں۔ اس پس منظر میں چھوٹے صوبوں کے قیام کا مسئلہ اکثر زیر بحث آتا ہے۔ کچھ لوگ اسے قومی یکجہتی کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں تو کچھ اس کے خلاف ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں چھوٹے صوبوں کا قیام ہونا چاہیے یا نہیں؟۔ حق اور سچ بات یہ ہے کہ چھوٹے صوبوں کو زیادہ خودمختاری ملے گی جس سے وہ اپنے مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ کر حل کر سکیں گے۔ مثال کے طور پر بلوچستان جیسے بڑے
صوبے میں مختلف قبائل اور علاقوں کی الگ الگ ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت پورا کرنا مشکل ہوتا ہے۔
چھوٹے صوبے اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ آج کل بڑے صوبوں میں چھوٹے علاقوں کو وسائل کی کمی کا سامنا ہوتا ہے جس سے ترقی رک جاتی ہے۔چھوٹے صوبوں کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں زیادہ سیاسی نمائندگی ملے گی، جس سے ان کے مسائل کو قومی سطح پر بہتر انداز میں اٹھایا جا سکتا ہے۔بھائی دوستو چھوٹے صوبے اپنی زبان، ثقافت اور روایات کو بہتر طریقے سے تحفظ دے سکیں گے جو کہ قومی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے وفاقی نظام پیچیدہ ہو سکتا ہے اور حکومت کو انتظامی طور پر مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے لیکن یہ مسائل بھی قابل حل ہیں۔
صاحبو ! ایک حلقے کے مطابق چھوٹے صوبے بننے کے بعد سیاسی پارٹیوں اور گروہوں کے مابین مزید کشمکش پیدا ہو سکتی ہے جو ملک کے سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔تاہم یہ ساری باتیں ٹیبل پرباقاعدہ حکمت عملی سے طے ہوسکتی ہیں ۔دوستو!آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ چھوٹے صوبوں کا قیام ایک حل ہو سکتا ہے، مگر اسے مکمل منصوبہ بندی اور قومی اتفاق رائے کے بغیر نافذ کرنا ملک کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اب میں بھائی کے دوسرے مسئلے یعنی ووٹروں یا سیاسی کارکنوں کی وابستگی اور جذباتیت پر بات کروں گا۔ بھائی دوستو !سیاسی احتجاج اور عوامی غصے کے اظہار کے لیے مختلف طریقے دنیا بھر میں مستعمل رہے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ممالک میں سیاست دانوں یا سیاسی شخصیات پر انڈے پھینکنے، جوتے اچھالنے اور سیاہی پھینکنے کے واقعات میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی آتی جارہی ہے۔ صاحبو!یہ مظاہرہ صرف جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ ایک ثقافتی اور سماجی علامت بھی بن چکا ہے، جو سیاسی تاریخ اور عوامی رائے کی پیچیدگیوں کو بیان کرتا ہے۔یہ عمل بعض اوقات ایک پرتشدد ردعمل بھی بن جاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ہمیشہ عوامی احساسات کی شدت اور احتجاج کی شدت ہوتی ہے۔ انڈے اور جوتے سیاسی تقریبات، جلسوں یا کسی مخصوص شخصیت کے عوامی جلسے میں ایک قسم کا احتجاجی اظہار ہوتے ہیں جو حکومت یا حکمران طبقے کے خلاف عدم اطمینان کو ظاہر کرتے ہیں۔
پاکستانی سیاسی تاریخ میں سیاہی کی سیاست کا استعمال خاص طور پر 2000 کی دہائی سے بڑھا ہے، جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی اور توہین آمیز احتجاج کرتی رہیں۔ یہ عمل اکثر پرتشدد یا غیر متوقع ہوتا ہے اور میڈیا کی موجودگی میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے، کیونکہ اس سے سیاسی شخصیات کی عوامی تصویر خراب ہوتی ہے۔اگرچہ انڈے، جوتے اور سیاہی پھینکنے جیسے احتجاجی انداز عوامی غصے کے اظہار کے روایتی طریقے ہیں، لیکن ان کے استعمال سے کئی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ احتجاج کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ ۔
اس قسم کی احتجاجی کارروائیاں سیاسی رواداری اور مکالمے کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں، جو جمہوری معاشروں کے لیے نقصان دہ ہے۔ کبھی کبھی انڈے یا جوتے پھینکنے کا عمل تشدد میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیتا ہے۔ یہ احتجاجی طریقے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوامی سطح پر سیاستدانوں کے خلاف شدید مایوسی اور ناراضگی پائی جاتی ہے، اور لوگ روایتی سیاسی عمل سے بد دل ہو کر اس طرح کی شدید زبان اختیار کر لیتے ہیں۔
انڈے، جوتے اور سیاہی کی سیاست ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمارے سیاسی کلچر کی جھلک دکھاتی ہے۔دوستو!یہ احتجاجی زبان شاید جلد ہی بدل جائے، لیکن اس وقت یہ ہمارے سیاسی منظرنامے کی ایک تلخ اور پراثر حقیقت ہے، جسے سمجھنا اور اس کا حل تلاش کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک سوچ، رویہ اور طرزِ زندگی ہے۔ جمہوریت ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلاف ہو تو دلیل سے، اعتراض ہو تو سوال سے، اور احتجاج ہو تو پرامن انداز سے کیا جائے۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم جذبات کی جگہ فکر کو اپنائیں،نفرت کی جگہ رواداری کو فروغ دیںاور سب سے بڑھ کر، ڈائیلاگ کو ترجیح دیں۔بھائی دوستو!اختلافات کو گفتگو سے حل کرنا ہی جمہوریت کا اصل حسن ہے۔لہٰذا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم اپنی سیاسی تربیت پر توجہ دیں، اور نوجوان نسل کو یہ سکھائیں کہ سیاست گالی نہیں، خدمت ہے۔۔۔ لہٰذا تشددکی بجائے ڈائیلاگ کا راستہ اپنائیں۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا!۔۔۔
’’صوبوں کی بازگشت،سیاسی وابستگی اور ڈائیلاگ…‘‘
09:12 AM, 11 Sep, 2025