ایک دن خیال آیا کہ اس ملک میں سب کچھ ہے مگر وہ عقلِ کل کہاں ہے جو قوموں کے بڑے فیصلوں کے وقت سامنے آ کر بتا سکے کہ کون سا راستہ سیدھا ہے اور کون سا بھٹکانے والا؟ سوچا کہ اگر ایسے لوگ، جنہوں نے واقعی اس ملک کے لیے کچھ کارنامہ سرانجام دیا ہو، جمع کر لیے جائیں تو شاید یہ قوم اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے پہلے دن سے اپنے ہی ہیرے ضائع کیے، جو دمکتے تو دنیا میں پہچان بنتی۔ جن کی قدر نہ کی، وہ خاک میں مل گئے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ ان کو پہچانا جائے، چاروں صوبوں سے لایا جائے، وہ بھی جو سرحدوں پر لڑے، وہ بھی جو عدالتوں میں انصاف کے ستون بنے، اور وہ بھی جنہوں نے سائنس، معیشت یا سفارتکاری کے میدان میں ملک کا نام روشن کیا۔ذرا سوچیے، ایک ایسا تھنک ٹینک بنے جس میں ایک سو افراد ہوں۔ ان میں جج بھی، فوج کے سربراہ بھی، ٹو اسٹار اور تھری اسٹار جنرل بھی۔ اس میں وہ اوورسیز پاکستانی بھی ہوں جنہوں نے اپنے دیس سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر اس کے مفادات کا تحفظ کیا۔ ان سب کے فیصلے آئینی ترمیم کا درجہ پائیں، تاکہ یہ محض مشاورت نہ رہے بلکہ راستہ متعین کرنے کا ضابطہ بھی ہو۔ یہ سیاست جو کبھی کالا باغ ڈیم کو کھا جاتی ہے اور کبھی سی پیک کے راستے میں رکاوٹ ڈالتی ہے، وہاں یہ تھنک ٹینک ایک مضبوط دیوار بن جائے۔
مجھے یاد ہے کہ واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک صاحب، جو خیبرپختونخوا سے تھے، نے آواز بلند کی تھی۔میں نے ایک بار انہیں لیکچر کے لیے لاہور بلایا تو کہا: "کالا باغ ڈیم کسی صوبے کو نقصان نہیں دے گا، بس سیاست ہو رہی ہے۔ کبھی نوشہرہ ڈوبنے کا بہانہ، کبھی کچھ اور۔" میں سوچتا رہا کہ یہ ملک پانی میں ڈوب رہا ہے اور سیاست دان اب بھی ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ ابھی حالیہ سیلاب ہی دیکھ لیں، تھر میں نہریں کتنی ضروری ثابت ہوئیں۔ جو لوگ ان کے خلاف شور مچاتے تھے، وہ اب چپ ہیں مگر بربادی کی قیمت کسان اور مزدور ادا کر رہے ہیں۔
یہی کھیل سی پیک کے ساتھ ہوا۔ کبھی کہا گیا کہ فلاں صوبہ محروم ہو گا، کبھی کہا گیا کہ چین فائدہ اٹھائے گا۔ اصل میں چند لوگ، جنہیں باہر سے فنڈنگ ملتی ہے، چاہتے ہیں کہ ہر کام لٹک جائے تاکہ بٹورنے کا سامان رہے۔ یہ لوگ شاید چور ڈاکو نہ بھی ہوں، مگر ان کا ایجنڈا ملک کے مفاد سے زیادہ اپنی جیب اور اپنے آقاؤں کا مفاد ہوتا ہے۔
اسی دوران لندن کا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ لارڈ نذیر میرے میزبان تھے۔ میں نے ان سے کہا: "میں برطانوی پارلیمنٹ دیکھنا چاہتا ہوں۔" اگلے دن ہم دوپہر دو بجے وہاں گئے۔ انہوں نے ہاوس آف لارڈز میںمہمانوں کی گیلری دکھائی۔ میں نے دیکھا کہ کوئی ممبر وہیل چیئر پر بیٹھا ہے، کوئی سفید ریش بوڑھا ہے، کوئی جوان خون ہے۔ سب اپنی اپنی نشست پر بیٹھے، پرجوش تقریریں کر رہے تھے۔ باہر آ کر میں نے لارڈ صاحب سے پوچھا: "یہ اتنے بوڑھے اور توانائی والے لوگ کہاں سے چن لائے ہو؟" وہ مسکرائے اور بولے: "یہ وہ سو افراد ہیں جنہوں نے اپنے ملک برطانیہ کے لیے کوئی کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہیں ملکہ کے دستخط سے رکن بنایا گیا ہے۔ یہاں نہ رقم چلتی ہے نہ سفارش۔ میرٹ ہی میرٹ ہے۔ نوبل انعام یافتہ بھی ہیں، سائنسدان بھی، کھلاڑی بھی، حتیٰ کہ وہ کسی ملک کا باشندہ ہو،وہ برطانیہ میں آن بسا اور ملک کا نام روشن کیا ہو ۔ہم محب وطن لوگوں کو کیوں چن کر تھنک ٹینک نہیں بناتے ۔تھنک ٹینک بنانا مسائل میں گھرے پاکستان کی ضرورت ہے۔ان لوگوں کو موقع دیا جائے جو کچھ کر سکتے ہیں۔پاکستان جیسا ملک دنیا میں کوئی نہیں جس کے پاس پانچ موسم ہیں ، کمی ہے تو سوچنے والوں کو موقع دینے کی ہے۔یہ بہترین موقع ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں میری اس تجویز کو شامل کیا جائے کہ اہم ذمہ داریاں ادا کر کے ریٹائر ہونے والوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی ہو۔مجھے کوئی ملک دوسرا ملک بتائیں جس کا سابق وزیر اعظم، سابق چیف جسٹس یاسابق آرمی چیف کسی دوسرے ملک میں بس گیا ہو۔ان کے پاس ملک کے اہم راز ہوتے ہیں۔ان سے اپنے ملک کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔
ہائوس آف لارڈز دیکھ کرمیرے ذہن میں فوراً پاکستان کا سینیٹ گھوم گیا۔ وہاں وہی کہانی ہے جو بازار میں نیلامی کی طرح بکتی ہے۔ پچیس تیس کروڑ خرچ کر کے ممبر بن جائیے۔ کوئی اپنی جیب بچانے کو آتا ہے، کوئی اپنے سرپرست گروہ کا ایجنٹ بن کر۔ دیانتدار اور اہل لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ بھی بیٹھ جاتے ہیں جو کسی بادشاہ گر کی کٹھ پتلی ہیں۔ ان کا مقصد قانون سازی نہیں، اپنے مفاد کی حفاظت ہے۔یہاں المیہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی کوئی ریٹائر ہوتا ہے یا اپنے فرائض سے فارغ ہوتا ہے، جہاز اس کے لیے تیار کھڑا ہوتا ہے۔ عشرت حسین، معین قریشی، شوکت عزیز،یہ نام کسی کو یاد ہیں؟ سب نے یہاں کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلے کیے اور پھر پرائے دیس جا بسے۔ عام لوگ بس یہ دیکھتے رہ گئے کہ ایک ایس ایچ او کے بچے مہنگے سے مہنگے اداروں میں پڑھ رہے ہیں، امریکہ کی یونیورسٹیوں میں جا رہے ہیں۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ عام افسر نہیں، اس کا نرخ زیادہ ہے۔ رشوت کم نہیں، بھاری لیتا ہے۔
یہ سب دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ یہاں سینیٹ کا تقدس بھی بکاؤ ہے، پالیسی بھی بکاؤ ہے اور عزت نفس بھی جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں وہ لوگ فیصلوں کا حصہ بنتے ہیں جنہوں نے ملک کو کچھ دیا ہے، ہم نے الٹا ان کو کنارے لگا دیا ہے۔
اگر اس قوم کو بچانا ہے تو سیاست دانوں اور جاگیرداروں کے چکر سے نکل کر اس تھنک ٹینک کی طرف بڑھنا ہو گا جس میں میرٹ کی بنیاد پر ایک سو افراد بیٹھے۔ یہ لوگ بتائیں کہ کون سا ڈیم بننا چاہیے، کون سا منصوبہ ضروری ہے، تعلیم اور صحت کے بجٹ کہاں لگنے ہیں، کون سی پالیسیاں معیشت کو سنبھال سکتی ہیں۔ ان کے فیصلے آئینی درجہ پائیں تاکہ سیاست دانوں کی انا اور ذاتی مفادات راستے میں نہ آ سکیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ تھنک ٹینک کیسے بنے گا۔ سوال یہ ہے کہ قوم کب تک ان چمکدار چہروں کے پیچھے اپنا مستقبل دفن کرتی رہے گی؟ کب تک پچیس تیس کروڑ روپے کی نیلامی سے منتخب ہونے والے قانون ساز عوام کے دکھ درد کو سمجھیں گے؟ اور کب تک اس ملک کا بیٹا بیٹی باہر جا کر اپنی شناخت چھپانے پر مجبور رہے گا؟وقت آ گیا ہے کہ ہم ان لوگوں کی قدر کریں جنہوں نے کچھ کر دکھایا۔ وقت آ گیا ہے کہ سینیٹ کی کرسی خریدنے والے نہیں، بلکہ خدمات انجام دینے والے فیصلہ ساز بنیں۔ ورنہ اس قوم کی داستان بھی بس اتنی رہ جائے گی کہ یہاں سب کچھ بکتا تھا، عزت سے لے کر قانون تک۔ اور قوموں کی بقا اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب وہ اپنے اصل ہیرو بھلا دیتی ہیں۔
تھنک ٹینک کا قیام : وقت کی اہم ضرورت
09:12 AM, 11 Sep, 2025