قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش، اپوزیشن کا احتجاج

12:14 PM, 11 Nov, 2025

اسلام آباد: وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کر دیا ہے، جس کا مقصد آئینی اصلاحات اور ججز کی تقرری کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اس بل کو سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظور کیا جا چکا ہے، اور اب اس کی منظوری قومی اسمبلی سے متوقع ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس ترمیم پر اپوزیشن کا مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں بیٹھنا ضروری تھا تاکہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے فیصلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں آئینی معاملات کے لیے آئینی عدالتیں اور جوڈیشل کمیشن ہوتے ہیں، اور میثاق جمہوریت میں بھی آئینی اصلاحات کا بنیادی اصول شامل تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ میں اس بل کی حمایت میں 64 ووٹ پڑے تھے اور کسی نے مخالفت نہیں کی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کے خلاف اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم بغیر مشاورت کے کی جا رہی ہے، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

آج کے اجلاس میں اس کے علاوہ دو تعلیمی اداروں کے قیام کے حوالے سے حکومتی بل بھی پیش کیے جائیں گے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کے آئینی نظام میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں، جس میں ججز کی تقرری کا عمل بھی شامل ہے۔

مزیدخبریں