ہمارے ہاں اللہ جانے انسانوں پرندوں اور جانوروں کی جانوں کو الگ الگ کیوں تصور کیا جاتا ہے ؟ مہذب ممالک جن میں اکثر گورے ممالک ہیں وہاں جان کی اہمیت ہوتی ہے چاہے وہ انسان کی ہو کسی جانور کی یا کسی پرندے کی ہو،گزشتہ روز داتا صاحب کے سامنے پرندہ مارکیٹ کی مسماری کے دوران بے شمار پرندوں اور جانوروں کی جانیں چلی گئیں کچھ لوگوں نے اس پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا’’جس مْلک میں انسانوں کی جان کی کوئی اہمیت نہ ہو وہاں کسی پرندے یا جانور کی جان کی کیا اہمیت ہوگی ؟‘‘، اپنی طرف سے انہوں نے درست فرمایا ہوگا، مگر جان تو جان ہوتی ہے چاہے انسان کی ہو جانور کی ہو یا پرندے کی ہو، میں اس مؤقف کو درست تسلیم نہیں کرتا ’’جب ہمارے سامنے کچھ حلال پرندے یا جانور ذبح کیے جاتے ہیں ہم مزے لے لے کر اْنہیں کھاتے ہیں یا اْن کا شکار کرتے ہیں تب ہمیں ان پر رحم کیوں نہیں آتا ؟‘‘، یہ بڑا احمقانہ مؤقف ہے، ہمیں تو تب بھی رحم آتا ہے مگر ہمارے دین نے کچھ جانور اور پرندے ہم پر حلال قرار دئیے ہیں، ان حلال پرندوں اور جانوروں کے حوالے سے بھی ہمیں صلہ رحمی کا درس دیا گیا ہے، فرمایا گیا’’ان کی ضرورتوں کا خیال رکھو، جانوروں اور پرندوں کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح کرنے سے گریز کرو‘‘، ایل ڈی اے نے چند دکانوں کی مسماری کے مشن میں پرندوں اور جانوروں پر جو ظلم ڈھائے اس کا خمیازہ آئندہ مزید بدنامیوں اور ناکامیوں کی صورت میں اْسے بھگتنا پڑے گا جو بدترین بدنامیوں اور ناکامیوں کی صورت میں پہلے ہی وہ اس طرح بھگت رہا ہے کہ کوئی شخص اس کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتا، اس سے وابستہ آٹے میں نمک کے برابر افسران رزق حلال اگر کما بھی رہے ہیں کوئی اس پر یقین ہی نہیں کرتا کہ ایل ڈی اے کا کوئی افسر رزق حلال بھی کما سکتا ہے، کسی ادارے کی یہ بدنامی ایک طرح کا اللہ کا اْس پر عذاب ہی ہے، مان لیتے ہیں یہ ناجائز دکانیں تھیں، راتوں رات نوٹس دے کے یا بغیر نوٹس کے انہیں گرانا شاید اس لیے ضروری تھا کہ یہ عمل اگر فوری طور پر نہ کیا جاتا تو ستائیسویں ترمیم اس سے خطرے میں پڑ جاتی، یا پھر ممکن ہے یہ خدشہ یا خطرہ لاحق ہوجاتا’’چند دکانوں کی مسماری فوری طور پر اگر نہ کی گئی عمران خان جیل سے رہا ہو جائے گا، اس طرح کے شدید خطرات یا خدشات سے بچنے کے لیے پرندہ مارکیٹ کا وجود ختم کرنا اتنا ہی ضروری تھا اس کے لیے کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا تھا جس سے دنیا میں ہم مزید بدنامی یا جگ ہنسائی سے بچ جاتے، جو بیشمار پرندوں اور جانوروں کی ہلاکتوں کی صورت میں ہماری ہوئی ہے، میں سوچ رہا ہوں شْکر ہے مہذب ملکوں کے پرندوں اور جانوروں کو کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ نہیں ہوتا اْس کے پاس کس مْلک کی شہریت ہے ؟ اگر یہ شعورہوتا پاکستان میں تو پہلے ہی پرندے اور جانور ہم سے دْور بھاگتے ہیں، مہذب ملکوں کے پرندے اور جانور بھی کبھی ہمارے نزدیک نہ پھٹکتے، وہ بھی ہم سے اتنے مانوس نہ ہوتے کہ اْن کے بیشمار مقامات پر چڑیاں کبوتر طوطے وغیرہ ہمارے کاندھوں پر آکر بیٹھ جاتے ہیں، جیسے وہ درختوں پر بیٹھ جاتے ہیں، میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا ’’کینیڈا میں اپنے بھائی کے گھر کے لان میں بیٹھ کر میں جب ناشتہ کرتا ہوں قریب و جوار کی پہاڑیوں سے کئی ہرن میرے پاس آ جاتے ہیں، وہ میرے ساتھ ناشتہ کرتے ہیں، کچھ وقت میرے ساتھ گزار کے میرا وقت اچھا کر کے واپس چھلانگیں لگاتے ہوئے پہاڑیوں میں گم ہو جاتے ہیں، اْنہیں اگر یہ معلوم ہو جائے میرا تعلق پاکستان سے ہے، جس کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت کا ایک ادارہ ایل ڈی اے پرندوں اور جانوروں پر ظلم کی انتہا کر دیتا ہے وہ شاید میرے قریب بھی نہ پھٹکیں، ایک بدکار عورت کی بخشش صرف اس لیے کر دی گئی تھی ایک بار وہ ایک کنویں کے قریب سے گزری اْس نے دیکھا ایک کتا پیاس سے مرا جا رہا ہے، اْس نے ادھر اْدھر دیکھا کنویں سے پانی نکالنے کے لیے کچھ نہیں تھا، اْس نے اپنا موزہ اْتار کر اپنے اوڑھنی ( چادر ) سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ عمل بارگاہ الٰہی میں اتنا مقبول ہوا صرف اسی عمل کی وجہ سے اْس کی بخشش فرما دی گئی، ایل ڈی اے کے کچھ راشی اور ظالم افسروں کی توجہ صرف حرام کمائی کی طرف رہتی ہے یا ظالم حکمرانوں کے ہر جائز ناجائز حکم آنکھیں بند کر کے تعمیل کرنے پر رہتی ہے ورنہ یہ واقعہ بھی کہیں نہ کہیں اْنہوں نے ضرور پڑھا ہوتا’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت کو صرف ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا، اْس نے اْس بلی کو کسی جگہ بند کر دیا تھا یہاں تک کہ وہ بھوکی مر گئی‘‘، بیسیوں دکانوں کو مسمار کر کے ایل ڈی اے اور حکمرانوں نے بے شمار غریب لوگوں کی جو بد دعائیں لیں وہ تو پتہ نہیں اْنہیں لگتی ہیں یا نہیں یا اللہ جانے کب لگتی ہیں ؟ مگر جو ظلم اْنہوں نے کچھ بے زبان پرندوں اور جانوروں پر کیا جس کے نتیجے میں اْن کی ہلاکتیں ہوئیں یہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گا، ایل ڈی اے کا جو افسر، جو کارندہ یا درندہ اس آپریشن میں شریک ہوا وہ عنقریب ایک بڑے عذاب سے دوچار ہوگا، یہ کوئی بہت ہی بدبخت بے حس اور ظالم حکمران ہیں اور ایسے ہی اْن کے ماتحت کچھ ادارے بھی ہیں جنہیں انسانوں پرندوں اور جانوروں کی جانیں لیتے ہوئے ذرا احساس نہیں ہوتا قدرت اس کا کیا بدترین انتقام ان سے لے سکتی ہے ؟‘‘، کینیڈا میں ایک دوست نے مجھ سے کہا ’’کل تمہارے اعزاز میں پاک کینیڈا بزنس کونسل کی طرف سے جو عشائیہ ہے میں اْس میں اس لئے نہیں آسکوں گا کہ کل میرے گھر کی شفٹنگ ہے‘‘، اگلے روز وہ آگیا میں نے اْس سے پوچھا ’’آج تو تمہارے گھر کی شفٹنگ تھی ؟‘‘، وہ بولا’’گھر شفٹ کرنے سے پہلے یہاں تین محکموں کے این او سی لینا پڑتے ہیں، ایک محکمہ جو جانوروں اور پرندوں کے تحفظ کا ہے اْس نے این او سی ایک دو دنوں کے لئے صرف اس لئے روک دیا ہے کہ میرے نئے گھر کے ایک کمرے میں چڑیا کا ایک گھونسلہ ہے جس میں اْس کے بچے ہیں، اس محکمے نے کہا ہے’’جب تک ہم یہ گھونسلہ کسی محفوظ مقام پر منتقل نہیں کرلیتے آپ شفٹنگ نہیں کرسکتے‘‘،یہ ہوتے ہیں مہذب مْلک اور معاشرے جن کے حکمران اور ادارے ایل ڈی اے جیسے نہیں ہوتے، چنانچہ آپ خود دیکھ لیں اْن مْلکوں اور معاشروں میں کتنی برکتیں ہیں، اور ہمارے ہاں کتنی لعنتیں ہیں۔
پرندے اور درندے
09:21 AM, 11 Nov, 2025