میں نے مریم نواز سے کہا ’’مجھے آپ کے اندر ایک سیاست دان نظر آرہا ہے ‘‘ مریم نواز نے جواب دیا ’’مجھے سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں نہ میرا ایسا ارادہ ہے بلکہ سیاست تو میرے لیے NIGHT MARE(ڈراؤنا خواب) ہے ‘‘ (یہ بات ہفت روزہ تکبیر میں شائع ہوچکی ہے ) یہ گفتگو اس ماحول میں ہوئی جب میاں نوازشریف جیل میں تھے ، میاں شہباز شریف اور حسن نواز شریف نامعلوم مقام پر تھے۔ اور کیپٹن صفدر بھی نذر زنداں تھے میاں شریف ، بیگم کلثوم نواز اورمریم نواز جاتی عمرہ میں نظربند تھے چھوٹے بھائیوں جیسے فرخ شاہ مجھے جاتی عمرہ کے بچوں کا عربی ٹیچر کا روپ دے کر کئی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے حصار میں سے نکال کر اندر لے گئے اس طرح بچوں کو سپارہ پڑھانے کی آڑ میں دوسرے تیسرے دن جاتی عمرہ کے اندر جانے کی راہ ہوگئی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا مریم نواز کو سیاست میں دلچسپی لینی پڑی بلکہ عملی سیاست میں کردار ادا کرنا پڑ گیا۔ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن کر وہ کارہائے منفرد انجام دیئے جو تاریخ ساز بن گئے اس طرح مریم کے نزدیک وہ سیاست جو NIGHT MAREڈرانا خواب تھی پنجاب کے عوام کے BIRGT MARE(سنہرا خواب) بن گئی۔
1984ء کا ذکر ہے اسلام آباد میں روزنامہ مرکز کے مالک وچیف ایڈیٹر مقیم احمد خان جن کا بلیو ایریا میں ریسٹورنٹ بھی ہے اور راولپنڈی کی طلباء سیاست بھی نمایاں رہے ہیں لاہور آئے ہوئے گھومتے گھومتے مال روڈ کے ساتھ نہر کی نکل گئے اچانک کسی خیال کے تحت چونکنے والے انداز میں کہا۔ اگر حکومت اجازت دے تو میں اس نہر میں فلوٹنگ ریسٹورنٹ بنادوں، گورنر جیلانی کی حکومت نے اجازت نہیں دی اور مقیم احمد خان کا ’’خیال‘‘ عملی شکل اختیار نہ کرسکا برسوں بعدیہ بات یوں یاد آئی جب پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے مریم نواز کے بہت خوبصورت اور منفرد منصوبے شپ ریسٹورنٹ کا اعلان کیا۔ اس نہر میں تیرتے ریسٹورنٹ میں ایک وقت دوسو افراد لذت کام ورہن سے لطف اندوز ہوسکیں گے میرا خیال ہے پیرس کے ایفل ٹاور پر قائم ریسٹورنٹ کی طرح اس میں بھی بیٹھنے کا وقت مقرر ہوگا۔ شپ ریسٹورنٹ پنجاب کیا پورے پاکستان میں پہلا منفرد منصوبہ ہے جس سے لاہور کی شہری حیثیت میں بھی اضافہ ہوگا۔
(پولیٹیکل سائنس کی طالبہ سکینہ سومرو نے کہا ’’انکل آپ میری طرف سے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کا دووجہ سے شکریہ ادا کردیں اور وہ پنجاب میں جو کچھ کررہی ہیں پنجاب کے عوام کو مبارکباد دے دیںِ‘‘ٹھیک ہے وہ وجوہ کیا ہیں، انکل پہلی وجہ یہ ہے مریم نواز جو کچھ پنجاب میں کررہی ہیں اس سے سندھ کے لوگوں میں اپنے صوبے میں بھی ایساکچھ ہونے کا احساس بڑھ رہا ہے اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے کرتا دھرتا ایسے کام کرنے کے اعلانات کرنے لگے ہیں اس وجہ سے مریم نواز کا شکریہ۔
دوسری وجہ انکل، یہ اپنے صوبے کیلئے وہ دن رات جانفشانی سے کام کررہی ہیں اورپنجاب جس تیزی سے ترقی کررہا ہے جس طرح وہاں تعمیر وترقی کے باب روشن ہورہے ہیں اس پر پنجاب کے لوگوں کو مبارک باد دینا بنتا ہے جہاں تک میری تھوڑی سی معلومات کا تعلق ہے قیام پاکستان سے اب تک پنجاب میں جتنے وزیراعلیٰ آئے سب سے زیادہ کام وزیراعلیٰ کی حیثیت میں میاں شہباز شریف نے کئے جبکہ مریم نواز تو ان سے بھی بازی لے گئی پھر یہ پنجاب نہیں بلکہ پاکستان بھر کی خواتین کیلئے بھی فخر کی بات ہے کہ پہلی خاتون وزیراعلیٰ نے خود کو وثرنری باصلاحیت اور کامیاب وزیراعلیٰ ثابت کیا ہے ۔ جس نے اب تک پنجاب کے تمام سابق وزراء اعلیٰ کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ، دیکھو میں یہ سب لکھ دوں گا تو تمہارے بھائی ٹھکائی کردیں تمہارے منہ سے ان جیالوں کو مریم کی تعریف برداشت نہیں ہوگی (ہنستے ہوئے) انکل وہ تو ان سے بالکل سب سے چھوٹے بھائی سے تو ہرروز منہ ماری ہوتی ہے دراصل اس کے اندر سندھی قوم پرستی کے جراثیم زیادہ ہوگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایاز لطیف پلیجو کا بھی زبردست حامی ہے۔ ٹھیک ہے یہ ازراہ تفنس بات تھی میری ذاتی رائے یہ ہے کہ مریم کی کامیابی اس کا عورت ہوناہے اگر کوئی عورت سلیقہ مند ، سگھڑ اور فہم وفراست کی مالک ہو تو وہ گھر کا انتظام بڑی خوبی سے چلاتی ہے ہرچیز کا دھیان رکھتی ہے گھر کی زیب وزیبائش کے ساتھ ساتھ گھرلوگوں کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کا بھی خیال رکھتی ہے میں سمجھتا ہوں مریم صوبے کو ذاتی گھر کی طرح چلارہی ہے ۔ ویسے ایک خیال میرے ذہن میں آیاہے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ، سینئر وزیر شرجیل میمن سمیت دیگر حکومتی عہدیدار کچھ بھی کریں وہ ان کی سیاسی ترقی کا ذریعہ نہیں بنتا۔ ان سب کیلئے سندھ کا بڑا لیڈر بننے کا دروازہ مکمل طورپر بند ہے، ارے وہ کس طرح، انکل سیدھی سی بات ہے یہ بچارے کچھ بھی کریں اپنی ساری ذہانت، تعمیر وترقی کی سوچ اور جذبہ سب بلاول کے کھاتے میں اور کچھ آصفہ کے کھاتے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ اپنے تمام تر کئے گئے کاموں کا کریڈٹ بلاول اور آصفہ کو دینا پڑتا ہے یعنی جیسے خود ان میں کوئی جذبہ ہے نہ کوئی سوچ ہے بلکہ صرف وہی کچھ کرتے ہیں جس کی ہدایت یا حکم بلاول اور آصفہ کی طرف سے آتا ہے جبکہ پنجاب میں مریم جوکچھ کررہی ہیں اس کا تمام تر کریڈٹ مریم کو ہی مل رہا ہے دیکھو پہلی بات پر تو شاید نہیں مگر یہ پڑھ لیا تو شبیر سومروتمہاری ضرور ٹھکائی کرے گا۔
NIGHT MAREسے BRIGHT MARE کا سفر!
09:20 AM, 11 Nov, 2025