عدلیہ اور آئین کا باہمی رشتہ ایک ایسی دلکش ہم آہنگی کی مانند ہے جہاں قانون کی روح اور انصاف کی ضمیر ایک دوسرے میں یوں گُندھ جاتے ہیں جیسے لفظ اور معنی۔ آئین قوم کے اجتماعی عہد و پیمان کا نام ہے، جو ہر شہری کے حقوق و فرائض کا چراغ جلائے رکھتا ہے، جبکہ عدلیہ اُس چراغ کی لو کو تیز رکھنے والی وہ مقدس نگہبان ہے جو ظلمت میں بھی انصاف کی روشنی کو ماند نہیں پڑنے دیتی۔ جب آئین اپنی زبان سے اصول بیان کرتا ہے تو عدلیہ اُن اصولوں کو زندگی کے سانچے میں ڈھالتی ہے، یوں یہ امتزاج محض قانونی بندوبست نہیں بلکہ ایک فکری و اخلاقی رشتہ ہے جو قوم کی اخلاقی قامت کو بلند کرتا ہے۔ درحقیقت، عدلیہ اور آئین کا حسین امتزاج ایک ایسے معاشرے کی ضمانت ہے جہاں طاقت نہیں بلکہ انصاف بالادست ہوتا ہے، اور ہر دل میں قانون کی حرمت ایمان کی مانند جاگزیں رہتی ہے۔
اسی طرح آئین پاکستان ایک جیتا جاگتا معاہدہ ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان توازن کا ضامن ہے۔ اس آئین نے وقت گزرنے کے ساتھ کئی ادوار میں تبدیلیاں دیکھی ہیں ۔ کبھی طاقت کے مرکز میں جھول، کبھی ادارہ جاتی کشمکش تو کبھی عدلیہ و انتظامیہ کے درمیان حدود کا تعین۔ اب جو 27ویں آئینی ترمیم زیرِ بحث ہے، اس کے گرد بھی شور و غوغا، الزامات اور پراپیگنڈے کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ کیا یہ ترمیم کسی کے اختیار پر قبضے کی کوشش ہے یا ادارہ جاتی توازن کا ایک ناگزیر ارتقائی مرحلہ؟۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ترمیم کسی طاقت کے چھیننے کا نہیں، بلکہ اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کا عمل ہے۔ ایک اہم مقصد آئینی عدالت کا قیام ہے جو آئینی تنازعات کا فوری اور ماہرین کی سطح پر حل فراہم کرے گی۔ اس سے سپریم کورٹ اپنی اصل آئینی ذمہ داری یعنی اپیلوں، نظائر اور آئینی تشریحات پر بہتر توجہ دے سکے گی۔یہ
تبدیلی کسی تصادم نہیں بلکہ تقسیمِ کار کی شفاف وضاحت ہے ،جیسے ہر جدید جمہوریت میں اعلیٰ عدالتیں آئینی اور عمومی عدالتی دائرہ اختیار میں توازن رکھتی ہیں۔بعض حلقوں میں یہ گفتگو زیر بحث ہے کہ یہ ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرے گی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عدلیہ تبھی آزاد ہو سکتی ہے جب اس کے اندر تعیناتی اور تبادلے کا نظام شفاف، میرٹ پر مبنی اور غیر سیاسی ہو۔ پسند و ناپسند کی فضا، خفیہ تعلقات اور غیر رسمی دباؤ وہ زنجیریں ہیں جو انصاف کو غلام بناتی ہیں۔اس ترمیم کا ایک بنیادی اصول یہی ہے کہ ججوں کی تقرری، ترقی اور مدتِ کار کو واضح اصولوں کے تحت منضبط کیا جائے تاکہ آزادی کسی رعایت کے بجائے ایک تسلیم شدہ ضابطہ بن جائے۔
ایک اور منفی تاثر یہ بھی پیدا کیا جا رہا ہے کہ 27ویں ترمیم صوبائی خودمختاری کو واپس لے جائے گی اور اٹھارویں ترمیم کو کمزور کرے گی۔ مگر ترمیم کا اصل مقصد مالی توازن ہے، مرکزیت نہیں۔ این ایف سی ایوارڈ میں نظرِ ثانی دراصل آمدن اور اخراجات کے درمیان متوازن تقسیم کا معاملہ ہے تاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے مالی اختیارات کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں ۔اب یہ تاثر دینا کہ آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم فوج کو سیاسی بنائے گی، محض مفروضہ ہے۔ جدید دفاعی حکمتِ عملی کا تقاضا ہے کہ عسکری اور سول اداروں کے درمیان بہتر ین ہم آہنگی قائم ہو تاکہ قومی سلامتی کے چیلنجز کا متحد ہو کر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس ترمیم کا مقصد کمان کے ڈھانچے کو بدلنا نہیں بلکہ اس ہم آہنگی کے آئینی خدوخال کو واضح کرنا ہے تاکہ ہر ادارہ اپنی حد میں رہتے ہوئے قومی پالیسی کے تسلسل کا حصہ بنے۔
پاکستان میں انتخابی تنازعات اور کمیشن کی ساکھ پر بار بار سوال اٹھتے رہے ہیں۔ یہ ترمیم الیکشن کمیشن کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنائے گی کیونکہ اس میں تعیناتی کا واضح نظام، ٹائم لائن اور غیر جانبدار نامزدگی کا طریقہ شامل کیا جا رہا ہے۔ جب ادارے کے اندر فیصلہ سازی غیر سیاسی بنیادوں پر ہوگی، تو اس کی خودمختاری مزید مضبوط ہوگی۔ جمہوریت کا تسلسل اسی وقت ممکن ہے جب الیکشن کمیشن تمام جماعتوں کے اعتماد کا مرکز بنے۔ کچھ ناقدین نے مجسٹریٹ کے اختیارات کی جزوی بحالی کو "پرانے نظام کی واپسی" قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ محدود اور محفوظ انتظامی اصلاح ہے۔ چھوٹے تنازعات اور عوامی نوعیت کے مقدمات کے فوری فیصلے کے لیے مجسٹریسی نظام عدالتی نگرانی میں بحال کیا جا رہا ہے۔ مقصد انصاف کو مؤخر کرنا نہیں بلکہ قریب لانا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں چھوٹے جھگڑے برسوں عدالتوں میں لٹکے نہ رہیں بلکہ چند دنوں میں حل ہو جائیں ۔یہی عدالتی اصلاح کا اصل مقصد ہے۔
فرانس اور جرمنی میں عدالتی کونسلیں خود یہ نظام چلاتی ہیں، جنوبی کوریا میں سپریم کورٹ نگرانی کرتی ہے، جاپان، بھارت، بنگلہ دیش اور برطانیہ میں جج ہر چند سال بعد مختلف علاقوں میں تعینات کیے جاتے ہیں تاکہ انصاف کی غیر جانبداری برقرار رہے۔ پاکستان میں اگر یہی اصول اپنایا جائے تو یہ کسی سازش نہیں بلکہ شفافیت کی مضبوط بنیاد ہوگی۔یہ کہنا کہ یہ ترمیم "نظام بدلنے والی انقلابی ترمیم" ہے، درست نہیں۔ یہ انقلاب نہیں، ارتقا ہے۔ آئینی ڈھانچے کی تکمیل کا اگلا فطری مرحلہ ہے۔ ایک ایسا مرحلہ جس میں ریاست کے تمام ستون اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے مؤثر اور جوابدہ بنیں۔ اس کا مقصد اقتدار کا ارتکاز نہیں بلکہ کارکردگی کا استحکام ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے اور اسے وقت کے ساتھ سانس لینا اور بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوتا ہے۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ آئین کی یہ ترمیم شاید فوری طور پر مقبول نہ ہو، مگر آنے والے وقت میں یہی تبدیلی پاکستان کے ادارہ جاتی استحکام، عدالتی شفافیت اور جمہوری اعتماد کی بنیاد بنے گی۔ قوموں کی ترقی ان کے فیصلوں میں نہیں بلکہ ان فیصلوں کے پیچھے موجود نیت میں پوشیدہ ہوتی ہے — اور اگر نیت اداروں کو مضبوط بنانا ہے تو یہی ارتقا دراصل آئینی نجات کا راستہ ہے۔
27 ویں آئینی ترمیم … ارتقا کا سفر
09:19 AM, 11 Nov, 2025