اسلام آباد: پاکستان میں انتخابی انصاف کی فراہمی کا عمل بری طرح سست روی کا شکار ہے، جہاں عام انتخابات 2024 کو دو سال مکمل ہونے کے باوجود 34 فیصد سے زائد انتخابی عذرداریوں پر فیصلے نہیں ہو سکے۔
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی اپریل 2026 تک کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے واضح حکم کے باوجود کہ تمام انتخابی درخواستوں کا فیصلہ 180 دن میں ہونا چاہیے، اب تک 374 میں سے 128 درخواستیں التوا کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں صوبائی سطح پر کارکردگی کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق بلوچستان سب سے نمایاں ہے یہاں ریکارڈ 94 فیصد درخواستیں نمٹائی جا چکی ہیں۔ پنجاب میں 77 فیصد اور خیبر پختونخوا میں 60 فیصد مقدمات کے فیصلے ہوئے۔ سندھ میں صرف 29 فیصد درخواستیں نمٹائی جا سکیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کسی ایک درخواست پر بھی تاحال فیصلہ نہیں ہو سکا۔
ٹربیونلز کے فیصلوں کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لٹک گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹربیونلز کے 246 فیصلوں میں سے 123 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ میں اب تک صرف 18 اپیلوں پر فیصلہ سنایا گیا ہے۔ 105 اپیلیں آج بھی عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ سماعت ہیں۔
فافن نے انتخابی مقدمات کے ریکارڈ تک عوامی رسائی نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانونی وقت کی حد گزرنے کے باوجود فیصلوں میں تاخیر اور ریکارڈ کی عدم دستیابی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔
دو سال بعد بھی 2024 کے انتخابات کی 128 درخواستیں حل نہ ہو سکیں:فافن کی رپورٹ میں ا نکشاف
08:04 PM, 11 May, 2026