نیویارک: امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری تعطل ختم کرنے کے لیے یورینیم کی افزودگی عارضی طور پر معطل کرنے کی اہم پیشکش کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا یہ سفارتی جواب پاکستان کی وساطت سے واشنگٹن تک پہنچایا گیا ہے، جس میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کئی تجاویز شامل ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان برف پگھلانے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ ایران کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہیں۔
ایران نے یورینیم کی افزودگی روکنے کا اشارہ تو دیا ہے لیکن واضح کیا ہے کہ وہ اپنی جوہری تنصیبات کو ختم کرنے کا امریکی مطالبہ تسلیم نہیں کرے گا۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ ان پر عائد معاشی پابندیاں ختم کرے اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔ اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز کو تجارتی آمد و رفت کے لیے مرحلہ وار کھولنے اور جنگ بندی پر تیار ہے۔ تہران نے تجویز دی ہے کہ جوہری تنازع کے تمام پہلوؤں پر آئندہ 30 روز کے اندر باقاعدہ مذاکرات شروع کیے جائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
عالمی مبصرین اس پیش رفت کو ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں، جہاں پاکستان کی ثالثی نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔چ
ایران کا جوہری پروگرام پر لچک دکھانے کا فیصلہ: پاکستان کے ذریعے امریکہ کو 'امن فارمولا' پیش
12:28 PM, 11 May, 2026