مئی کا مہینہ آتے ہی تاریخ کے اوراق پلٹنے لگتے ہیں اور ذہن کے پردے پر چاغی کے ان سنگلاخ پہاڑوں کی تصویر ابھرتی ہے جنہوں نے ”یومِ تکبیر“ کی صورت میں پاکستان کو عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بننے کا اعزاز بخشا تھا۔ حال ہی میں مجھے ایران سے واپسی پر تفتان کی سرحد سے بلوچستان کے قلب تک سفر کا موقع ملا، جو کہ محض ایک سفر نہیں بلکہ اس صوبے کے سحر انگیز قدرتی حسن اور وہاں کے جفاکش لوگوں کے احوال جاننے کا ایک نادر ذریعہ ثابت ہوا۔ پاکستان ہاو¿س میں کانوائے کے انتظار کے دوران بلوچستان کی تپتی ہواو¿ں میں جو اپنائیت محسوس ہوئی، وہ بیان سے باہر ہے۔ جب ہمارا سفر سکیورٹی کے حصار میں شروع ہوا تو تفتان سے نوکنڈی اور دالبندین کے راستے قدرت کے وہ شاہکار سامنے آئے جنہیں دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سڑک کے دونوں اطراف پھیلے ہوئے وسیع و عریض ریگزار، دور افق تک جاتی ہوئی زمین اور کہیں کہیں ابھرتے ہوئے تانبے جیسی رنگت والے پہاڑ اس خطے کی خاموش عظمت کا پتہ دیتے ہیں۔ چاغی کی حدود میں داخل ہوتے ہی وہ تاریخی پہاڑی سلسلے نگاہوں کے سامنے آئے جن کے سینے میں پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی داستانیں رقم ہیں۔ یہاں کے بلند و بالا پہاڑ جہاں ہیبت ناک ہیں، وہیں ان کے سائے میں چھپی خاموشی اور وقار سیاحت کے لیے ایک الگ ہی کشش رکھتے ہیں۔ سفر کے دوران جب ہم ٹکڑی دل مراد، ضلع نوشکی اور احمد وال کے علاقوں سے گزرے تو قدرتی مناظر کی تبدیلی نے سفر کی تھکن کو مٹا دیا۔ بلوچستان کے پہاڑ صرف پتھر نہیں بلکہ یہ رنگوں کا ایک مجموعہ ہیں؛ کہیں یہ سیاہ ہیں تو کہیں زرد اور مٹیالے، جو سورج کی روشنی میں اپنی رنگت بدلتے محسوس ہوتے ہیں۔ پنچ پائی کراس اور چلتان چیک پوسٹ کے گرد و نواح میں پھیلے ہوئے قدرتی مناظر اور صاف شفاف نیلا آسمان اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اگر ان علاقوں کو دنیا کے سامنے متعارف کرایا جائے تو یہ بین الاقوامی سیاحت کا مرکز بن سکتے ہیں۔ لکپاس کے مقام پر پہاڑوں کے درمیان سے گزرتا ہوا راستہ کسی فلمی منظر سے کم نہیں، جہاں سے وادیِ کوئٹہ کا نظارہ شروع ہوتا ہے۔ اکبر آباد سے گزرتے ہوئے جب ہم سریاب روڈ کی گہما گہمی میں داخل ہوئے تو کوئٹہ کی ٹھنڈی ہواو¿ں نے استقبال کیا۔ تین سال قبل کے مقابلے میں اس بار بازاروں میں زیادہ رونق، چہروں پر اطمینان اور سڑکوں کے گرد و نواح میں سکولوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ ترقی کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے جوان، جو ان کٹھن راستوں پر سینہ سپر ہو کر فرائض انجام دے رہے ہیں، ان کی قربانیوں کی بدولت ہی آج ایک عام مسافر تفتان سے کوئٹہ تک بلا خوف و خطر سفر کر سکتا ہے۔ بلوچستان کی اس اہمیت اور خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہے کہ یہ صوبہ ہمارے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاہم، اس جھومر کی اصل چمک تبھی ہو گی جب یہاں کی صنعتوں کو فروغ ملے گا اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھلیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی بڑی صنعتوں کو ان پسماندہ علاقوں کی طرف منتقل کریں تاکہ یہاں خوشحالی آئے۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہر سکیورٹی پوسٹ پر ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور سرویلنس سسٹم کا قیام ناگزیر ہے تاکہ قیامِ امن میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ کیڈٹ کالجز اور یونیورسٹیوں کا قیام اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہاں کے ٹیلنٹ کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی گزرگاہوں کا فروغ اور اقتصادی معاہدات بلوچستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ یہاں کے قدرتی وسائل، چاہے وہ معدنیات ہوں یا سیاحتی مقامات، ان پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہے۔ جب ہم ان بلند و بالا پہاڑوں کی آغوش میں رہنے والے بلوچی بھائیوں کو تعلیم، صحت اور تجارت میں سہولیات دیں گے، تو وطنِ عزیز کا یہ حصہ واقعی امن کا گہوارہ بن جائے گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان حسین وادیوں کی حفاظت کریں اور ریاست کے ساتھ مل کر بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
بلوچستان: چاغی کے پہاڑوں سے کوئٹہ کی وادیوں تک
09:05 AM, 11 May, 2026