مجھے یقین ہے میرا قتل ہو جائے گا 

09:04 AM, 11 May, 2026

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ نہیں ہے کہ عورت مارچ میں میرا جسم میری مرضی کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔ بلکہ در حقیقت ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم میرا جسم میری مرضی کی نظریاتی اساس نہیں سمجھ پائے۔ میں مانتی ہوں ہر سال کچھ اخلاق سوز پلے کارڈ آویزاں کیے جاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی انسان سے اس کا جینے کا حق چھین لیا جائے۔ دنیا کا کوئی مذہب، دنیا کی کوئی تہذیب کسی جیتے جاگتے زندہ انسان کی سانسوں کی ڈور کاٹنے کے حق میں نہیں اور جس مذہب کے ہم پیروکار ہیں وہاں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ پھر سنن ابن داو¿د 185:2 میں درج ہے کہ اپنی عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی طرف بطور امانت لیا ہے۔ پھر سورة النسا 4:34 نے بیویوں کے حوالے سے ایک پورا لائحہ عمل دیا ہے کہ اگر وہ خیانت کریں تو انہیں ان ان طریقوں سے سلجھایا جائے۔
1973 کے آئین کا آرٹیکل 9 ہر شخص کو جینے کا حق دیتا ہے اور واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ کسی شخص سے اس کی زندگی اور آزادی نہیں چھینی جا سکتی، آرٹیکل 19 اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے۔ پھر پاکستان UDHR کا دستخط کنندہ ہے۔ جس کا آرٹیکل 3 ہر شخص کی زندگی، آزادی اور تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے۔ ان سب دلائل کی روشنی میں آپ اس کرب کا اندازہ لگائیں کہ جب ایک عورت بڑے دل سے یہ کہے کہ مجھے یقین ہے کہ میرا قتل ہو جائے گا اور پھر اس کا واقعی قتل ہو جائے تو آپ اس ساری صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟ وہ زخموں سے چور چور پولیس کے پاس پہنچی تھی، وہ دارالامان جانا 
چاہتی تھی، لیکن پھر باپ نے اپنی پگڑی کے عوض اس کی جان مانگ لی اور کمال یہ ہوا کہ اس نے جان دے دی۔
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی آفیشل رپورٹ کے مطابق 2024 میں 405 عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ یعنی 405 انسانوں سے ان کا جینے کا حق چھین لیا گیا، ریاست جو کہ ماں ہوتی ہے اس نے ان 405 جانوں کے حق کا بدلہ کب لیا؟ کس سے لیا؟ کیونکہ جب جب غیرت کے نام پہ کسی عورت کا قتل ہوا ہے تب تب اسی کے لواحقین نے قاتل کو معاف کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے بقول پاکستان میں ہر سال ہزار عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ڈیٹا کے مطابق 2024 میں پانچ سو سے زائد خواتین کو غیرت کے نام پہ قتل کیا گیا، اور یہ صرف وہ تعداد ہے جو رپورٹ کی گئی، جو کیسز رپورٹ نہیں ہوئے ان کی تعداد شاید اس کے دوگنی یا چوگنی ہو گی۔
ورلڈ اکنامک فارم کی جینڈر گیپ رپورٹ 2025 نے پاکستان کو 148 ممالک میں سب سے آخری نمبر پر درج کیا ہے۔ اور کیوں نہ آئے پاکستان آخری نمبر پر 2024 میں 5339 ریپ ہوئے، 24439 خواتین اغوا ہوئیں، 2238 کو گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یہ میں نہیں کہہ رہی SSDO کی آفیشل رپورٹ کہہ رہی ہیں اور میں دوبارہ عرض کر رہی ہوں کہ یہ وہ کیسز ہیں جو رپورٹ کیے گیے، جن کا اندراج ہوا، جن کا اندراج نہیں ہوا وہ اللہ جانے تعداد میں کتنے ہیں۔ تو جب اس کے جسم سے اس کی جان اس کی مرضی کے بنا نکال لی جائے، اسے مارا پیٹا جائے، اسے روند دیا جائے، تو کیوں نہ کہے وہ کہ میرا جسم میری مرضی؟ جب اس کے مذہب نے اسے یہ حق دیا تو آپ اور میں کون ہوتے ہیں اس سے یہ حق چھیننے والے؟ بطور بیوی نہیں قبول؟ چھوڑ دو، اذیت تو نہ دو، اور ابھی ذہنی اذیت اور کرب کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہے، بے بسی کی اللہ جانے کونسی منزل پہ تھی وہ عورت جب کیمرے میں آنکھیں ڈال کر دل پر پتھر رکھ کر اس نے کہا مجھے یقین ہے میرا قتل ہو جائے گا، وہاں مجھے کوئی بے بس لاچار کھڑی عورت نظر نہیں آئی مجھے سقراط نظر آیا، جس نے ایک تنفر سے دنیا کو دیکھا، اطمینان سے زہر کا پیالہ اٹھایا اور ہونٹوں سے لگا لیا۔ اس کی اس ایک ادا نے ہزاروں سوال داغ دئیے۔ ریاست کی ماں جیسی آغوش کی عدم موجودگی پہ، اداروں کی کارکردگی پہ اور سب سے بڑھ کر ایک مردہ قوم کے مردہ ضمیر پہ .... ہم زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں، آواز بلند کر سکتے ہیں کہ کوئی سی سی ڈی سندھ دھرتی میں بھی جنم لے، شاہ عبد الطیف بھٹائی کی سندھ دھرتی، کہ جو کہہ گئے
اَکِیون مُنھن میھارَ دی، رَکیُون جن جوڑی؛
رِئَ سَندَ، سَیدُ چئی، تارِِ گھرِن توڑی؛
تنین کی بوڑی، سائِرُ سَگھی کِین کِی.
وہ سندھ دھرتی جہاں سے سیما کرمانی اور شہزادی رائے کو اٹھا لیا جائے۔
لیکن دکھ کی بات تو یہ ہے کہ محبتوں کی مٹی سے گندھی سندھو دھرتی کی تاریخ میں صرف سچل سرمست کا پیامِ محبت نہیں ملتا نا، راجہ داہر کی بیوہ اور دیگر شاہی زنان کا یہ ہیجانی حکمران سے شکست کے بعد بہت شان سے آتش میں اُتر جانا بھی سندھ کی ہی تاریخ ہے۔
اور پھر صرف سندھ ہی کیوں؟ پنجاب کیوں نہیں جہاں فتح شاہ پولیس سٹیشن میں پانچ مئی کو ایک ایف آئی آر درج ہوئی اور پھر چک 41/Kb سے انسانیت کے نام پہ ایک دھبے کو گرفتار کیا گیا۔ ہمیں معاشرے کے ان ناسور مہیش وروں کے لیے اِک دُرگا ماں چاہیے۔ ہمیں اک مسیحا چاہیے۔۔۔ ہمیں جینے کا حق چاہیے۔۔۔۔

مزیدخبریں