امریکہ کا ایران کو دوٹوک جواب، صدر ٹرمپ نے امن تجاویز مسترد کر دیں، خطہ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں

09:15 AM, 11 May, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دیے گئے جواب کو "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس سخت موقف نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
    ٹرمپ کی برہمی: امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ انہیں ایران کی طرف سے موصول ہونے والا جواب بالکل پسند نہیں آیا۔ انہوں نے تہران کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا، "میں نے ایران کے نام نہاد نمائندوں کا جواب پڑھا ہے، یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس دوٹوک انکار کے بعد بین الاقوامی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خطے میں فوجی تناؤ اور کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے جنگ بندی کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔
 ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کو مسترد کیے جانے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس سخت لہجے نے عالمی برادری، بالخصوص ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں عدم استحکام کی نئی لہر پیدا ہونے کا امکان ہے۔

مزیدخبریں