ہندوستان نہیں مودی کا قبرستان

09:41 AM, 11 May, 2025

پاک فوج کے سرپرائزسے مودی اورموذی دونوں قسم کے لوگوں کوافاقہ ہواہوگا،امیدہے کہ موذی جی کے دماغ اب ٹھکانے آئے ہوں گے ۔ویسے مودی کی آتماکوٹھنڈاکرنے کے بعد ہم پھربھی کہتے ہیں کہ ہم جنگ نہیں امن والے لوگ ہیں،ہمیں ہمارے دین نے ہمیشہ امن کی تعلیم دی ہے جنگ کی نہیں۔یہ حقیقت جاننے کے باوجودکہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے پھربھی ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ دنیامیں جنگ نہیں امن قائم ہوکیونکہ اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے ہمیں جنگ نہیں امن وعافیت مانگنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگو۔دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اورتمنادل میں نہ رکھنا بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن وعافیت کی دعامانگ لیا کرو۔ ہمیں یقین ہے کہ مسلمان کیا۔؟ انسانیت سے محبت کرنے والاکوئی غیرمسلم بھی جنگ کی تمنا نہیں کرتا ہو گاکیونکہ جنگ سے جو تباہی ہوتی ہے صدیوں بعدبھی پھراس کا ازالہ نہیں ہوتا۔یہ بات کنفرم ہے کہ مسلمان نہ جنگ چاہتے ہیں اورنہ ہی جنگ کی تمنااورخواہش رکھتے ہیں لیکن مودی اورموذی جیساامن اورانسانیت کاکوئی دشمن اگرزورزبردستی مسلمانوں پرکوئی جنگ مسلط کرناچاہتاہے تو پھر مسلمان میدان سے بھاگتے نہیں بلکہ پاک فوج کے شاہینوں کی طرح نعرہ تکبیر(اللہ اکبر)کی صدا بلندکرتے ہوئے دشمن کے سامنے سینہ تان کرکھڑے ہوتے ہیں۔بھارت کے موذی نے شائدمسلمانوں کی تاریخ نہیں پڑھی۔ اس لئے اسرائیل ودیگرمسلم دشمن قوتوں وطاقتوں کی ایماء اورتھپکی پریہ بندرکی طرح اچھل اچھل کرنہ صرف جنگ کاراگ الاپ رہے ہیں بلکہ رات کی تاریکی میں پیٹھ پیچھے وارکرکے جنگی آگ کوہوابھی دے رہے ہیں۔رات کے اندھیرے میں وارکرنایہ توبزدلوں اوربے غیرتوں کاکام ہے۔جنگ اس طرح لڑی جاتی ہے جس طرح پاک فوج کے جوانوں نے دن کے اجالے میں بھارت کے اندر گھس اور لڑ کر دکھائی۔شب کی تاریکی میں پاکستانی آبادی کو نشانہ بنانے والے موذی اگر صرف افغانستان، کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی ہی تاریخ سے واقف ہوتے توبھی اس کوکافی افاقہ ہوتا۔ حضرت خالدبن ولیدؓ،صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم اورٹیپوسلطان جیسے مسلم شیروں کی تاریخ پڑھنے سے توان کے دماغ فوراًٹھکانے آ جاتے۔ اس موذی کوکوئی بتائے توسہی کہ مسلمان فلسطین کے ہوں،افغانستان کے یاپھرپاکستان کے۔یہ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں لیکن اگرکوئی ان پرزورزبردستی جنگ مسلط کرتاہے توپھریہ آپ کی طرح دم دبا کر بھاگتے نہیں۔آپ پوری طاقت اورلاؤلشکرسمیت برسوں سے کشمیرکے اندرمسلمانوں کے خلاف دہشتگردی اورغندہ گردی کررہے ہیں لیکن کیا کشمیر کا کوئی ایک مسلمان بھی آپ کے سامنے سے بھاگاہے۔؟نہتے کشمیری توآج بھی خالی ہاتھ آپ کی طاقت، بدمعاشی اور ریاستی دہشتگردی کامقابلہ کر رہے ہیں۔آپ اگراپنی پوری طاقت، غرور اور گھمنڈکے باوجودآج تک نہتے کشمیریوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے توآپ پاکستان کاکیابگاڑلیں گے۔؟ موذی جی ماناکہ فوج اورلشکرکی تعداد آپ کے پاس زیادہ ہوگی لیکن یہ بات کبھی نہ بھولناکہ ہماری پاک فوج کاایک جوان آپ کے ہزار فوجیوں پرآج بھی بھاری ہے۔ ہمارے ساتھ اللہ کی مدداورنصرت ہے آپ کے پاس کیا ہے۔؟آپ اگر رافیل طیاروں کی طرح ایٹم بم پر اچھل رہے ہیں تووہ ہمارے پاس بھی ہے پر ہمیں ایٹم بم سے بھی زیادہ اس کلمہ طیبہ پریقین ہے جس کلمے کا مقابلہ کرنے کے لئے نہ دنیا میں پہلے کوئی طاقت تھی اور نہ اب اس کلمے کا کوئی توڑ ہے۔ موذی جی اسلام کی طاقت اورقوت توبہت بڑی شئے ہے۔ آپ اورآپ کے یہ لنگڑے ابھی نندن توایک دھکے کی مارہیں آپ توہواکے ایک جھونکے کابھی مقابلہ نہیں کرسکتے۔رافیل کے مقابلے میں اگرابابیل آگئے توپھر آپ کا کیا ہو گا۔؟ آپ کو اپنا وہ دادا ابوجہل اور پردادا فرعون یاد نہیں۔ اپنی طاقت، قوت اور لاؤلشکر پر آپ کی طرح انہیں بھی بڑا ناز تھا۔ یاد ہے ان کے ساتھ پھرکیاہواتھا۔؟نہیں یادتواپنی نانی اماں سے اپنے ان بزرگوں کے بارے میں ایک بار ذرا پوچھ لینا پھرپاکستان اورپاکستان کے مسلمانوں کو دھمکیاں دینا۔ موذی جی آپ پاکستان کے مسلمانوں کوصوفیہ قریشی جیسے مسلمان نہ سمجھناکہ آپ اسلام اورپاکستان کے خلاف بکتے رہیں گے اوریہ آپ کویس سر،یس سرکہتے رہیں گے۔یہاں وہ مسلمان ہیں جن کے آباؤاجدادکے ہاتھوں آپ کے ایک دونہیں بلکہ ابوجہل وفرعون جیسے کئی بڑے دلوں میں ہزاروں خواب ،سپنے اورارمان لئے اس دنیاسے رخصت ہو ئے۔اس پاک مٹی پریہ وہ مسلمان ہیں جواسلام اوروطن کے لئے تن،من اور دھن قربان کرنے کوآج بھی سعادت سمجھتے ہیں۔ ویسے بھارت کے یہ مودی اورموذی بھی بڑے سادہ ہیں جوجام شہادت پینے کے انتظارمیں برسوں سے بیٹھنے والے اسلام کے دیوانوں اوروطن کے پروانوں کواپنے کھلونانماڈرونزسے ڈرانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانیوں کوجنگ کی دھمکیاں دیتے ہوئے مودی یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستانی یہ وہ لوگ ہیں جومیدان جنگ میں اترنے کے بعدپھرپیچھے مڑکرنہیں دیکھتے۔ جنگ میں مودی اورموذی کے پیروکاروں وسہولت کاروں کے لئے توموت ہے لیکن ایسی جنگوں میں مسلمانوں کے لئے اس عظیم شہادت کی بشارت اورخوشخبری ہے جس شہادت کوپانے کے لئے مسلمان روزانہ دن میں پانچ مرتبہ ہرنمازکے بعدرب کے حضورہاتھ اٹھاتے اوراپنی جھولیاں پھیلاتے ہوئے خصوصی دعائیں مانگتے ہیں۔جن مسلمانوں کی دعاؤں کا آغاز اور اختتام ہی شہادت کادرجہ اوررتبہ پانے کی دعاسے ہوبھلاانہیں کوئی جنگ سے ڈرایا دھمکا سکتا ہے۔

مزیدخبریں