آپریشن غضب للحق: فتنہ الخوارج کے خلاف فیصلہ کن معرکہ، 641 دہشت گرد ہلاک: عطا اللہ تارڑ 

07:29 PM, 11 Mar, 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے سیکیورٹی فورسز کے جاری آپریشن "غضب للحق" کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منظم آپریشن کے نتیجے میں فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک درج ذیل اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے 641 کارندے ہلاک جبکہ 855 سے زائد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔ دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ اور ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہوئے 243 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں، جبکہ 42 پوسٹوں پر فورسز نے قبضہ کر کے انہیں ختم کر دیا۔ کارروائی کے دوران دشمن کے 219 ٹینک اور مسلح گاڑیاں بھی ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں۔
عطا تارڑ نے انکشاف کیا کہ افغانستان کے اندر اور سرحدی علاقوں میں 65 مختلف مقامات پر فضائی حملے (Airstrikes) کیے گئے، جن میں دہشت گردوں کے تزویراتی ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ژوب سیکٹر میں شدید دباؤ کے باعث افغان طالبان کی پوسٹوں پر موجود اہلکار اپنا اسلحہ اور سامان چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ریاست اور سیکیورٹی ادارے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے یکسو ہیں۔ آپریشن غضب للحق تب تک جاری رہے گا جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

مزیدخبریں