پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر فیصلہ براہ راست عوام کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ عالمی حالات، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پیٹرولیم مصنوعات کے بحران نے ملکی معیشت کو شدید دبائو میں ڈال دیا ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے ایک ایسا طوفان ہے جو اس کی روزمرہ زندگی کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور یوں مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ایسے حالات میں حکمرانوں کے فیصلے قوم کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے حالیہ بحران کے پیش نظر کچھ غیر معمولی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کو بظاہر اس سوچ کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے کہ اگر حالات غیر معمولی ہیں تو حکومتی ردعمل بھی غیر معمولی ہونا چاہیے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ خطے میں جنگی صورتحال اور پیٹرولیم بحران کے باعث معاشی دبائو بڑھ رہا ہے، اس لیے حکومت کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ اسی تناظر میں ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ پیٹرولیم بحران کے خاتمے تک صوبائی وزرا کے لیے سرکاری فیول بند کر دیا جائے گا۔ یہ ایک علامتی مگر اہم فیصلہ ہے، کیونکہ اکثر عوام یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ مشکل حالات میں بھی حکمران طبقہ اپنی مراعات کم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اسی سلسلے میں سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الائونس میں فوری طور پر پچاس فیصد کمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب ناگزیر سکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی ہی ان کے ساتھ ہوگی۔ یہ فیصلے اگر واقعی عملی طور پر نافذ ہو جاتے ہیں تو اس سے ایک مثبت پیغام ضرور جائے گا کہ مشکل وقت میں حکمران بھی عوام کے ساتھ قربانی دینے کو تیار ہیں۔
معاشی بحران کا ایک بڑا پہلو توانائی اور ایندھن کا مسئلہ ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم کا فیصلہ کیا ہے تاکہ غیر ضروری سفر اور ایندھن کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ اس پالیسی کے تحت صرف ضروری عملہ ہی دفاتر میں آئے گا جبکہ اضافی سپورٹ سٹاف کی آمد و رفت کو محدود کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کا مقصد کام کو روکنا نہیں بلکہ وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانا ہے۔اسی طرح تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں 10مارچ سے 31مارچ تک بند رہیں گی جبکہ امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ تعلیمی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اداروں کو آن لائن کلاسز لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اگرچہ یہ فیصلہ وقتی طور پر طلبہ کے معمولات کو متاثر کرے گا، مگر توانائی اور ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی کے حوالے سے اسے ایک عملی قدم سمجھا جا رہا ہے۔دوسری طرف حکومت نے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ای بزنس اور مریم کی دستک کے تحت سرکاری خدمات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے آن لائن اجلاس اور ٹیلی کانفرنسز کے انعقاد کا فیصلہ بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کام کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔
بحرانی حالات میں اکثر حکومتیں نمائشی سرگرمیوں کو جاری رکھتی ہیں، لیکن پنجاب حکومت نے سرکاری آئوٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگا دی ہے اور ہارس اینڈ کیٹل شو جیسے ثقافتی تہوار کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ بظاہر اس پیغام کے ساتھ کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں ترجیح تفریح نہیں بلکہ وسائل کا محتاط استعمال ہونا چاہیے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے بھی حکومت نے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ پیٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو پیٹرولیم مصنوعات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ اس نظام میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، پیرا اور دیگر اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ سپلائی چین کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بحران کے دوران سب سے زیادہ فائدہ ناجائز منافع خور اٹھاتے ہیں۔ اسی لیے وزیر اعلیٰ نے تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کرایوں کی سخت نگرانی کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ زائد اور ناجائز کرایے وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اسی طرح اشیائے خورونوش کی طلب و رسد کی کڑی نگرانی کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ مصنوعی مہنگائی کو روکا جا سکے۔
حکومت نے نجی شعبے کو بھی ایڈوائزری جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ ورک فرام ہوم پالیسی اپنائیں، غیر ضروری تقریبات سے گریز کریں اور صرف ضروری عملے کو دفاتر بلائیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے صرف حکومت نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بحران کے پیش نظر آئوٹ ڈور فنکشنز سے گریز کریں، لیٹ نائٹ شاپنگ نہ کریں اور ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے بچیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں ذمہ دارانہ رویہ ہی قوموں کو مشکلات سے نکالتا ہے۔اسی بیان میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشکل ترین بحران میں جرأت مندانہ فیصلوں پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں قوم کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ان کے مطابق بہادر قومیں مشکلات کا مقابلہ اتحاد، صبر اور دانشمندی سے کرتی ہیں۔یہ تمام اقدامات اپنی جگہ اہم ضرور ہیں، لیکن اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ فیصلے عملی طور پر عوام کو ریلیف فراہم کر سکیں گے؟ پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کئی اچھے فیصلے صرف اعلانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔اگر حکومت واقعی فیول کی بچت، وسائل کے بہتر استعمال اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یقینا اس سے بحران کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ توانائی کا مسئلہ محض وقتی اقدامات سے حل نہیں ہوگا۔ ہمیں مستقل حل کی طرف بڑھنا ہوگا۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ توانائی کے متبادل ذرائع کو سنجیدگی سے اپنائے۔ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر بڑے شہروں میں بسوں، رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کو مرحلہ وار الیکٹرک نظام پر منتقل کیا جائے تو نہ صرف ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اسی طرح سولر انرجی کو قومی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہوگا۔ پاکستان سورج کی روشنی سے مالا مال ملک ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اس نعمت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اگر گھروں، سرکاری عمارتوں، صنعتوں اور زرعی شعبے میں شمسی توانائی کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف بجلی کا بحران کم ہوگا بلکہ ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زر مبادلہ بھی بچایا جا سکتا ہے۔آج پاکستان کو اتحاد، سنجیدگی اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ حکومت اپنے فیصلے کرے، ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور عوام بھی حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں مشکل وقت میں اپنے اجتماعی رویوں سے پہچانی جاتی ہیں۔اگر یہ اقدامات دیانتداری اور سنجیدگی کے ساتھ نافذ ہو جاتے ہیں تو ممکن ہے کہ بحران کی شدت کچھ کم ہو جائے۔ اور اگر اس کے ساتھ ساتھ ہم توانائی کے مستقل حل یعنی الیکٹرک ٹرانسپورٹ اور سولر انرجیکی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھائیں تو یہی بحران مستقبل میں ایک نئے اور مضبوط پاکستان کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ بحران وقتی ہوتے ہیں، مگر ان کے دوران کیے گئے فیصلے قوموں کی تقدیر طے کر دیتے ہیں۔
بحران کے دنوں میں سی ایم پنجاب کا امتحان
09:14 AM, 11 Mar, 2026