یونیفارم میں تبدیلی یا نظام میں بہتری؟

09:13 AM, 11 Mar, 2026

پنجاب پولیس میں تبدیلیوں کی بات کوئی نئی نہیں، مگر اس بار جو فیصلہ سامنے آیا ہے وہ صرف ایک یونیفارم کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑے نظامی اصلاحات کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔ لاہور ٹریفک پولیس کی یونیفارم تبدیل کر دی گئی ہے اور ٹریفک وارڈنز نئی وردی پہن کر ڈیوٹی سرانجام دینے لگے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات اور اس پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہیں کہ وردی صرف کپڑا نہیں بلکہ ایک شناخت اور نفسیاتی وابستگی بھی ہوتی ہے۔ ٹریفک وارڈنز کی ایک بڑی تعداد نئی یونیفارم سے خوش دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے خدشات بھی اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ کئی سال سے ایک مخصوص وردی ان کی پہچان بن چکی تھی۔ اچانک تبدیلی اکثر ملازمین میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔ تاہم انتظامیہ کا مؤقف یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اداروں کو بھی خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔ اس سارے عمل میں سب سے نمایاں قدم چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر اطہر وحید کا وہ فیصلہ ہے جسے کئی وارڈنز غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔ پہلی بار سنجیدگی سے ٹریفک وارڈنز کی پروموشن کے معاملات پر غور شروع کیا گیا ہے۔ برسوں سے یہ شکایت عام تھی کہ ٹریفک وارڈنز کو ترقی کے واضح مواقع نہیں ملتے، جس کی وجہ سے ان میں مایوسی بڑھتی ہے۔ اگر واقعی اس مسئلے کا مستقل حل نکال لیا جاتا ہے تو یہ محض وردی کی تبدیلی سے کہیں زیادہ بڑی اصلاح ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ایک اور اہم فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ اب ٹریفک وارڈنز کو رنگ روڈ پولیس یا دیگر یونٹس میں ٹرانسفر نہیں کیا جائے گا۔ اس پالیسی کا مقصد بظاہر ٹریفک پولیس کو ایک مضبوط اور پیشہ ور فورس کے طور پر قائم کرنا ہے تاکہ اس کا بنیادی فوکس ٹریفک مینجمنٹ ہی رہے۔ اگر یہ پالیسی مستقل بنیادوں پر جاری رہی تو ممکن ہے کہ ٹریفک پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے۔ نئے قوانین متعارف کرانے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بہت سے ٹریفک قوانین ایسے ہیں جو کئی دہائیاں پہلے بنائے گئے تھے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ قوانین وضع کیے تھے، آج اس دنیا میں بھی نہیں ہیں، مگر ہم اب بھی انہی اصولوں کے تحت ایک بالکل مختلف دور کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے، شہروں کا پھیلاؤ بڑھ چکا ہے اور شہری رویے بھی بدل چکے ہیں۔ ایسے میں پرانے قوانین کا ازسرنو جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔ مگر یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا صرف یونیفارم بدلنے سے نظام بہتر ہو جائے گا؟ یقینا نہیں۔ اصل کامیابی تب ہو گی جب ساتھ ساتھ تربیت، سہولیات، ٹیکنالوجی اور احتساب کے نظام کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ ٹریفک وارڈنز روزانہ سخت موسم، دباؤ اور شہریوں کے رویوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر انہیں مناسب مراعات، واضح ترقی کا راستہ اور جدید وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی ذمہ داریاں کہیں بہتر انداز میں ادا کر سکتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی فورس کی اصل طاقت اس کے جوان ہوتے ہیں۔ اگر وہ مطمئن ہوں، خود کو محفوظ اور بااختیار محسوس کریں تو ادارہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ تبدیلیاں واقعی ٹریفک پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے ہیں تو یہ خوش آئند قدم ہے۔ مگر شرط یہی ہے کہ اصلاحات صرف ظاہری نہ ہوں بلکہ عملی بھی ہوں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ماضی کے قوانین اور طریقوں کو اندھی تقلید کے بجائے موجودہ حالات کے مطابق ڈھالیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو شاید آنے والے برسوں میں ہم ایک ایسی ٹریفک پولیس دیکھ سکیں گے جو نہ صرف جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو بلکہ شہریوں کے لیے سہولت اور نظم و ضبط کی علامت بھی بن جائے۔ پنجاب پولیس میں تبدیلیوں کی بات اکثر ہوتی رہتی ہے، مگر اس بار جو خبر سامنے آئی ہے وہ خاصی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹریفک پولیس کے بعد اب پنجاب پولیس کی یونیفارم میں بھی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی قدم ہے، مگر درحقیقت اس کے اثرات ادارے کی شناخت، نظم و ضبط اور عوامی تاثر تک پھیل سکتے ہیں۔ وردی کسی بھی فورس کے لیے محض کپڑے کا ایک سیٹ نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کی شناخت، وقار اور ذمہ داری کی علامت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں پولیس کی وردی اس انداز سے تیار کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف پیشہ ورانہ تاثر پیدا کرے بلکہ عوام میں اعتماد بھی پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی فورس کی وردی میں تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کے پیچھے عام طور پر ایک وسیع سوچ اور پالیسی کارفرما ہوتی ہے۔

مزیدخبریں