ایران پرمحدود ایٹمی حملے کے امکانات

09:12 AM, 11 Mar, 2026

ایران کی جرأت رندانہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی نیندیں اُڑا کر رکھ دی ہیں ۔ ان کے ایرانی قیادت و قوم کے حوالے سے اب تک کے تمام اندازے بُری طرح ناکام ہوئے ہیں ۔ ایسے میں اب دنیا کی آنکھیں مڈل ایسٹ پر گڑھی ہیںکیونکہ اسکا امن اس سے براہ راست وابستہ ہے۔امریکی صدر کے حالیہ بیانات اور تیاریاں اس امر کی نشاندھی کر رہی ہیں کہ امریکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی اور وہاں اپنی مرضی کا سیٹ اپ لانے میں ناکامی سے بُری طرح طرح تلملا رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کو احساس ہو رہا ہے کہ امریکیوں، عربوں اور دنیا کے سامنے اس کی دُنیا کی واحد سپر طاقت ہونے کے بلندو بانگ دعوے کو ایرانی قوم نے زمین بوس کردیا ہے اسلئے اگر اس نے جلد کچھ ایسا نہ کیا جس سے امریکہ کو اس جنگ میں واضح برتری نہ ہوئی تو امریکہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا اور دنیا کے ایک وسیع حصے پر اسکی اجارہ داری ریت کی دیوار کی مانند ڈھے جائے گی ۔ امریکی صدر کا یہ بیان کہ ایران کا نقشہ ویسا نہیں رہے گا جیسا کہ اس وقت ہے اور یہاں بہت بڑی تباہی ہوگی اس امر کی نشاندھی کر رہا ہے کہ امریکہ ایران میں روایتی جنگ سے ہٹ کر کچھ غیرمعمولی کرنے جارہا ہے ۔امریکہ دوسرے سے پہلے اپنا تیسرا آپشن استعمال کرسکتا ہے اس کے تحت اس کی جانب سے ایران کے کچھ شہروں پر  Atomic Tactical Weapons کا استعمال اب نا ممکنات میں سے نہیں ۔ امریکہ کے پاس دوسرا آپشن ایران میں فوج اتارنے کا ہے جو قابل عمل نہیں کیونکہ ایران کا رقبہ بہت وسیع ہے اسکے لیے بہت بڑی فوج درکار ہے ۔ مشرق وسطیٰ او راس کے قرب و جوار کے علاقوں میں امریکہ کی فی الوقت چالیس سے پچاس ہزار فوج تعینات ہے جو زمینی آپریشن کے لیے کافی نہیں ۔ البتہ اگر خلیجی ریاستیں ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ دیں تو پھر زمینی حملہ ہوسکتا ہے تاہم خلیجی 
ریاستوں کو بھی ایرانی جوابی کارروائی کا سامنا ہوگا جو اب تک تو علاقہ میں امریکی تنصیبات اور اڈوں تک ہی محدود ہے تاہم اگر ایران خلیجی ریاستوں بالشمول سعودی عرب، متحدہ امارات ، قطر ،بحرین اور اردن کو اپنے خلاف صف آراء ہوتا محسوس کرتا ہے تو وہ یقینا ان پر بھی تباہی کے دہانے کھول دے گاجو پورے خطے کو تباہ و برباد کرکے رکھ سکتی ہے ۔یوں  جنگ کی تباہ کن آگ بڑی تیزی سے نہ صرف پورے خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ فوجی و معاشی طاقت کے غرور میں مبتلا امریکہ اور اسرائیل کو یقین تھا کہ ایران پر حملے کے بعد جنگ چند دن سے زائد نہ چلے گی اور ایران دو سے تین دن میں اپنے گھٹنوں پر آجائے گا تاہم واشنگٹن اور تل ابیب کے اندازوں کے برعکس ایران نہ صرف اپنے قدموں پر کھڑا ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کو وہ دندان شکن جواب دینے میں کامیاب رہا ہے جس سے امریکہ ، اسرائیل اور ان کے حمایتیوں کی نیندیں اُڑگئی ہیں۔ ماناکہ امریکہ اور اسرائیل ایران میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے میں کامیاب رہے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر ایران کا دفاعی انفراسٹرکچر اب بھی جوں کا توں موجود اور فعال نظر آتا ہے ۔ اس کا بین ثبوت اسرائیل اور خطے میں امریکی اہداف پر کی جانے کامیاب جوابی کارروائی ہے جس نے ایرانیوں کے دُشمنوں کو اپنے زخم چاٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تل ابیب سمیت اسرائیل کے کئی شہر تیزی سے کھنڈرات میں تبدیل ہورہے ہیں ۔ بعض جگہوں کا اگر موازنہ کریں تو ان کی حالت زار اس وقت غزہ میں ہونے والی تباہی سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتی ۔
اطلاعات ہیں کہ اس وقت تک امریکی فضائیہ کے تین بی-52 بمبار طیارے برطانیہ کی گلوچسٹر شائر کے آر اے ایف فیرفورڈ بیس پہنچ گئے ہیں ۔ یہ پرانے، سب سونک جنگی طیارے امریکی فضائیہ کے بنیادی ہتھیار ہیں، جو 1950 کی دہائی میں سروس میں آئے اور ویتنام سے افغانستان تک مختلف جنگوں میں استعمال ہوئے۔کچھ بی-52 طیارے  یہ جوہری ہتھیار لے جا سکتے ہیں۔ پچھلے چار دنوں میں  چار بی-1 بمبار بھی پہنچ چکے  ہیں۔ یہ سپرسونک طیارے طویل فاصلے تک پرواز کر سکتے ہیں اور 24 کروز میزائل تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیںاس دوران ایک خاص فوجی حکمت عملی کے تحت امریکہ نے ایران کے خلاف تیسرا نیوکلیئر سپر کیریٔر  USS George H۔ W۔ Bush (CVN-77) مشرقِ وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس لیے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ عام طور پر ایک ہی خطے میں بیک وقت تین امریکی کیرئیر سٹرائیک گروپس تعینات نہیں کیے جاتے۔ اس سے قبل جدید ترین امریکی کیریٔر USS Gerald R۔ Ford (CVN-78) بھی مشرقی بحیرہ  روم میں پہنچ چکا تھا، جہاں سے امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تھا۔رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر شدید میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کے بعد امریکہ نے اپنی بحری طاقت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کیرئیر سٹرائیک گروپ کے ساتھ جدید جنگی طیارے Boeing F؍A-18E؍F Super Hornet، الیکٹرانک وارفیٔر جیٹس Boeing EA-18G Growler اور فضائی نگرانی کے طیارے Northrop Grumman E-2D Hawkeye بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔
 امریکی کیریٔر گروپس کی بقا کے حوالے سے خدشات بھی موجود ہیں کیونکہ ایران کے پاس اینٹی شپ بیلسٹک میزائلوں کا بڑا ذخیرہ ہے، جو سمندر میں موجود بڑے جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران پہلی بار ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے امریکی بحری بیڑوں کے لیے خطرہ بڑھ گیا ہے۔امریکی کیرئیر سٹرائیک گروپس کے ساتھ عام طور پر Arleigh Burke-class destroyer بھی شامل ہوتے ہیں، جو BGM-109 Tomahawk کروز میزائلوں سے حملے کرنے اور SM-2، SM-3 اور SM-6 میزائلوں کے ذریعے بیلسٹک میزائل دفاع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزیدخبریں