چوپال سجی ہوئی تھی، آج چوپال میں چاچا رشید اور تیلی پہلوان بھی براجمان تھے۔ نتھو اور پھتو نے پوچھا چاچا جی معاملہ کیاہے؟۔ وہ بڑے دھیمے انداز سے بولے، بچو چپ سائیں آتے ہیں تو بات کرتے ہیں۔ ویسے تیلی پہلوان کو بہت جلدی ہے کیوں تیلی پہلوان؟، اس پر تیلی پہلوان نے فورا ہاں میں سرہلادیا۔نتھو نے کہاکہ چاچا رشیدلگتا ہے کہ آپ کو تیلی پہلوان نے لمبی ناک اور عینک کی وجہ سے دوبارہ چھیڑا ہے اور آپ نے اسے بڑی مونچھ اور سوکھی ٹانگوں کا طعنہ دیا ہے ۔ اس پر نتھو اور پھتو کھل کھلا کر ہنس دیے پر چاچا رشید کا چہرہ ایک دم غصے میں لال پیلا ہوگیا، دونوں فورا چپ کرگئے ۔اسی دورا ن چپ سائیں کی آمد ہوئی۔ سب احتراماً کھڑے ہوگئے ۔۔۔ نتھو اور پھتو نے فوراً کہا کہ سائیں جی آج تو چاچا رشید اور تیلی پہلوان کے درمیان کچھ ٹھنی ہوئی ہے۔ چپ سائیں نے فورا چاچا رشید کی طرف دیکھا ۔۔۔انہوں نے کہا بھائیو آخر معاملہ کیا ہے؟۔۔۔چاچا رشید بولے۔۔۔ سائیں جی آج کل یہ جو تیلی پہلوان ہے ناں اس کا’’ڈنگ‘‘کافی تیز ہوا ہے۔
اس پر چپ سائیں نے کہاکہ چاچا رشید آپ تو خاصے ’’دانا‘‘ ہیں اور اپنی باتوں سے دوسروں کو لاجواب کر دیتے تھے۔آپ کاشمار محلے کے ان بزرگوں میں ہوتا ہے جن کے پاس ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی الٹا سیدھا حل ضرور ہوتا ہے اورتیلی پہلوان آپ کی اگر بات کروں تو ''پہلوان'' تو ہیں لیکن جسمانی طور پر شاید اتنے دبلے پتلے ہیں کہ بس پہلوانوں کے نام پر ـ’’دھبہ‘‘ ہیں۔چاچا رشید بولے۔۔۔ سائیں جی یہ تیلی پہلوان آج کل ہر ایک سے لڑنے جھگڑنے کے موڈ میں ہیں ۔۔۔ان کا ماضی گواہ ہے کہ وہ پہلوان ہونے کی تڑی لگاتے ہیں لیکن اپنی طاقت کی شیخی بگھارنا اور پھر کسی معمولی سی مشکل میں پھنس جانا بھی معمول ہے۔
سائیں جی بولے۔۔۔ کیوں بھائی تیلی پہلوان۔۔۔ مزاج میں یہ آج’’گرمی‘‘ کیسی ؟۔۔۔ آپ کو خوش فہمی کیسی ہے بھائی؟۔۔۔ اس پرتیلی پہلوان نے آخر لب کشائی کی، بولے سائیں جی۔۔ ہماری جسامت دیکھ کر کوئی کسی غلط فہمی میں نہ
رہے۔۔ ہم تو منٹوں میں چاروں شانے چت کردیتے ہیں۔۔۔ اس پر چپ سائیں نے سنجیدگی سے کہا ’’اچھا‘‘۔۔پر یہ بات ضرور کروں گا کہ پوری دنیا میں بھی ایک’’ بڑے صاحب‘‘ ہیں،وہ بھی پوری دنیا پرحکمرانی کا خواب دیکھ رہے ہیں اور جو ان کے سامنے بولتا ہے یا بولنے کی کوشش کی کرتا ہے۔ وہ اس سے جھگڑا مول لے لیتے ہیں۔ صاحبو! وہ ’’امریکہ بہادر‘‘ ہیں اور اس وقت بھی حالت جنگ میں ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اس بار حریف کے معاملے میں ان کا حساب کتاب تھوڑ ا ’’اوپر نیچے‘‘ ہوگیاہے۔۔۔
خیر بھائی تیلی پہلوان دوبارہ آپ کی طرف آتے ہیں، ذرا یہ بتائیں کہ 'پہلوان' کا لقب آپ کی اس خواہش یا وہم کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ بہت طاقتور ہیں۔ سنا ہے آپ نے بڑے نامی گرامی پچھاڑے ہیں؟۔۔۔ پر یہ بھی آپ کے بقول۔۔۔ ہم تو چاچا رشید کی زبانی یہ جانتے ہیں کہ جو قصے آپ سناتے ہیں ان کا کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تو چاچا رشید سے تو آپ کی نوک جھونک چلتی رہتی ہے، محلے کی بیٹھک ہو، نائی کی دکان یا کوئی محفل۔۔۔گفتگو تو خوب ہوتی ہے ۔۔تیلی پہلوان خوب لمبی لمبی چھوڑتے ہیںاور چاچا رشید اپنی کاٹ دار گفتگو سے کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چوپال کے دوستو، چاچا رشید سے میں نے یہ سنا ہے کہ تیلی پہلوان اگر درخت پر چڑھ جائے تو نیچے اتر کر اسے ''پہلوانی کا داؤ'' قرار دیتے ہیں ۔بھائیو! آج چوپال میں ان دونوں کی وساطت سے یہ پیغام بھی دوں گا کہ تیلی پہلوان کے ذریعے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنی بساط سے بڑھ کر دعوے نہیں کرنے چاہئیں ۔ عالمی بساط کو دیکھا جائے توزمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ بہادر نے زیادہ وسائل ہونے اور زیادہ طاقتور ہونے کی بناپر ایران سے ٹکر تو لے لی ہے لیکن اس جنگ کو ختم کرنے کی حکمت عملی کیا ہے اس کا کسی کو کچھ ادراک نہیں ہے۔ دوستو! چاچا رشید اور تیلی پہلوان کی باتوں سے اصلاح کاپہلو نکالنا چاہئے نہ کہ دونوں کی گفتگو سے خوفزدہ ہواجائے۔ بھئی میں تویہ کہوں گاکہ ان دونوں کرداروں کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی انسانی فطرت سے ہم آہنگی ہے۔
اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو تیلی پہلوان کی ''احساس کمتری'' ہی اس کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ تیلی پہلوان کا کردار دراصل ان لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے جو جسمانی یا مالی طور پر کمزور ہوتے ہیں لیکن اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے ''بہادری کے قصوں'' کا سہارا لیتے ہیں تاکہ لوگ ان کو کمزور نہ سمجھیں ۔ وہ ہر اس مہم جوئی میں کود پڑتے ہیں جو ان کے بس کی نہیں ہوتی، صرف اس لیے کہ لوگ انہیں 'پہلوان' تسلیم کریں اور کوئی ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھے۔صاحبو! اب میں چاچا رشید کی ''مصلحت پسندی'' کا بھی تذکرہ کروں گا ، چاچا رشید ہمارے محلے میں وہ بزرگ ہیں دنیا دیکھ چکے ہیں اور اب دوسروں کی حماقتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ بھائی رشید ازراہ تفنن آپ خود کو ایک ''فلاسفر'' سمجھتے ہیں اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ تیلی پہلوان کی باتوں میں ہاں میں ہاں ملا کر اسے مزید کسی ایسی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش میں ہوتے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہو جائے۔ بھائی رشید آپ کی خوبی یہ ہے کہ کسی کی دل آزاری نہیں کرتے بلکے 'دیسی محاوروں' اور 'کاٹ دار جملوں' سے لوگوں کو محظوظ کرتے ہیں ۔تاہم دونوں میں ایک بات مشترک یہ ہے کہ بچوں کی طرح شرارتیں کرتے ہیں اور پھر اپنی جان بچانے کے درپے ہوتے ہیں۔
چپ سائیں بولے۔۔ بھائیو! ہماری چوپال کا حسن چاچا رشید اور تیلی پہلوان وہ کردار ہیں،جن کا مقصد زندگی کی تلخی کو کم کرنا ہوتا ہے۔ یہ انسانی تضادات کے اس رقص کا اختتام ہے جو ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا۔ اگر ہم باریک بینی سے دیکھیں تو یہ دو کردار دو الگ الگ انسانی رویوں کے نمائندے بن کر ابھرتے ہیں اور ان کا مقصد اصلاح ہوتا ہے نہ کہ بحث برائے بحث۔۔۔ ان دونوں کرداروں کو دیکھ کر یہ ضرور کہوں گا کہ نہ تو کوئی عقل کل ہوتا ہے نہ ہی کوئی اتنا طاقتور کہ طاقت کا گھمنڈ رکھے اور سب کوکم تر تصور کرے کیونکہ اللہ کریم کا نظام ہے کہ ہاتھی بہت طاقتور ہوتا ہے لیکن ایک چیونٹی کی وجہ سے اس کی موت ہوسکتی ہے۔۔۔ لہٰذا ہمیشہ سرجھکا کر پائوں زمین پر رکھیں۔۔ رہے نام اللہ کا!۔
’’چاچا رشید اور تیلی پہلوان ‘‘
09:11 AM, 11 Mar, 2026