حالیہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ نے ایک بار پھر یہ حقیقت کھول کر سامنے رکھ دی ہے کہ پاکستان کی معیشت دعوؤں کے بر عکس معمولی دباؤ برداشت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس خطے میں یہ جنگی ماحول پیدا ہوا، یعنی مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستیں، وہاں اتنی تشویش اور بے یقینی نہیں دیکھی گئی جتنی پاکستان میں محسوس کی گئی۔ ہمارے بازاروں سے لے کر حکومتی ایوانوں تک ایک اضطراب پیدا ہوگیا، جیسے کوئی بہت بڑا طوفان دروازے پر دستک دے رہا ہو۔
دراصل پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مسئلہ پیٹرو انرجی کا ہے۔ اگر خلیجی خطے میں کسی قسم کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے تو سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہوتا ہے۔ اصولی طور پر کسی بھی ملک کی توانائی کی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ ایک ہی ٹوکری میں سارے انڈے نہ رکھے جائیں۔ یہاں مسئلہ صرف پالیسی کا نہیں بلکہ مالی مجبوریوں کا بھی ہے۔ ہم توانائی کی خریداری آزادانہ انداز میں نہیں کرتے بلکہ ہماری معیشت بڑی حد تک خلیجی ممالک کی مالی مدد، ادھار اور کیش سپورٹ پر کھڑی ہے۔ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مالی معاونت کے بغیر ہماری معاشی کشتی کا چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے پاکستان کی پریشانی فطری بھی ہے اور قابلِ فہم بھی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس توانائی کے متبادل راستے موجود ہیں، مگر وہ سیاسی مجبوریوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ایران نے برسوں پہلے گیس پائپ لائن ہمارے بارڈر تک بچھا دی تھی۔ ایران پاکستان کو گیس کے ساتھ پیٹرول کی فراہمی پر بھی آمادہ ہے۔ مگر پاکستان کی امریکہ کے ساتھ دوستی اکثر ایسی مجبوریوں کو جنم دیتی ہے جو ہمارے اپنے مفادات کے راستے میں آ کھڑی ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا رویہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ کی بجائے حاکمانہ محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں وہ آزادانہ مؤقف اختیار نہیں کر پاتا جس کی توقع ایک خودمختار ریاست سے کی جاتی ہے۔حالیہ بحران میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر بمباری کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے مسلم دنیا میں شدید
ردعمل پیدا کیا۔ مگر پاکستان کا سرکاری سطح پر ردعمل انتہائی محتاط بلکہ خاموشی کے قریب رہا۔ امریکہ کے اس اقدام کی کھل کر مذمت کی گئی اور نہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جارحانہ پالیسی پر کوئی واضح تنقید سامنے آئی۔ یہاں تک کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ مبارکباد دینے میں بھی تاخیر دیکھنے میں آئی۔ یہ رویہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے حیران کن بھی تھا اور مایوس کن بھی۔ دنیا کی موجودہ صف بندی میں ایک طرف دنیا کے دو بڑے شیطان، غاصب اور قاتلِ انسانیت امریکہ اور اسرائیل کھڑے ہیں اور دوسری طرف ان کی جارحیت اور تسلط کے خلاف مزاحمت میں تنہا کھڑا ایک اسلامی ملک ایران ہے۔ ایسے میں اگر باقی مسلمان ممالک خاموش تماشائی بنے رہیں تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے؟۔
یہی بے حسی داخلی معاشی و سیاسی معاملات میں بھی نظر آتی ہے۔ حالیہ پیٹرول بحران اس کی واضح مثال ہے۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ بظاہر اس فیصلے کے پیچھے دلیل یہ دی گئی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور اگلا تیل خریدنے کے لیے زیادہ رقم درکار ہے۔یہ دلیل اپنی جگہ مگر اس میں ایک بنیادی سوال نظر انداز ہو گیا۔ جو تیل پہلے ہی کم قیمت پر خریدا جا چکا ہے اسے مہنگے داموں کیوں فروخت کیا جا رہا ہے؟ اصولی طور پر تو قیمتوں میں اضافہ اسی وقت ہونا چاہیے جب نیا مہنگا سٹاک مارکیٹ میں آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیل کمپنیاں عالمی مارکیٹ کی پیش گوئیوں کی بنیاد پر آرڈر دیتی ہیں اوراسی دوران منافع کے بڑے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمپنیاں اپنے منافع میں عوام کو شریک کرتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر وقتی خسارے کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے کا مطلب صرف پمپ پر اضافی ادائیگی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام میں پھیل جاتے ہیں۔ بسوں کے کرایوں سے لے کر اشیائے خورونوش تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ کا بڑا حصہ حکومتی کنٹرول سے باہر ہے۔ ہر شعبے میں طاقتور مافیاز موجود ہیں جو قیمتوں کو اپنی مرضی سے اوپر نیچے کرتے ہیں۔ چینی، گندم، سیمنٹ اور دیگر بنیادی اشیا کی قیمتوں کا بحران اس کی واضح مثالیں ہیں۔ حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا ایک جواز یہ بھی پیش کیا کہ اس سے ذخیرہ اندوزی کو روکا جا سکے گا۔ مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ملک میں 27 دن کے پیٹرول ذخائر موجود ہونے کے باوجود کئی شہروں میں نصف سے زائد پیٹرول پمپ مختلف بہانوں سے بند نظر آتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ حکومت نے آخر کس مجبوری کے تحت عوام کی جیبوں سے تقریباً انیس ارب روپے نکال کر پیٹرول مارکیٹنگ کمپنیوں کی جیبوں میں منتقل کر دیئے۔ اس فیصلے سے کن حلقوں کو فائدہ ہوا اور کس کس کی دیہاڑی لگی، یہ وقت کے ساتھ واضح ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز، دو ماہ کے لئے کفایتی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔ اصولی طور پر یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا دو ماہ کی کفایت شعاری ایک ایسے ملک کے لیے کافی ہے جو مسلسل معاشی دباؤ کا شکار ہو؟ شاید اس پروگرام کو وفاق اور صوبوں میں دو سال تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے حقیقی اثرات سامنے آ سکیں۔ تاہم اس تمام مایوس کن منظرنامے کے درمیان ایک خبر حوصلہ افزا بھی ہے۔ ایران کی مزاحمت، اس کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی اور عوام کے حوصلوں نے امریکہ اور اسرائیل جیسی بڑی طاقتوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اگر وہ اس غیر روایتی جنگ کی دلدل میں مزید گہرائی تک اتر گیا تو اس کی عالمی چودھراہٹ قصہ پارینہ بن جائے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کے عندیے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 119 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر تقریباً 89 ڈالر تک آ گئی ہیں۔ اب جبکہ عالمی قیمتیں نیچے آ رہی ہیں تو حکومت کے پاس ایک سنہری موقع ہے۔ عوام کے مفاد کو ترجیح دی جائے اور پیٹرول کی قیمت میں حالیہ 55 روپے فی لیٹر اضافے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔البتہ کفایت شعاری کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے اگر یہ فیصلہ کیا جائے تو اس سے نہ صرف مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ عوام کو بھی ایک حقیقی ریلیف ملے گا۔ شاید اسی صورت میں پاکستان کے عوام اس بار عید کچھ سکون اوراطمینان کے ساتھ منا سکیں گے۔
جنگ ایران میں، تیل ہمارا مہنگا، کیوں؟
09:11 AM, 11 Mar, 2026