تہران / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے۔ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست عسکری ٹکراؤ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے دوران امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت متعدد اسٹریٹجک شہروں پر بھاری بمباری کی ہے۔ دوسری طرف ایران نے بھی بحرین اور اردن سمیت خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر جوابی میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق تازہ ترین فضائی کارروائیوں میں ایران کی دفاعی اور مواصلاتی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بنیادی اہداف درج ذیل تھے، تہران، ورامین اور کرج میں قائم فوجی مراکز، بندر عباس، سیریک اور میناب کی ساحلی پٹیاں اور حساس تنصیبات، ایرانی فوج کے سرویلنس راڈار، کمیونیکیشن سسٹمز اور ایئر ڈیفنس سائٹس،پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مفلوج کرنا ہے تاکہ وہ مزید جارحانہ اقدامات نہ کر سکے۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور خودکش ڈرونز داغے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے اپنی جارحیت بند نہ کی تو ایران عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ترین بحری راستے "آبنائے ہرمز" کو مکمل طور پر بند کر دے گا، جس سے دنیا بھر میں تیل کی سپلائی معطل ہو سکتی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، سیریک کے علاقے میں ہونے والی امریکی بمباری سے پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے (Reservoirs) کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔