جنگ کی تازہ صورتحال

09:11 AM, 11 Jun, 2026

ایران امریکہ جنگ محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا ٹیسٹ کیس ہے جس میں ایران شمالی کوریا درپردہ چین ملحقہ ممالک بھارت اور روس ہمراہ اپنے اپنے کیمپ کے سبھی کسی نہ کسی نوع کے متاثرین میں ہیں اہل عرب تو براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔جیسے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال ہے کہ کبھی بجلی آتی ہے، کبھی نہیں۔ اسی طرح پورے عالمی منظر میں بھی کبھی جنگ کی بجلیاں کڑک جاتی ہیں اور کبھی صلح کی نشستیں ترتیب پانے لگتی ہیں۔ ذرا جو ثالثی کامیاب ہونے لگتی ہے صدر ٹرمپ نہ صرف لفظوں کی پھلجھڑیاں چھوڑ دیتے ہیں بلکہ تیر آزمائی بھی شروع کر دیتے ہیں۔ ادھر ایران میں مختلف قوتیں موت کو پسپائی پر ترجیح دیتے ہوئے ایک آدھا بلیسٹک میزائل اُڑا دیتے ہیں جو کبھی قطر، کبھی اومان تو کبھی سعودیہ کے فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ دوبئی کی ساری ترقی کے پرخچے اُڑا دیتا ہے۔
ذہنی تناﺅ حکمرانوں میں بھی اتنا بڑھ چکا ہے کہ بات گالی گلوچ تک بھی آجاتی ہے اپنے ایک ٹویٹ میں جب صدر ٹرمپ نے ”باسٹرڈ“ (حرامی) کہا تو جواب میں ٹویٹ ”ٹھوکتے“ ہوئے ایران نے لکھا کہ امریکہ میں کتنے پرسنٹ کنوارے لڑکے باپ بن جاتے ہیں۔ یعنی زمینی، بحری، بری، فضائی جنگ کے ساتھ ساتھ ”بڑھکیں“ بھی جاری ہیں اسی دوران جہاں ٹرمپ اسرائیلی حمایت سے ہاتھ نہیں اُٹھا رہے تھے اور اسرائیل ان ہی کی ایک نہیں سن رہا تھا تو اس ضدی لاڈلے بچے کے ساتھ بھی ٹرمپ کی زبانی جنگ منظر عام پر آئی۔ایک جنگ کی آڑ میں جتنی جنگیں چھڑ گئی ہیں اور جتنے مستفید ہونے والے پیدا ہو گئے ہیں تشویش کے باعث تو ہے ہی ساتھ میں مستقل بلاکس بن بھی رہے ہیں، ٹوٹ بھی رہے ہیں۔ پرانے اتحادیوں کے تعلق میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور نئے تعلق دار ابھی اعتماد کے قابل نہیں ہوئے۔
اس وقت نئی ڈویلپمنٹ چینی حکمران کا کوریا جانے کا ہے جس کے لئے پہلے چینی لیڈر نے ایک خوبصورت تحریر قلمبند کرتے ہوئے بعدازاں دورے کا آغاز کیا۔ یعنی یہ سفارتی تعظیم جو کوریا کو پیش کی گئی امریکہ اور اس کا وفد اس سے محروم رہا۔ابھی تازہ ترین شگوفہ تو ایران کی جانب سے امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنانا ہے جس کے بعد امریکی حملوں میں شدت آچکی ہے۔ امریکہ کی جانب سے جزیرہ ”قسم“ اور ”سیرک“ پر بمباری ایران کا بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ.... اس کا حتمی نتیجہ امریکی اڈوں پر ایران کی نشانہ بازی ہی ممکن ہے جس کے نتیجے میں ”گلف“ کی اقتصادی تباہی مزید متوقع ہے۔
یہ طے ہے کہ جنگ ایک مرتبہ شروع ہو جائے تو پھر ختم ہوتے ہوتے بھی دیر تلک جھڑپیں چلتی رہتی ہیں اور دوطرفہ کشیدگی برقرار رہتی ہے۔ حتمی معاہدہ جس تک پہنچنا ایسا آسان نہیں حالانکہ پاکستان نے اس کا آغاز بھی کروا دیا۔ دونوں خوفناک جنگ میں لپٹی طاقتوں کو میز پر بٹھا دیا تاہم ایران کے اندر پاسبان والے لبنان میں بٹھائے گئے حزب اللہ اور امریکہ میں سب سے زیادہ شرءباز بیان بازی کرنے والا صدر جس کا کسی قسم کے تدبر، تدبیر، وقار سے کوئی ناطہ نہیں ان سب عناصر کے ہوتے ہوئے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز کی سوجھ بوجھ کو سلام تو کیا جارہا ہے پاکستانی وزیراعظم کی کاوشوں کا بھی اعتراف کیا جارہا ہے مگر عملدرآمد ندارد۔ ایسے میں جنگ ختم ہو تو کیسے؟ ایک بات تو طے ہے کہ جس بری طرح سے افواج پاکستان اور سپہ سالار اعظم نے بھارت کو شکست کی دُھول چٹائی اسی سے ایران کا حوصلہ مزید بلند ہوا اور اس نے امریکہ کو بے بس کر رکھا ہے۔ صدر ٹرمپ کو بار بار معاہدے کے قریب آنے کے بیانات دینے پڑتے ہیں اور بارہا کھسیانی بلی کی طرح پھر سے کارروائی کرنا پڑتی ہے۔
یہ اونٹ کس کروٹ تبھی بیٹھے گا جب امریکہ مکمل طور پر اسرائیل کے کندھے سے اپنا ہاتھ اُٹھا لے گا۔ اسرائیل بھی پورے کا پورا ”جنگی بکتر“ یعنی ”بنکرز“ میں تبدیل ہو کر اپنی بقاءکی آخری جنگ لڑتے ہوئے اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اسے مسلم ورلڈ سے کبھی ایسے جواب اور طاقت کی توقع نہ تھی۔ امریکہ نے بھی اس کی خاطر لیبیا، اُردن اور دیگر مسلمان صدور بشمول مرد آہن عراقی صدام حسین کا جو حشر دنیا کو دکھایا اس کا اول و آخر مقصد عالم اسلام کو ڈرانا تھا اور اب چونکہ الحمدللہ ہر طاقت کے ٹوٹتے بُت کی طرح امریکی وہم بھی لوگوں کے دلوں سے اُتر چکا ہے کہ وہ ایک بٹن دبائیں گے اور دنیا ختم ہو جائے گی بلکہ اس کے برعکس ہمارے آدمی چیف نے طاقتور آواز میں کہا اگر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان کے ساتھ آدھی دنیا بھی ختم ہو جائے گی اسے کہتے ہیں دلیرانہ سٹیٹمنٹ....

مزیدخبریں