فتنہ الخوارج کی دہشت گردی: ترقی کے دشمن، عوام کے قاتل

09:09 AM, 11 Jun, 2026


پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ترقی، استحکام، سرمایہ کاری اور خوشحالی کی منزل ہے جبکہ دوسری طرف دہشت گردی، انتشار اور بدامنی کی تاریک کھائیاں ہیں۔ حالیہ دنوں بلوچستان میں قومی شاہراہ پر مسافر بسوں اور گاڑیوں پر ہونے والے دہشت گرد حملے نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کار صرف ریاستی اداروں کے مخالف نہیں بلکہ عام شہریوں، قومی ترقی اور معاشی استحکام کے بھی کھلے دشمن ہیں۔
بلوچستان کے ضلع ژوب اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حالیہ واقعات میں دہشت گردوں نے نہ صرف سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا بلکہ عام شہریوں، مسافروں اور ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی اپنی سفاکیت کا ہدف بنایا۔ معصوم جانوں کا ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ ان عناصر کا مقصد کسی نظریاتی یا سیاسی جدوجہد سے زیادہ خوف، انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔دہشت گردی کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انتہا پسند گروہ ہمیشہ ایسے مقامات کو نشانہ بناتے ہیں جو ریاست کی ترقی اور عوامی زندگی کے لیے اہم ہوں۔ سڑکیں، پل، تعلیمی ادارے، بجلی کے منصوبے، معدنیاتی پراجیکٹس اور مواصلاتی نظام کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سرگرم فتنہ الخوارج اور ان سے منسلک دہشت گرد تنظیمیں بارہا ان ہی منصوبوں پر حملے کرتی رہی ہیں۔ اس طرزِ عمل سے ان کا اصل مقصد عیاں ہو جاتا ہے کہ وہ عوامی فلاح اور قومی ترقی کے ہر راستے کو مسدود کرنا چاہتے ہیں۔
بلوچستان خصوصاً اس سازش کا بڑا نشانہ رہا ہے۔ یہ صوبہ قدرتی وسائل، معدنی ذخائر اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ، شاہراہوں کی تعمیر، معدنیات کے منصوبے اور دیگر ترقیاتی پروگرام بلوچستان کو خوشحالی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتے ہیں۔ مگر دہشت گرد عناصر ان منصوبوں کو مسلسل نشانہ بناتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ترقی یافتہ اور خوشحال بلوچستان ان کے بیانیے اور مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔حالیہ حملے میں شہری گاڑیوں اور بسوں کو نشانہ بنانا اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ دہشت گردوں کی جنگ ریاست کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے خلاف ہے۔ اگر ان کا مقصد کسی مخصوص ادارے کو نقصان پہنچانا ہوتا تو وہ عام مسافروں کو ہدف نہ بناتے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا ہر واقعہ عوام میں خوف پیدا کرنے، نقل و حرکت محدود کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہوتا ہے۔ جب شاہراہیں غیر محفوظ ہوں تو تجارت متاثر ہوتی ہے، سرمایہ کار پیچھے ہٹتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ فتنہ الخوارج اور ان جیسے گروہوں کی کارروائیاں اکثر ایسے وقت میں سامنے آتی ہیں جب پاکستان میں بڑے معاشی یا ترقیاتی اقدامات شروع ہونے والے ہوں۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ دہشت گردی محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی کو روکنے کی منظم کوشش ہے۔ دشمن قوتیں جانتی ہیں کہ پاکستان کی معاشی خودمختاری اور علاقائی اہمیت میں اضافہ ان کے مفادات کے خلاف ہے، لہٰذا وہ دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرکے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کامیاب کارروائیوں نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، مگر ان عناصر نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرکے نرم اہداف یعنی عام شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ یہ دراصل ان کی کمزوری اور شکست کا اعتراف ہے، کیونکہ وہ ریاستی قوت کا براہِ راست مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی جدوجہد ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقیاتی منصوبوں کے خلاف ہر حملہ دراصل ان کے بہتر مستقبل پر حملہ ہے۔ جب کوئی سڑک تباہ کی جاتی ہے، کوئی اسکول جلایا جاتا ہے یا کسی منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں اور انجینئروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو نقصان صرف ریاست کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔میڈیا، دانشوروں اور سیاسی قیادت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے اصل چہرے کو بے نقاب کریں۔ ان عناصر کو کسی سیاسی، نسلی یا مذہبی جواز کے پردے میں چھپانے کی کوشش حقیقت سے انکار کے مترادف ہے۔ جو گروہ معصوم شہریوں کو قتل کرے، شاہراہوں پر مسافروں کا راستہ روکے اور ترقیاتی منصوبوں کو تباہ کرے، وہ کسی بھی صورت عوام کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔
المختصر! آج پاکستان کو جس اتحاد، بصیرت اور استقامت کی ضرورت ہے، وہ ماضی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری محاذ پر نہیں بلکہ فکری، سماجی اور معاشی میدان میں بھی حاصل کرنی ہوگی۔ بلوچستان سمیت ملک کے تمام علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل، عوامی شمولیت اور ریاستی رٹ کا مضبوط نفاذ ہی دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے۔حالیہ واقعہ ایک بار پھر یہ پیغام دیتا ہے کہ فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کا اصل ہدف نہ صرف انسانی جانیں ہیں بلکہ پاکستان کا روشن مستقبل بھی ہے۔ یہ عناصر شہریوں، شاہراہوں، سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنا کر ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم قوم کے اتحاد، سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور ریاستی عزم کے سامنے ان کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی ترقی کا سفر جاری رہے گا اور دہشت گردی کے اندھیرے بالآخر قومی یکجہتی، امن اور خوشحالی کی روشنی میں ختم ہو جائیں گے۔

مزیدخبریں