تیزاب گردی اور حواکی بیٹی

09:08 AM, 11 Jun, 2026


چوپال سجی ہوئی تھی، چپ سائیں سمیت سب براجمان تھے۔سکوت کا عالم تھا کہ ۔۔ سب نسوانی آواز میںاسلام وعلیکم!سن کر چونک گئے۔۔۔ چپ سائیں فورا اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔۔۔ بولے۔۔۔ ماسی پینو(فرضی نام) خیر ہے آج آپ ادھر۔۔۔آئیں۔۔۔ نتھو اور پھتو نے ان کو کرسی دی تاکہ وہ بیٹھ جائیں۔۔( ماسی پینو کی عمر لگ بھگ پچانوے برس ہے وہ محلے میں سب کی ماسی ہیں)۔۔۔ ماسی نے سانس لینے کے بعد کہا۔۔ چپ سائیں جی۔۔۔ آج دراصل میں آپ بھائیوں او ربیٹوں کی توجہ انتہائی اہم مسئلے کی طرف دلانا چاہتی ہوں۔۔ سب بیک زبان ہوئے۔۔ بولیں ماسی جی خیر تو ہے؟۔۔۔
ماسی پینو نے کہا کہ بھائیو اور بچوں۔۔۔ میں کل ٹی وی پر خبر یں سن رہی تھی کہ ایک خبر کی وجہ سے میرا دل انتہائی غمگین ہوگیا۔۔۔ سب ان کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔ ماسی پینو بولیں۔۔ افسوس۔۔ افسوس۔۔۔ سب کی نظریں ان کی طرف ہوگئیں۔۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ بولیں۔۔ میں نے خبروں میں سنا کہ کوئٹہ کی ایک ڈاکٹر پر ایک شخص نے تیزاب پھینک دیا۔۔۔ وہ اس سے خاصی متاثر ہوئی لیکن۔۔ اس سے بھی اہم بات یہ تھی کہ اس کو ہسپتال کے ہی ایک شخص نے فوری امداد فراہم کی اور اپنا کوٹ اتاراوغیر ہ وغیرہ۔۔ اس طرح ان کی جان بچ سکی۔۔ اور خوش آئند یہ کہ اس شخص کوصوبائی حکومت سے ایوارڈ دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔۔۔۔ افسوس۔۔ افسوس۔۔ ماسی پینو ۔۔ کہتے کہتے چپ کرگئیں۔۔۔
 اب سب کی نظریں چپ سائیں پر تھیں۔۔ چپ سائیں بولے۔۔ حق ہو۔۔ اللہ ہو!۔۔۔ا للہ حق!۔۔دوستو!۔۔ مقام افسوس ہے۔۔ یہ سب۔۔۔حوا کی بیٹی ازل سے لے کر آج تک ۔۔ کسی نہ کسی گناہ کا خمیازہ بھگتتی ہے نجانے کیوں! ۔۔۔۔ چپ سائیں بھی چپ کرگئے ۔ ۔ ۔ توقف کے بعد بولے۔۔۔ ماسی پینو کی بات اور نشاندہی درست ہے۔۔ یہ چوپال میں بیٹھے ہر شخص کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا المیہ ہے کہ ہم ذہنی علت کا علاج نہیں کراتے۔۔۔ او رمحرومی، ناکامی کو اس طرح نکال دیتے ہیں۔۔۔ بھائیو! میں اس کیس کے بارے میں بات نہیں کروںگا کہ کیا ہوگا لیکن یہ عمل انتہائی غلط ہے۔۔۔افسوس۔۔
صاحبو!۔۔۔۔تیزاب گردی صرف ایک جرم نہیں بلکہ یہ وہ وحشیانہ عمل ہے جو لمحوں میں کسی کی زندگی، شناخت اور مستقبل کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ ایک معمولی سا تنازع، انکار یا ذاتی رنجش جب انتقام کی آگ میں بدلتی ہے تو اس کا انجام اکثر کسی معصوم کے چہرے پر گرتے تیزاب کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اس جرم کی سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ صرف جسم کو نہیں جلاتا بلکہ انسان کی پوری زندگی کو جھلسا دیتا ہے۔ متاثرہ فرد نہ صرف جسمانی درد سے گزرتا ہے بلکہ آئینے میں اپنا عکس دیکھنا بھی ایک اذیت بن جاتا ہے۔ معاشرتی رویے، ترحم کے بجائے بعض اوقات بدنامی اور دوری کا سبب بن جاتے ہیں، جو زخموں کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔
ماسی پینو، نتھو ، پتھو تیزاب گردی کے اثرات بعض اوقات ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں۔ چہرے کی بگاڑ، بینائی کا نقصان، مستقل معذوری اور شدید نفسیاتی دبا¶ متاثرہ شخص کی زندگی کو محدود کر دیتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے معمول کی زندگی کی طرف واپسی ایک طویل اور کٹھن سفر بن جاتا ہے جس میں علاج، سرجری اور سب سے بڑھ کر سماجی قبولیت کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس جرم کی جڑیں صرف فرد نہیں بلکہ ہمارے سماجی رویوں میں بھی پیوست ہیں۔ جب برداشت کم اور غصہ زیادہ ہو، جب اختلاف کو بات چیت کے بجائے انتقام سے حل کیا جائے تو ایسے واقعات جنم لیتے ہیں۔ اس لیے مسئلہ صرف قانون کا نہیں بلکہ سوچ کی اصلاح کا بھی ہے۔
دوستو!ضرورت اس بات کی ہے کہ تیزاب گردی کے خلاف قانون کو مزید موثر اور سخت بنایا جائے، تیزاب کی فروخت پر سخت کنٹرول ہو، اور متاثرین کو فوری طبی، قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ معاشرے میں برداشت، احترام اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دینا ہوگا۔تیزاب گردی کا خاتمہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے، اس طرح کے واقعات کسی نہ کسی شکل میں ہمارے معاشرے کو زخمی کرتے رہیں گے۔ قانونی طور پر اس جرم کو کئی ممالک میں انتہائی سنگین قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں جن کے تحت مجرم کو طویل قید یا عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ صرف قانون کی موجودگی نہیں بلکہ اس کا م¶ثر نفاذ ہے۔ جب تک مقدمات میں جلدی انصاف نہیں ہوگا اور سزا کا خوف مضبوط نہیں ہوگا، تب تک ایسے واقعات کو مکمل طور پر روکنا مشکل ہے۔
دوستو! اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ تعلیم اور آگاہی کے بغیر جرائم کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ جب تک لوگوں میں برداشت، اخلاقیات اور قانون کی سمجھ پیدا نہیں ہوگی، تب تک ایسے واقعات کا خطرہ موجود رہے گا۔آخر میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک محفوظ معاشرہ وہی ہے جہاں انسان دوسرے انسان کو نقصان پہنچانے کے بجائے اس کی حفاظت کرے۔ اگر ہم اپنی سوچ میں نرمی، اپنے رویوں میں اعتدال اور اپنے فیصلوں میں انصاف پیدا کر لیں تو ایسے المناک واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو تیزاب کی آسان دستیابی ہے۔ اگر اس کی فروخت اور ذخیرہ پر سخت کنٹرول نہ ہو تو یہ خطرناک مادہ غلط ہاتھوں میں پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس کی خرید و فروخت کو باقاعدہ رجسٹریشن اور نگرانی کے تحت لایا جائے تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ بھائیو!۔۔ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنا ہوگا۔ عدم برداشت، جذباتی فیصلہ سازی اور تشدد کو مسئلے کا حل سمجھنا وہ بنیادی عوامل ہیں جو ایسے جرائم کو جنم دیتے ہیں۔ تعلیم، آگاہی اور مکالمے کی ثقافت کو فروغ دے کر ہی ہم اس سوچ کو بدل سکتے ہیں۔ تیزاب گردی کا خاتمہ صرف حکومت یا قانون کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم انسانیت، برداشت اور احترام کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کریں گے، تب تک ایسے واقعات کسی نہ کسی شکل میں ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔ یہ وقت ہے کہ ہم صرف افسوس کرنے کے بجائے اس مسئلے کی جڑوں کو سمجھیں اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں