گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے عوام کی رائے حکومتیں بنانے اور ختم کرنے کے حوالے سے حتمی کردار کی حامل نہیں ہوتی۔ غیر تعلیم یافتہ مسائل کا شکار رعایا کو سیدھی راہ پر چلانے کو یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ کس کو کہاں بٹھانا ہے انہیں وہاں بٹھانے سے قبل انتخاب کی رسم رچائی جاتی ہے۔ اس نظریے کے پیش نظرگلگت بلتستان میںبھی انتخابی معرکہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ سیاست میں اگر ٹارگیٹ ایک ہو تو سیاسی لیڈران پر ایک دوسرے پر لگائے گئے الزاما ت چاہے کتنے گھناﺅنے کیوں نہ ہوں مخالف سیاست دان برا نہیں مناتا اور اگر منزل ایک ہو تو بعد انتخابات اپنے ہاتھوں میں لیا گیا خنجر پھینک کر پیار سے گلے مل جاتا ہے ، یہ ہی کہا جاتا ہے سیاست ہے ، بقول ہمارے ایک مرحوم دوست جو صاحب کتاب تھے اور ان کی کتاب کا عنوان ”سیاہ ست “ تھا انتخابی مہم میں بلاول بھٹو کی تقاریر میں بلتستان گلگت کے مسائل کا ذمہ دار اسلام آباد پر اسطرح ٹھہرایا کہ گمان ہوتا تھا کہ وزیر اعلی سرحد (خان کی رہائی کی ذمہ داری لینے پر وزیراعلیٰ بننے والے) سہیل آفریدی تقریر کر رہے ہوں اسکا گمان نہیں تھا کہ وہ جس مرکز پر الزام لگارہے ہیں اسکے اتحادی ہیں، پی پی پی آس لگائے بیٹھی ہے کہ آئندہ وزیراعظم بلاول بھٹو ہی ہونگے اسلئے بھی شائد انہیں شدید اور الزام تراشیوں پر مبنی تقاریر کرنا ضروری تھا گلگت-بلتستان کے حوالے سے بھی یہ تاثر پھیلانے کا سبب ہوا کہ اگر بلاول بھٹو زرداری وفاق اور صوبوں کے مابین ایک نئے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ تیار کرتے ہوئے کچھ لچک دکھانے کو آمادہ ہوجائیں تو سندھ اور بلوچستان کے بعد گلگت-بلتستان کی حکومت بھی ان کے حوالے کی جاسکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کو گمان تھا کہ وہ گلگت بلتستان میں اتنی نشستیں حاصل کرلے گی کہ وہ تن تنہا حکومت بنا لیگی ، مگر اب نہ ہی پاکستان اور نہ ہمارے کسی انتخابات میں یہ ممکن ہے۔ بہر حال پی پی پی کو انتخابا ت میں اتنی نشستیںمل گئیںتھیں کہ وہ مسلم لیگ کے بغیر حکومت بناسکتی تھی مگر بغیر جماعت والے کامیاب امیدوار تو کسی بھی وقت ”اڑنے والے پنچھی“ہوتے ہیں اسلئے اسکے بغیر کوئی چار ہ نہ تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ملکر حکومت سازی کی جائے ۔ انتخابی مہم میں مسلم لیگ بھی وعدوں وعید سے پیچھے نہیں تھی سعد رفیق و دیگر نے انتخابی مہم میںگلگت بلتستان کو سویئزر لینڈ بنانے کا اعلان بھی کردیا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ ترقی اور استحکام کے لیے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے اور اگر یہ ہم آہنگی حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح کے لیے ہو تو یہ جمہوریت کے لیے نیک شگون ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم گلگت بلتستان میں مسائل اسقدر ہیں کہ وہاں نہائت ایماندری سے حکومت چلانا وقت کی ضرورت ہے جیسے سیاحت کے فروغ کے لیے انفراسٹرکچر، مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور صحت اور تعلیم کی سہولیات کی بہتری یہ سب معاملات نئی حکومت کی کارکردگی کے لیے کسوٹی ہیں، گلگت میں پی پی پی حکومت کا مرکزی کردار ہوگا مگر پی پی پی کی کارکردگی دنیا سندھ میں اسکی سترہ سال سے بلا شرکت غیرے حکومت سے اندازہ لگا سکتی ہے جہاں ابھی تک دودھ کی نہریںبہنا شروع نہ ہوئیں اور کرپشن ، بد انتظامی ، اندرون سندھ بلکہ اب تو شہری علاقے کے عوام کی چیخیں بھی نکل رہی ہیں۔ سندھ میںکرپشن یا بے ضابطگیوں کے حوالوں سے آڈٹ رپورٹس ، نیب کی انکوائریاں ، سندھ سولر انرجی پراجیکٹ ، جعلی دستاویز استعمال کرکے اصل قیمت سے زیادہ قیمت ظاہر کرنا آڈیٹر جنرل کی رپورٹ (2023-24) کے مطابق سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں مجموعی طور پر تقریباً 836 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں ریکارڈ پیش نہ کرنا، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیاں، غیر قانونی بھرتیاں اور فراڈ کے کیس شامل تھے۔ ہائی ویز اور سڑکوں کے منصوبے کراچی CLICK پروجیکٹ رپورٹوں میں اربوں روپے کی مبینہ خورد برد اور ناقص تعمیراتی کام کی نشاندہی کی گئی۔ اوقاف سندھ کے ترقیاتی کام میںآڈیٹر جنرل نے 423 ملین روپے سے زائد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی۔حال ہی میں اپنی تقاریر میں بلاول بھٹو نے یہ دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی اور سندھ میں سستی یا بہتر بجلی کی فراہمی کے لیے کام کیا ہے۔ کراچی کی بجلی کی صورتِ حال کو دیکھیں توK ELECTRIC کے پاس بجلی کی تقسیم ہے جو سندھ حکومت کے براہ راست کنٹرول میں نہیں وجہ کوئی بھی ہو یہ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ صوبے یا کراچی کے عوام کو بجلی فراہم کرے مگر ایسا نہیں کراچی میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کے مسائل مختلف علاقوں میں مختلف رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں بجلی نسبتاً بہتر رہی جبکہ بعض علاقوں میں لوڈشیڈنگ، اووربلنگ اور انفراسٹرکچر کے مسائل کی شکایات جاری رہی ہیں۔ کراچی کے انڈر پاس اور سڑکوںکی تعمیر نے تو عوام کی چیخنے پر مجبور کر دیا ہے، کریم آباد (کراچی) میں یہ الزام موجود ہے کہ منصوبے کی لاگت تقریباً 70 کروڑ روپے تھی سے بڑھ کر 3.81 ارب روپے تک پہنچ گئی۔کام سالوںسے نامکمل ہیں جس کی وجہ سے حادثات روز کا معمول ہیں، سندھ کا اہم بڑا نکاسی منصوبہ جو 2001ءمیں شروع ہوا انتظامی غفلت اور کرپشن کی بنا یہ منصوبہ 62ارب سے بڑھ کر 400ارب ہوگیا ہے ، حکومت سندھ کا موقف ہے کہ وہ کراچی کے عوام پر شہری سہولتوںپر اربوںروپے خرچ کررہی ہے ، مگر پراجیکٹ کے تخمینے سے بڑھ کر اور بہت بڑھ کر اخراجات سمجھ سے باہر ہیں ، بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کا مو¿قف ہے کہ سندھ ملک کی معیشت میں بڑا حصہ ڈالتا ہے، یہ ہی نعرہ ایم کیو ایم کا بھی ہے اور رہا ہے ، مگر انہوںنے بھی جب موقع تھا دودھ کی نہریں نہیں نکالیں کراچی پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے اور تجارتی شہر ہے، اس لیے سندھ کو مزید ترقیاتی فنڈز اور بڑے منصوبے ملنے چاہئیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ پہلے ادا کئے گئے ترقیاتی فنڈز کراچی اور اندرون سندھ کسطرح خرچ ہوئے ؟؟؟کراچی میں پی پی پی کووافر ووٹ نہیںملتے ، پی پی پی کی سندھ میں گزشتہ سترہ سال سے زائد حکومت کا دارومدار اندرون سندھ کا ووٹ بنک
ہے وہاں بھی غربت کی شرح کئی علاقوںمیںبلند ہے ایسی صورتحال میں پی پی پی کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کہ مزید فنڈز دئے جائیں ، اگر مزید فنڈز مانگے جا رہے ہیں تو عوام یہ بھی پوچھتے ہیں کہ موجودہ وسائل سے تعلیم، صحت، پانی اور شہری سہولیات میں کتنی بہتری آئی ہے؟ * **BRT ریڈ لائن جو 2022 میں شروع ہوئی تھی، 2024 تک مکمل ہونا تھی، لیکن 2026 میں بھی جاری ہے۔ اس کی لاگت تقریباً 79 ارب روپے سے بڑھ کر 103 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ ہم بد قسمت ہیںکہ ہمارے ملک میں تمام تر خرابی کی جڑ کرپشن ہے مندرجہ بالا دی گئی کچھ تفصیلات سندھ کی ہیں جہاں سترہ سال سے زائد عرصے بلا شرکت غیرے پی پی پی کی حکومت ہے اسلئے یہ پی پی پی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اس پر قابو پائے اور عوام کو سہولیات فراہم کرے ، اسکا مطلب یہ نہیںکہ ہمارے دیگر صوبے کسی کرپشن سے پاک ہیں، مگر جو ” لٹ“ سندھ میں مچی ہے اسکے مقابل نہیں۔احتسابی ادارے کمزور ہیںمعاملہ انکے پاس جاکر سالوں انتظاربھی بے معنی ہیں ۔
کیا اب گلگت بلتستان سوئیزر لینڈبن جائے گا ؟؟؟؟
09:07 AM, 11 Jun, 2026