4 ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی ختم، چھوٹے کسانوں کو آسان قرضے ملیں گے ، وزیر خزانہ محمداورنگزیب

01:52 PM, 11 Jun, 2025

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے 4 ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، جو گزشتہ 30 سالوں میں پہلی بار ہونے والی بڑی اصلاحات ہیں۔ اس سے ملک کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کل 7 ہزار ٹیرف لائنز ہیں جن میں سے 4 ہزار پر ڈیوٹی ختم کی گئی ہے اور آئندہ سالوں میں ٹیرف میں مزید کمی کی جائے گی تاکہ پورے نظام میں تقریباً 4 فیصد کمی ہو سکے۔ یہ اصلاحات ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کا اہم قدم ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو جتنا ممکن ہوا ریلیف دیا گیا ہے اور حکومت چھوٹے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرے گی تاکہ وہ بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پنشن اور تنخواہوں کو مہنگائی کے حساب سے بڑھانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے، مگر حکومت کی مالی گنجائش محدود ہے اور وہ قرض لے کر بھی ریلیف دے رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً ساڑھے سات فیصد ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وفاقی اخراجات کو کم کرے۔ وزراء اور پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آخری بار تنخواہیں 2016 میں بڑھی تھیں۔

توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور ٹیکس کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس سال حکومت نے 400 ارب روپے سے زائد ٹیکس انفورسمنٹ کے ذریعے جمع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں پارلیمان سے تعاون طلب کیا جائے گا تاکہ ٹیکس کے نفاذ میں آسانی ہو اور چوری روکنے میں مدد ملے۔

انہوں نے واضح کیا کہ زرعی شعبے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا اور چھوٹے کسانوں کو مالی مدد کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔ پچھلے سال عالمی مالیاتی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے اضافی ٹیکس لگانے پڑے تھے لیکن حکومت اب زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگر پارلیمان ٹیکس کے نفاذ کے لیے قانون سازی میں تعاون نہیں کرے گی تو حکومت کو مزید 400 سے 500 ارب روپے کے اضافی اقدامات کرنے پڑ سکتے ہیں، اس لیے انہوں نے کہا کہ پارلیمان سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملے میں مدد کرے تاکہ ملکی معیشت کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزیدخبریں