چترال کی وادیوں سے تعلق رکھنے والی ایک روشن آنکھوں والی بیٹی، جو کل تک اسلام آباد کی سڑکوں پر، کلاس رومز میں، اور سوشل میڈیا پر مسکراتی ہوئی دکھائی دیتی تھی، آج ایک تصویر میں قید ہو چکی ہے۔ وہ مسکراہٹ جو کبھی ٹک ٹاک پر نظر آتی تھی، اب تعزیتی پوسٹ بن چکی ہے۔ اور ہم، جو کل تک اسے ایک ’ٹرینڈ‘ یا ’کانٹینٹ‘ سمجھتے تھے، آج افسوس اور غصے کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔
کبھی ہم کہتے ہیں: یہ غیرت کے نام پر قتل تھا۔ کبھی آواز آتی ہے: نہیں، یہ عشق کی انتہا تھی! کسی کا الزام مذہب پر، کسی کا مجرم سوشل میڈیا، اور کوئی صرف اس لڑکے کو پکارتا ہے جس نے بندوق چلائی۔ لیکن کوئی نہیں کہتا: ہم نے اسے بچایا کب تھا؟ ہم نے اس بچی کو کب وقت دیا؟ ہم نے اسے اللہ کی حدود کب سکھائیں؟ ہم نے اسے یہ کب بتایا کہ سچی عزت سکرین پر آنے سے نہیں، دل میں حیا اور روح میں ایمان سے آتی ہے؟ ہم نے کب اس کے دل میں خوفِ خدا اور شعورِ رسالت پیدا کیا؟ یہ ایک دن کا حادثہ نہیں، یہ برسوں کی اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔ جب وہ بے پردگی پر فخر کرنے لگی، ہم نے کچھ نہ کہا۔ جب وہ انسٹاگرام پر تصاویر اپلوڈ کر کے ’لائکس‘ سمیٹنے لگی، ہم نے آنکھیں بند رکھیں۔ جب وہ نامحرموں سے قربت کو آزادی سمجھنے لگی، ہم نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ ’’زمانہ بدل گیا ہے‘‘۔ اور جب وہ دیر رات تک موبائل پر مصروف رہی، ہم نے کہا: ’’اب بچے آزاد ہیں، ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘ اور پھر جب وہ قتل ہو گئی، تو ہم نے شور مچایا: قاتل کو پھانسی دو! یقینا قاتل مجرم ہے، لیکن کیا ہم سب اس جرم میں شریک نہیں؟ اس بچی کی تربیت نہ کرنے والے والدین، اسے دین سے جوڑنے سے قاصر اساتذہ، سوسائٹی جو بے حیائی کو آزادی کہتی ہے، اور میڈیا جو حیا کو قدامت پسندی بنا کر پیش کرتا ہے … کیا ہم سب قاتل نہیں؟
اسلام کا مزاج یہ ہے کہ وہ ہر جان کو محترم قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اللہ نے محترم بنایا مگر حق کے ساتھ۔‘‘ (الانعام: 151)
ایک اور مقام پر فرمایا: ’’اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضب ناک ہو گا اور اس پر لعنت فرمائے گا۔‘‘ (النسائ: 93)
اسلام میں غیرت کا مفہوم عزت کی حفاظت ہے، ظلم نہیں۔ شریعت کسی شخص کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی انا، شک یا معاشرتی دباؤ کے تحت کسی کی جان لے۔ یہ غیرت نہیں، جہالت ہے۔ یہ اصلاح نہیں، درندگی ہے۔ صوفیائے کرام ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ اصل تربیت دل کی ہوتی ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ نے فرمایا: ’’جس دل میں معرفتِ الٰہی نہ ہو، وہ دل اندھا ہے اگرچہ آنکھیں روشن ہوں۔‘‘
حضرت مولانا رومؒ کہتے ہیں: ’’تمہاری اولاد تمہاری سب سے بڑی امانت ہے، انہیں صرف لباس نہیں، روح کی پاکیزگی دو۔‘‘
ہم کسی بچی کے فیشن یا میک اپ پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے … وہ اس کا ذاتی معاملہ ہو سکتا ہے … مگر والدین، اساتذہ، علماء اور حکومت کی یہ ذمہ داری ضرور بنتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کو صرف ظاہری تعلیم نہیں، باطنی شعور بھی دیں۔ سوشل میڈیا پر قدغن ہو یا نہ ہو، مگر گھروں میں دلوں پر تربیت کا پہرہ تو ہو۔
والدین اگر بیٹیوں کو محبت، وقت، توجہ اور ایمان کا تحفہ دیں، تو وہ کبھی کسی جعلی محبت، سستی شہرت یا وقتی توجہ کی طلب گار نہیں ہوں گی۔ ہمیں اپنی بچیوں کو صرف برقع نہیں، بلکہ بصیرت دینی ہے۔ صرف پردہ نہیں، بلکہ اللہ سے ربط دینا ہے۔ ہمیں ان کے لباس سے پہلے ان کے دل کو سنوارنا ہے۔ ورنہ کل کسی اور کی بیٹی ایسی ہی کسی اندوہناک انجام کا شکار ہو گی، اور ہم صرف ایک اور تصویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کر کے آنسو بہا لیں گے۔
یاد رکھیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو اللہ کی حدود سے آگے نکلے وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ (البقرہ: 229)
یہ وقت آنکھیں کھولنے کا ہے۔ ہمیں جذباتی نہیں، باشعور ردِعمل دینا ہو گا۔ ہمیں قتل ہونے والی بیٹیوں کی تصاویر شیئر کرنے کے بجائے، زندہ بچیوں کے دلوں میں حیائ، غیرت، علم، شعور اور اللہ کی محبت بسانا ہو گی۔ ورنہ ہم سب شریکِ جرم ہی رہیں گے۔
(کالم نگار ممتاز مذہبی سکالر اور آستانہ عالیہ عیدگاہ شریف کے زیب سجادہ ہیں،مختلف جامعات میں اصلاحی و روحانیت کے عنوان پہ لیکچرز دیتے ہیں،ملکی و بین الااقوامی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔قومی اخبارات و جرائد میں آپکے کالمز شائع ہوتے ہیں۔)
ہم سب شریکِ جرم ہیں
09:35 AM, 11 Jun, 2025