پاکستانی نوجوان دوراہے پر!

09:34 AM, 11 Jun, 2025

انقلاب چاہے سیاسی ہو یا معاشرتی، اس میں اہم ترین کردار نوجوانوں کا ہوتا ہے۔ انقلابِ فرانس‘ انقلابِ روس‘ انقلابِ ایران ہوں یا تحریک پاکستان اور عرب بہار، ہر انقلاب اور تحریک میں نوجوان ہی ہر اول دستے کا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت خداداد صلاحیتوں، توانائی، امنگوں اور بلند عزائم کا نام جوانی ہے۔انسانی زندگی کا طاقتور ترین نیز لامحدود جذبوں اور ولولوں سے مزین دور جوانی کا ہوتا ہے۔ اگر اس دور میں انسان اپنی صلاحیتوں، توانائی اور وقت کو صحیح اور بھرپور طریقے سے بروئے کار لے آئے تو حیرت انگیز معرکے سر کرسکتا ہے۔ چنانچہ جوانی کے دور کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اس کا ہر لمحہ تعمیری کاموں میں صرف کرنا چاہیے۔ پاکستان کی کل آبادی کا 64فی صد نوجوانوں پر مشتمل ہے جو بلاشبہ ایک بہت بڑا قومی اثاثہ ہیں بشرطیکہ انہیں بہترین تعلیم و تربیت سے آراستہ اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر دیئے جائیں۔ پاکستانی نوجوانوں کو ان کی قابل فخر اسلامی تاریخ اور شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثے سے روشناس کرا کر میدان میں اتارا جائے تو وہ ملک و قوم کی تقدیر بدل ڈالیں۔ ان کے لئے زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ اسوۂ رسول کریمؐ ہے جس پر عمل پیرا ہوکر وہ انفرادی اور اجتماعی طور پر کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔ پیار ے نبی حضرت محمدؐ نے فرمایا: ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت کو بیماری سے پہلے، خوش حالی کو ناداری سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے ‘‘(ترمذی)۔
وطن عزیز کو ان دنوں جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان سے نبٹنا تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے نوجوانوں کی نبویؐ طریقے پر تعلیم و تربیت کریں۔ اس سلسلے میں والدین، اساتذۂ کرام اور اہلِ علم و دانش پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پاکستان اور اسلام کی دشمن قوتوں نے ہمارے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بنایا ہوا ہے۔ وہ ایک طرف تو انہیں مادرپدر آزاد مغربی تہذیب و ثقافت کا گرویدہ بنانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں تو دوسری طرف انہیں دو قومی نظریے اور پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے بارے ابہام کا شکار بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ ہم گلوبلائزیشن کے منفی اثرات کی طرف سے بھی آنکھیں بند نہیں کرسکتے جس کی آڑ میں مغرب اپنی تہذیب و ثقافت کی ظاہری چمک دمک اور نگاہوں کو خیرہ کردینے والی جدید ترین ٹیکنالوجی سے ہمارے نوجوانوں کو مرعوب کررہا ہے۔ اس صورت حال نے پاکستانی نوجوان کو دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے اور اسے ایک طرح کی فکری کش مکش میں مبتلا کردیا ہے۔ اسلامی تعلیمات و اقدار کے مطابق اس کی کردار سازی کی جتنی ضرورت و اہمیت آج ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ یہ کام موجودہ نظامِ تعلیم کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ لارڈ میکالے کے تعلیمی نظریات پر مبنی اس نظام کا بنیادی مقصد سامراجی طاقتوں کے فرمانبردار افراد تیار کرنا تھا۔ یہ نظام اسلامی تاریخ کے ہیروز جیسی عظمتِ کردار کے حامل نوجوان تیار کرنے سے قاصر ہے۔ حد سے بڑھی مادہ پرستی اور اخلاقی بے راہروی اسی نظامِ تعلیم کا نتیجہ ہیں۔ اسے تبدیل کئے بغیر قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کے حصول کی جدوجہد کرنے والے نوجوان تیار نہیں کئے جاسکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض چند فی صد اشرافیہ کے مفادات کو پورا کرنے والے موجودہ نظامِ تعلیم کو خیرباد کہہ دیں اور دین اسلام کے متعین کردہ رہنما اصولوں پر مبنی اور جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم کو نافذ کریں جو ہمارے نوجوانوں کا اپنے خالق و مالک سے رشتہ مضبوط بنائے، اُنہیں مقصد حیات سے روشناس کرائے، قابلِ فخر تاریخ اور اسلاف کے کارہائے نمایاں سے آگاہ کرے اور اپنے شاندار علمی، تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے ان کا رشتہ جوڑ دے۔ اس حوالے سے ہم مزید تاخیر کے ہرگز متحمل نہیں ہوسکتے۔
عہدِ حاضر میں انسان جہاں روز بروز ترقی کی نت نئی منازل طے کر رہا ہے‘ وہاں مالی و اخلاقی جرائم کی پستیوں میںبھی مسلسل گرتا چلا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ والدین‘ اساتذۂ کرام اورچند حکومتی اداروں کی طرف سے اپنے فرائض سے غفلت ہے۔ بچے کی تربیت کا آغاز ماں کی گود سے ہوتا ہے۔ ایک پڑھی لکھی ‘ سلیقہ شعار اور اسلامی اقدار سے واقف ماں اپنے بچے کی پرورش کے ساتھ اس کی بہترین تربیت بھی کرتی ہے۔ بچہ ذرا بڑا ہوتا ہے تو سکول یا مدرسہ کے اساتذہ پر اس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔ تب بچہ اپنی عمر کے اس حصہ میں ہوتا ہے جب ہر اچھی یا بری بات اس کے ذہن پر نقش ہو جاتی ہے۔ بچے کی شخصیت کی تعمیر کا عمل اسی عمر میں شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی والدین اور اساتذہ بچے کو معاشرے کا مفید شہری بنانے میں کلیدی کردارادا کرتے ہیں۔ ٹین ایج میں پہنچ کر بچے اپنے گرد و پیش کے ماحول سے مثبت یا منفی اثرات قبول کرتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ آج کل جس اخلاقی بحران میںمبتلا ہو رہا ہے‘ اس کے باعث بچوں اور نوجوانوں کے کردار پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ مادیت پرستی عام ہو چکی ہے۔ جلد از جلد دولت مند بننے کے چکر میں حلال و حرام کی تمیز کھوئی جا چکی ہے۔ عظمتِ کردار اور شرفِ انسانیت گئے وقتوں کی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے مغربی تہذیب و ثقافت کے دلدادہ افراد نے ان کی خوبیوں کی بجائے خامیوں کو اپنا لیا ہے۔ وہ اسے جدیدیت سے تعبیر کر رہے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو دقیانوسی سوچ کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ مغرب میں بدعنوانی‘ دھوکہ دہی‘ ملاوٹ‘ذخیرہ اندوزی‘ اقربا پروری‘ رشوت ستانی‘ میرٹ کے خلاف تقرری اور ترقی کی کوئی گنجائش نہیں مگر ہمارے معاشرے میں یہ خرابیاں اس حد تک سرایت کر چکی ہیں کہ لوگوں نے اسے نظام زندگی سمجھ کر مجبوراً قبول کر لیا ہے۔ ان برائیوں کے خلاف 
قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ حالیہ چند برسوں میں ہمیں خواتین اور کم سن بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی ایک نہ تھمنے والی لہر کا سامنا ہے۔یہاں صرف ایک فیصد جنسی جرائم رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ باقی 99 فیصد خاندان اور معاشرے میں عزت بچانے کے لیے رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔ بااثر افراد کی طرف سے غربت اور افلاس کے مارے گھرانوں کی خواتین اور لڑکیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ سڑکوں پر طاقت اور دولت کے نشہ میں دھت افراد کی جانب سے غریب اور کمزوروں پر ظلم وستم کی ویڈیوز اکثر سوشل میڈیا پر دیکھی جا رہی ہیں ۔ ایسے حالات میں ہمیں نوجوانوں کی اس نہج پر تربیت کرنی ہے کہ وہ اعلیٰ کردار اور اخلاق کے مالک بنیں کیونکہ ایک مہذب قوم کی تشکیل کیلئے اخلاقی اقدار کا فروغ بہت ضروری ہے۔

مزیدخبریں