اکنامک سروے 2204-25، حکومتی کارکردگی کا جائزہ

09:34 AM, 11 Jun, 2025

میں نے دوران تعلیم اپنے یونیورسٹی اخراجات اور فیملی سپورٹ کے لئے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کر لی۔ ابتدائی جاب ٹریننگ کے اختتام پر سی ای او نے سب سے ایک سوال پوچھا کہ آپ کی سیلری کون دیتا ہے۔ مختلف جواب آنا شروع ہوگئے، کسی نے کہا کمپنی، کسی نے فنانس ڈیپارٹمنٹ کی آواز لگائی، میں سب کم تجربہ کار اور صحافت کا طالب علم ہونے کے ناتے خاموش تھا کہ سی ای او نے میری طرف اشارہ کر کے پوچھا آپ بتائیں۔ چند لمحے کی خاموشی کے بعد میں نے ایک تکہ لگایا کہ ہماری تنخواہ کسٹمر دیتا ہے۔ جواب بالکل درست نکلا، تالیاں بجیں۔ صحافت میں 20 برس گزارنے کے بعد میرا یہ اندازہ یقین میں بدل چکا ہے کہ کسی کمپنی کے اخراجات ہوں یا کمپنی سرکارکے، ان سب کا خرچہ گاہک نے اٹھانا ہے۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام اس نظام کے گاہک ہیں اور اس کوچلانے والوں کا تمام خرچہ ان کے ذمے ہے۔ اصولی طور پر یہ بات غلط بھی نہیں کہ نظام عوام کے ٹیکسز اور تعاون سے چلایا جائے۔ لیکن جب نظام عوامی فلاح اور ترقی کی بجائے مخصوص طبقات کے مفادات کے تحفظ کا ذریعہ بن جائے تو اسے غیر متوازن ظالمانہ معاشی نظام سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں جون بجٹ کامہینہ کہلاتا ہے۔ اچھا بجٹ وہ ہوتا ہے جو سر پلس ہو لیکن میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے قومی سطح پرملک کو ہر سال ایک نئے خسارے کے بجٹ کا سامنا رہا ہے۔ اس میں تمام تجربہ کار ناتجربہ کار سیاسی جماعتوں اور فوجی حکومتوں کے بجٹ شامل ہیں۔ اب یہ بجٹ براہ راست آئی ایم ایف کا بجٹ بن چکا ہے۔ حکومت اور قومی اسمبلی کا کام فقط اس کی توثیق کرنا رہ گیا ہے۔ بجٹ کا یہ گورکھ دھندہ دہائیوں سے جاری ہے۔ حکومت میں ہوتے ہوئے وزرائے خزانہ اپنے بجٹ کو بہترین بجٹ قرار دیتے ہیں اور حکومت سے باہر ہونے کا بعد وہ تمام خوبیاں، خامیوں میں بدل جاتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آج کل حکومتی معاشی پالیسیوں پر تنقید کے باعث عوامی اور میڈیا کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے دورمیں بجٹ کے اعداد و شمار بھی ایسے ہی گورکھ دھندوں سے بنائے جاتے رہے ہیں۔ ان کی ایک حالیہ تحریر میں یہ ’انکشاف‘ کیا گیاہے کہ حکومت ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے ذریعے عام آدمی کی زندگی کو کیسے مشکل بنا رہی ہے۔ یعنی کہ آپ صابن کی ایک ٹکیہ سے لے کر جوس کا ایک ڈبہ یا بال پوائنٹ پین خریدتے ہیں یا ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ہر بار جب ہم ہوائی جہاز یا بس میں سفر کرتے ہیں، ٹیکس دیتے ہیں۔ جب ہم موٹرسائیکل پر کام پر جاتے ہیں یا بینک سے رقم نکالتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ مختصراً، ہماری حکومتیں زندگی کی تقریباً ہر سرگرمی پر ٹیکس لگا دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر پٹرولیم لیوی جو اسوقت 78 روپے ہے اور حکومت اسے بڑھا کر 100 روپے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ایک موٹر سائیکل سوار روزانہ ایک لیٹر پٹرول ڈلواتاہے تو ماہانہ 3000 روپے حکومت کو ٹیکس کی مدمیں ادا کرے گا یعنی 36000 روپے سالانہ۔ مفتاح اسماعیل اس سسٹم کے آدمی ہیں یقینی طور پردرست نشاندہی کی ہوگی۔ حکومت کئی سو ارب سالانہ صرف پٹرولیم لیوی سے اکٹھا کرتی ہے۔ بجلی، گیس، پانی کے بلوں میں موجود غیر متوازن ریٹس اورٹیکس الگ سے ادا کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اگلے مالی مالی سال 26-2025 کے دوران ان کے نرخوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس لئے عوام اب اپنی ان بنیادی سہولیات کے استعمال سے بھی خوفزدہ ہیں۔ آئندہ بجٹ پر تبصرہ تو اگلے کالم میں ہوگا لیکن اکنامک سروے 25-2024 کی رپورٹ کے مطابق حکومتی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی ہے۔ حکومت میں شامل بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی تجربہ کار ٹیم اور ایس آئی ایف سی کی معاونت کے باوجود معاشی اہداف کی منفی کارکردگی حکومت کے دعوؤں پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ حکومت شاید اپنی 2023-24 کی خراب کارکردگی سے موازنہ کر کے خوش ہو رہی ہے۔ 
اقتصادی سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیشتر اہم شعبے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ زرعی شعبہ، جو جی ڈی پی کا تقریباً 24 فیصد بنتا ہے، صرف 0.6 فیصد ترقی کر سکا، حالانکہ ہدف 2 فیصد رکھا گیا تھا۔ اہم فصلوں کی پیداوار میں13.5 فیصد کمی ہوئی، گندم اور مکئی جیسی فصلیں شدید متاثر ہوئیں، جبکہ کاٹن جننگ میں 19 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس دوران ہم نے دیکھا کہ حکومت نے کارپوریٹ فارمنگ کے نام پرمختلف افراد کوبڑے قطعہ اراضی دے کے جاگیرداری کی ایک نئی شکل پیداکی ہے۔ جبکہ پہلے سے موجود درمیانہ اورچھوٹا زمیندار پانی کی کمی، کھاد اور بیج کی عدم فراوانی و ارزانی کی مانگ کرتارہا۔ فصلوں کی سپورٹ پرائس یا مارکیٹ میں پوری قیمت نہ ملنے سے کسان اپنے پیروں پرکھڑا نہیں ہو پا رہا۔ صنعتی شعبہ میں مسلسل تیسرے سال بھی منفی رجحان رہا اوراس سال لارج مینوفیکچرنگ میں 1.5 فیصد کی کمی نوٹ کی گئی۔ خدمات کا شعبہ، جو معیشت کا سب سے بڑا یعنی 59 فیصد حصہ ہے،ہدف سے 1.2فیصد پیچھے رہا۔ سرمایہ کاری کی شرح جی ڈی پی کے 13.8 فیصد تک پہنچی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر 
ہے لیکن مقررہ ہدف 14.2 فیصد سے کم ہے۔ نجی سرمایہ کاری 9.1 فیصد بڑھی جبکہ ہدف 9.7 فیصد تھا۔ تمام تر سخت گیر اقدامات کے باوجود حکومت کوئی بھی ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہی۔ حکومت 38 ارب کے ریمیٹنس پرکارکردگی کے ڈھول پیٹ رہی ہے۔ یہ ریونیو دینے والے دراصل وہ لاکھوں پاکستانی ہیں پچھلے دو برسوں میں ملکی معاشی حالات سے دلبرداشتہ ہو کر قانونی طور پر یا ڈنکی لگا کر ملک سے باہر چلے گئے اور اب اپنے ماں باپ، بیوی بچوں کو پیسے بھجوا رہے ہیں۔ برین ڈرین کو فائدے کی نظر سے دیکھنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ کفایت شعاری اوربچت کی ساری ذمہ داری عوام پر ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اخراجات کم کرنے میں مکمل طور پرناکام رہی ہیں اور سیاسی وجوہات کی بنا پر آگے کم کرنے پر تیاربھی نظرنہیں آتیں۔ ایف بی آر 25-2024 کے ٹیکس اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ پہلے 10 ماہ میں 821 ارب کے شارٹ فال کا سامناہے۔ جبکہ مئی اور جون میں 4 ہزار ارب روپے اکٹھا کرنا ناممکن ہے۔ اب آمدہ بجٹ میںاس ٹیکس ہدف میں 2000 ارب کا اضافہ کیا گیاہے۔ جس کا واضح مطلب عوام کی دہری کمر پرمزید بوجھ لادا جائے گا۔ 26-2025 مجموعی طور پر 6500 ارب خسارے کا بجٹ ہو گا۔ یہ خسارہ صرف عوام برداشت کریں گے۔ کیونکہ وہ اس نظام کے گاہک جو ٹھہرے۔

مزیدخبریں