حکومتی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تمام مسائل کا حل کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان کے اس بیان کی طرح ملک کی خوشحالی کا راستہ بھی غریب اور عام آدمی کے پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے جو اس وقت صرف اس لیے خالی ہے کہ ملک کے تمام تر وسائل پر پاکستان کی دو فیصد حکمران اشرافیہ کا قبضہ ہے۔اس اشرافیہ میں جرنیل، ججز، بیوروکریٹس اور سیاستدان ، سبھی شامل ہیں ملکی وسائل کے تمام سوتوں کا رخ اسی حکمران اشرافیہ اور اس کے خواہش و اقارب کی جانب ہے۔ دونوں ہاتھوں سے ملک کے وسائل لوٹنے کے باوجود حکمران اشرافیہ کی بھوک ہے کہ مٹتی ہی نہیں۔ جہاں تک عام آدمی کا تعلق ہے تو وہ چند نوالوں کے لیے بھی ترس رہا ہے۔ اس پر طرہ امتیاز یہ کہ اسی عام ادمی کے سر پر نہ تو چھت ہے اور نہ ہی پاؤں میں جوتا۔ خاص طور پر ملک کا سفید پوش طبقہ سب سے زیادہ پس کر رہ گیا۔ وہ سارا مہینہ محنت کر کے جو کچھ کماتا ہے حکومت ہوشربا یوٹیلٹی بلز کی شکل میں اس کی جیب سے نکال لیتی ہے اور یوں وہ باقی مہینہ گھر کی چیزیں بیچ کر یا ادھار اٹھا کر گزارتا ہے۔
حقیقت حال تو یہ ہے کہ اس عام آدمی کو اس وقت اس امر سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ملک میں کیسا بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس بجٹ کے بعد بھی کئی منی بجٹ آئیں گے نہ اس بجٹ میں اور نہ ہی آنے والے ممکنہ منی بجٹ میں اس کے لیے کچھ ہوگا۔ وہ تو بس اسی لیے سانس کی ڈور تھامے ہوئے ہے کہ حکمران جب چاہیں مہنگائی کے چابک سے اس کی کھال ادھیڑ دیں۔ موجودہ بجٹ بھی ماضی میں پیش کیے گئے بجٹوں سے مختلف نہیں حکومت اور وزیر خزانہ کے دعوے ایک طرف حقائق بتاتے ہیں کہ یہ بجٹ بھی اعداد و شمار کا وہ گورکھ دھندا ہے جس میں پھنسا کر حکومت عوام کی ہڈیاں تک توڑ ڈالے گی۔
چند روز قبل بہاولپور میں رونما ہونے والے ایک اندوہناک واقعہ نے تو گویا کلیجہ ہی چیر کر رکھ دیا۔ بھوک نے ایک معمر خاتون کی جان لے لی۔ جبکہ اس کی دوسری معمر بہن اسی بھوک سے بے ہوش ہو کر لاش کے پاس پڑی رہی۔ جب تعفن اٹھا تو محلے داروں نے ریسکیو 1122 پر اطلاع دی ریسکیو کا عملے نے جب بے ہوش عورت کو ہوش دلایا تو وہ یہی کہہ رہی تھی کہ مجھے کچھ کھانے کو دو ، مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔ ایک عورت تو بھوک کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئی لیکن وہ پورے نظام اور معیشت کی خوشحالی کے دعویداروں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ رسید کر گئی۔
چہرہ بتا رہا تھا کہ مارا ہے بھوک نے
حاکم نے کہہ دیا کہ کچھ کھا کے مر گیا
حقائق تو یہ ہیں کہ معاشی بدحالی کا ایک اور سال مکمل ہوا۔ آئی ایم ایف کے قرض پر چلنے والی ملکی معیشت میں بننے والے حالیہ بجٹ کا نصف کے لگ بھگ حصہ قرضوں کی ادائیگی اور سود پر اٹھ جائے گا۔ حکومت زراعت، بڑی صنعتوں سمیت بیشتر شعبوں کے اہداف حاصل نہ کر سکی۔ اقتصادی سروے میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اور معاشی ماہرین کی رائے کے مطابق رواں سال ناصرف زراعت کا شعبہ بدترین تنزلی کا شکار رہا بلکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار بھی مزید کم ہو گئی۔
رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کی عبوری شرح نمو 2.68 فیصد رہی جو مقررہ ہدف 3.6 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔ رواں مالی سال کے دوران معیشت کا حجم 39 ارب 30 کروڑ ڈالر کے اضافے سے 410 ارب 96 کروڑ ڈالر تک پہنچا جب کہ گزشتہ سال یہ حجم 371 ارب 66 کروڑ ڈالر تھا۔ معیشت کا حجم ملکی سطح پر 9600 ارب روپے بڑھا اور مجموعی حجم 114.7 ہزار ارب روپے رہا۔ فی کس سالانہ آمدن 144 ڈالر کے اضافے سے 1680 ڈالر رہی۔ ملکی زرعی شعبے کی کارکردگی مجموعی طور پر مایوس کن رہی۔ اہم فصلوں کی شرح نمو منفی 13.49 فیصد رہی جب کہ ہدف منفی 4.5 فیصد تھا۔ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی مجموعی شرح نمو انتہائی مایوس کن 0.56 فیصد رہی، جو کہ مقررہ ہدف 2 فیصد سے کم تھی۔ ایک سال کے دوران بیشتر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی نہ ہو سکی، مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعووں کے برعکس گزشتہ ایک سال میں چکن، گوشت، چینی، انڈے، گھی، دالوں سمیت کئی ضروری اشیا مزید مہنگی ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق ایک جانب جب حکومت ملک میں مہنگائی 60 سال کی کم ترین سطح پر آ جانے کے دعوے کر رہی ہے، وہیں حکومت کے اپنے ادارے کے اعداد و شمار نے حکومتی دعووں کی قلعی کھول دی۔ جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران روزمرہ استعمال کی کئی اشیا مہنگی ہوئی ہیں جب کہ چند اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی آٹا، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں نیچے آئیں تاہم چکن، گوشت، چینی، انڈے اور گھی سمیت کئی اشیاء مہنگی ہوئیں۔
افسوس ناک امر یہ ہے حالیہ کچھ عرصے میں ہی پارلیمنٹیرینز ،ججز، بیوروکریٹس اور حکمران اشرافیہ کے دیگر شعبوں سے وابستہ افراد نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں کئی گنا اضافہ کیا تاہم جب عوام کو ریلیف دینے کی بات آتی ہے تو یہی حکمران طبقہ اپنی مجبوریوں کا رونا رو دیتا ہے۔ موجودہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے مختص کئے گئے انتہائی نامناسب فنڈز اس حقیقت کو طشت ازبام کرتے ہیں عوام حکمرانوں کی فہرست میں کہیں بھی نہیں۔ ریاست پاکستان ایک ایسی سکیورٹی سٹیٹ بن چکی ہے جس کے لیے کان چاہے ادھر سے پکڑ لے یا ادھر سے بجٹ کا ایک خطیر حصہ سکیورٹی کے نام پر اٹھ جاتا ہے اور ایسے میں عام آدمی ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔
عام آدمی کی بدحالی
09:33 AM, 11 Jun, 2025