عمران خان کی تحریک انتشار

09:31 AM, 11 Jun, 2025

کئی ایک کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود مسلم لیگ اتحادی حکومت چل نکلی ہے اپنا دوسرا بجٹ بھی پیش کر چکی ہے اور آسانی سے اسے اسمبلی سے پاس بھی کرا لے گی آئین میں ترمیم بھی ہو چکی ہے۔ 8 فروری 2024 کے انتخابات کے نتیجے میں قائم شہاز شریف کی مرکزی حکومت پنجاب میں مریم نواز شریف کی اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں عوامی امنگوں کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ پنجاب کے ساتھ مسابقت میں سندھ کی حکومت نے بھی کئی اچھے کام شروع کر دیئے ہیں اس مثبت مسابقت کے باعث پیپلز پارٹی مجبور ہوئی ہے کہ وہ سندھ کی صوبائی حکومت کی کار کردگی بہتر بنائے۔ ن لیگ مریم نواز شریف کو وزیرا عظم کے امیدوار کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے انکی قیادت میں پنجاب میں مثالی گورننس کا نمونہ پیش کرنے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں اس سے پہلے محمد نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر حسن کار کردگی دکھا چکے ہیں۔ اس کے بعد محمد شہباز شریف نے پنجاب میں مثالی ترقی کے کام بہترین انداز میں مکمل کر کے اپنے آپ کو وزارت عظمیٰ کا مستحق بنایا ہے اب وہ مرکز میں اپنی مثالی کار کردگی دکھا رہے ہیں اسلئے ضروری ہے کہ مریم نواز شریف اپنے والد اور چچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تعمیر و ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کرے اور وہ ایسا کر رہی ہیں گڈ گورنس کے ذریعے عوام کے دلوں میں اپنا گھر بنائے اور اپنے آپ کو پاکستان کی سر براہی کا اہل ثابت کریں۔ دوسری طرف بلاول بھٹو وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں وہ ایک پروگریسو اور محنتی نوجوان ہیں انہوں نے ایک طرف اپنی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا دینے کی کاوشیں کی ہیں صوبائی حکومت کی بہتر کار کردگی اس کا کھلا ثبوت ہے دوسرا خارجہ محاذ پر بھی انکی محنت رنگ لا رہی ہے پاکستان کی سفارتی تنہائی کے خاتمے میں ان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
سب سے اہم پاک بھارت جنگ اور آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی فتح مبین نے بھی جاری نظام کو استحکام بخشا ہے جنرل عاصم منیر کو قوم نے فیلڈ مارشل کے منصب جلیلہ تک پہنچا دیا ہے۔ شہباز شریف کی اتحادی حکومت کا ر کر دگی کے میدان میں بھی اپنا سکہ جما چکی ہے۔ اسے کسی سے کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا ہے۔ اس وقت سیاسی قوتوں کے درمیان بھی اتحاد ہے اور حکومتی اتحاد اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھی مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے عمران خان کی پبلک سپورٹ کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمی بھی دور ہو چکی ہے عمران خان کی احتجاج کی کا لیں ٹھس ہو چکی ہیں عمران خان اپنی بیوی (پنکی پیرنی) کو بھی لانچ کرکے دیکھ چکے ہیں نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے تنظیم کہیں نظر نہیں آتی ہے کالیں دے دے کر انہوں نے دیکھ لیا ہے لیکن انہیں کا میابی نہیں مل سکی۔ 
عمران خان نے اب معاملات اپنے ہا تھ میں لے لئے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو پارٹی کے پیٹرن ان چیف پر فائز کردیا ہے۔ حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور  اس کی قیادت خود کرنے کا اعلان کر کے قومی سیاسی منظر پر ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ عمران خان بنیادی طور پر ایک منفی اور تنقیدی فکر و عمل کے حامل انسان ہیں پھر انکی بھائی لوگوں نے تربیت بھی ایسے ہی کی ہے کہ انکی یہ خصوصیت انکی پہچان بن چکی ہے۔ 2011 سے لے کر 2018 تک انہیں اسی تنقیدی کام پر لگایا گیاتھا۔ پیپلز پارٹی ن لیگ اور دیگر سیاسی قائدین کے خلاف غل غپاڑہ مچانے کے لئے انہیں چنا گیا تھا۔ اس دوران تمام ریاستی و حکومتی ذرائع کی انہیں سپورٹ فراہم کی گئی۔ اسی دوران میں عمران خان کی ایسی احتجاجی و تنقیدی سیاست نے اپنا رنگ جمایا ۔
عمران خان 2018 میں جب اقتدار میں لائے گئے تو ان کی ایسی ہی صلاحیتیں بھائی لوگوں کو ہی بری نہیں لگنا شروع ہو گئیں بلکہ کار سرکار بھی اس کا شکار ہوا۔ پاکستان معاشی، سفارتی اور ثقافتی تنہائی کا شکار ہو گیا۔ عمران خان کی نالائقیاں ریاست کی جڑوں میں بیٹھنے لگیں۔ 2022 میں ان کا اقتدار ختم ہوا اور تین سال سے وہ احتجاجی موڈ میں حکومت ، ریاست اور سیاست کے خلاف برسر پیکار ہیں گو اس جدو جہد میں انہوں نے تمام سرخ لکیریں بھی کراس کر لی ہیں۔ ہر منفی حربہ بھی استعمال کر کے دیکھ لیا ہے لیکن وہ اپنا کوئی بھی مطالبہ منوانے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ ریاست ان سے بات چیت کرنے پر کسی طور میں آمادہ نظر نہیں آ رہی ہے وہ سالار اعلیٰ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو مسلسل نشانے ہر رکھے ہوئے ہیں جھوٹ اور دروغ گوئی میں لپٹی ہوئی زبان درازی انہیں روز بروز مشکلات کی دلدل میں دھکیلتی چلی جارہی ہے انکی پارٹی فکری و عملی انتشار اور بے عملی کا شکار ہو چکی ہے۔ گروہ بندیاں واضح ہو کر سامنے آچکی ہیں بیرونی امداد کی تمام امیدیں بھی دم توڑ چکی ہیں۔ امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ شہباز شریف حکومت کے ساتھ شیر و شکر نظر آ رہے ہیں کسی قسم کی بیرونی امداد سے بھی مکمل نا امیدی کے ساتھ پیٹرن ان چیف بننا اور احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کا اعلان مایوسی کا اظہار نہیں تو اور کیا ہے۔ ایسے حالات میں کیا عمران خان کو نہیں پتا کہ اسکی پارٹی کی کیسی حالت بنی ہوئی ہے، حکومت اور ریاست ایک پیج پر ہیں ملک معاشی بہتری کی طرف چل نکلا ہے۔ معاملات بتدریج بہتری کی طرف جانے لگے ہیں ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی احتجاجی تحریک کیسے کا میاب ہو گی؟ حکومت اور ریاست کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی جس سے نقص امن کا اندیشہ ہو جس سے کسی بھی قسم کا عدم استحکام ظاہر ہونے کا رتی برابر بھی امکان ہو۔ پھر بھی اگر عمران خان لنگر لنگوٹ کس کر، پارٹی کے پیٹرن ان چیف بن کر جیل میں بیٹھ کر تحریک کی قیادت  کرنے کا اعلان کر رہے ہیں تو پھر یہ سب کچھ کیا ہے ؟۔
بظاہر تو یہ اعلان دیوانے کی بڑ اور ذہنی انتشار کو ظاہر کرتا ہے ہمارے ماہرین اس تحریک کے ناکام ہونے کی پیش گوئیاں بھی کر رہے ہیں لیکن اگر عمران خان کے ماضی پر نظر ڈالی جائے اور ان کا میلان طبع سامنے رکھا جائے پھر انکی 2011 تا 2018 کی جانے والی تربیت پر نظر ڈالی جائے تو انکے حالیہ اعلان کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ عمران خان انتشار و افتراق پیدا کرنے کے لئے مامور کئے گئے تھے اور اسی ڈیوٹی کے لئے انکی ٹریننگ کی گئی حالانکہ اب حالات بدل چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک پرانی ڈگر پر ہی چلے جارہے ہیں، افتراق و انتشار پھیلانا انکی سیاست ثانیہ بن چکی ہے انہوں نے اپنے تئیں اس پالیسی کی حقانیت بھی ثابت کر دی ہے کہ بغیر کار کردگی دکھائے بغیر کچھ کیے صرف اور صرف بیانیے کی بنیاد پر ووٹ لئے جاسکتے میں عوام کو پیچھے لگایا جا سکتا ہے الیکشن 2024 میں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواران نے دیگر تمام پارٹیوں سے زیادہ ووٹ لے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کار کردگی وغیرہ کچھ نہیں، اصل بات بیانیہ ہے، مخالفت ہے، منفی سیاست ہے ، گالم گلوچ اور دشنام بازی ہے جو کسی لیڈر یا جماعت کو پاپولر بناتی ہے عمران خان ایسا بھی کچھ کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں۔ تحریک کامیاب ہو یا نہ ہو افتراق و انتشار کا تو بول بالا ہو گا۔

مزیدخبریں