جنوبی ایشیا اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں پاک بھارت تعلقات کو صرف سرحدی تنازع یا دو ہمسایہ ریاستوں کی روایتی رقابت کے تناظر میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ بدلتے ہوئے عالمی تزویراتی توازن، ابھرتی ہوئی جغرافیائی معیشت، آبی سلامتی، علاقائی اتحادوں کی نئی تشکیل اور داخلی سیاسی بیانیوں نے اس کشیدگی کو ایک نہایت پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسئلہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کی سفارتی روایات اور رسمی مذاکراتی فارمولے اب اس بحران کے حل کے لیے ناکافی دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ اصل مسئلہ اعتماد کے فقدان، متضاد قومی بیانیوں اور ریاستی ترجیحات کے بنیادی اختلاف میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل یہ مو¿قف اختیار کرتا آیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ بامعنی مذاکرات، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور متنازع امور کے منصفانہ حل سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس کے برعکس بھارتی پالیسی سازی خصوصاً نریندر مودی کے دورِ حکومت میں داخلی انتخابی سیاست، قوم پرستانہ جذبات اور ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ اسی پس منظر میں مسئلہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، سرحدی کشیدگی اور دوطرفہ سفارتی روابط ایسے معاملات بن چکے ہیں جن پر سیاسی لچک کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔ جب داخلی سیاست خارجہ پالیسی پر غالب آ جائے تو مذاکرات اکثر ریاستی ضرورت کے بجائے سیاسی کمزوری تصور کیے جانے لگتے ہیں، اور یہی صورتحال اس وقت نئی دہلی کی حکمتِ عملی میں نمایاں محسوس ہوتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ اعتماد سازی صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے وجود میں آتی ہے۔ اگر کوئی ریاست مذاکرات کی ہر ممکن تجویز سے گریز کرے یا تیسرے فریق کی کسی بھی سفارتی کوشش کو یکسر مسترد کر دے تو اس سے عالمی سطح پر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا مسئلے کے پرامن حل کی حقیقی خواہش موجود بھی ہے یا نہیں۔ اسی لیے جنوبی ایشیا میں امن کی ہر سنجیدہ کوشش اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی جب تک بنیادی تنازعات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان پر حقیقت پسندانہ اور ذمہ دارانہ مکالمہ نہ کیا جائے۔
گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات، سرحدی کشیدگی اور باہمی الزامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنایا۔ ایسے ماحول میں کسی بھی واقعے کی شفاف، آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات ہی عالمی اعتماد پیدا کر سکتی ہیں۔ سیاسی بیانیہ خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، بین الاقوامی برادری اب محض الزامات کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد اور تحقیقاتی شفافیت کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ یہی رجحان عالمی سفارت کاری کی نئی حقیقت بھی ہے، جہاں اطلاعاتی جنگ اور سفارتی بیانیے کے ساتھ ساتھ قانونی اور تحقیقی معیار بھی فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب جنوبی ایشیا میں عسکری توازن بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ جدید دفاعی صلاحیت، تیز رفتار ردِعمل اور مو¿ثر دفاعی حکمتِ عملی نے یہ حقیقت مزید نمایاں کر دی ہے کہ کسی بھی محدود فوجی مہم جوئی کے نتائج غیرمتوقع اور نہایت مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مو¿ثر ڈیٹرنس اب خطے کی سلامتی کا بنیادی عنصر بنتا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پانی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی دباو¿ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ بین الاقوامی قانونی اصولوں کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج تصور کی جائے گی، کیونکہ اکیسویں صدی میں آبی سلامتی قومی سلامتی کے مساوی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کی ممتاز شخصیات کی جانب سے دوطرفہ روابط کی بحالی کے لیے سامنے آنے والی تجاویز اپنی جگہ قابلِ توجہ ضرور ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف ویزا سہولت، فضائی رابطوں یا سفارتی نمائندگی کی بحالی اس وقت تک دیرپا نتائج پیدا نہیں کر سکتی جب تک بنیادی تنازعات پر سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کے درمیان واضح اتفاقِ رائے موجود نہ ہو۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علامتی اقدامات اعتماد سازی کا آغاز تو بن سکتے ہیں، مگر مستقل امن کی ضمانت ہرگز نہیں۔
اسی دوران عالمی جغرافیائی سیاست بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور بحرِ ہند کے گرد ابھرنے والے نئے معاشی اور تزویراتی راستے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ توانائی کی راہداریوں، علاقائی تجارت، رابطہ سازی اور جیو اکنامکس نے اسلام آباد کو محض ایک سکیورٹی ریاست کے بجائے ایک ممکنہ علاقائی اقتصادی پل کے طور پر بھی نمایاں کیا ہے۔ دوسری طرف بھارت کو بھی اپنی معاشی قوت اور سفارتی امکانات کو داخلی سیاسی کشیدگی، مذہبی تقسیم اور بین الاقوامی تنقید کے تناظر میں متوازن رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ کسی بھی بڑی طاقت کے لیے عالمی ساکھ صرف اقتصادی ترقی سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، داخلی ہم آہنگی اور ذمہ دار خارجہ پالیسی سے بھی تشکیل پاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی تقدیر مستقل تصادم میں نہیں بلکہ ذمہ دارانہ بقائے باہمی میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاستیں ہیں، اس لیے کسی بھی نئی کشیدگی کی قیمت صرف دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ پورا خطہ ادا کرے گا۔ اسی لیے مستقبل کی کامیاب ریاست وہی ہوگی جو عسکری تیاری کے ساتھ ساتھ سفارتی بصیرت، معاشی استحکام، علاقائی تعاون اور سیاسی دانش کو بھی اپنی قومی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون بنائے۔ طاقت کا اصل معیار صرف جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ امن کو باوقار اور پائیدار انداز میں برقرار رکھنے کی صلاحیت میں مضمر ہے، اور یہی وہ امتحان ہے جس سے آج جنوبی ایشیا کی پوری سیاست گزر رہی ہے۔
امن کی آخری راہ
10:37 AM, 12 Jul, 2026