اسلام آباد....وہ شہر جسے ریاست کا دل اور چہرہ کہا جاتا ہے۔ جہاں اقتدار کے ایوان ہیں، ملکی سکیورٹی کے محافظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہیڈکوارٹر ہیں، غیر ملکی سفارت خانے ہیں، حساس تنصیبات ہیں، اور ہر سڑک پر ریاست کی موجودگی کا احساس موجود ہے۔ لیکن کچھ روز پہلے یہی شہر اس وقت لرز اٹھا جب ایک نوجوان نے، جو مبینہ طور پر ایک لڑکی کو اپنی موٹر سائیکل پہ زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا، اسے ایسا کرنے سے روکنے کی پاداش میں ایک بہادر لیکن نہتے سینئر ائر فورس افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید پر گولی چلا دی۔ نتیجتاً وطن کا ایک دلیر اور فرض شناس افسر وہیں گر گیا اور ریاست کے سینے پر ایک اور گہرا، بھدا اور انمٹ زخم لگ گیا۔
یہ صرف ایک انسانی قتل نہیں تھا، در حقیقت یہ اس سوچ کا قتلِ عام تھا جو قانون، تہذیب اور معاشرتی اقدار پر یقین رکھتی ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ گولی کس نے چلائی اور کیوں چلائی۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ قاتل کا وہ ذہن کس نے بنایا جس نے چند لمحوں میں فیصلہ کر لیا کہ اگر کوئی اس کی خواہشات کے راستے میں کھڑا ہوگا تو اسے زندہ رہنے کا حق نہیں؟ہم ایک ایسے نازک دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں برداشت کمزور، انا طاقتور، اور قانون بے بس دکھائی دیتا ہے۔ آجکل اختلاف کا جواب دلیل سے نہیں، تشدد سے دیا جا رہا ہے۔ انکار کو قبول کرنا نوجوان نسل کے لیے مشکل سے مشکل تر اور "نہیں" سننے کا حوصلہ ختم ہوتا جا رہا ہے، اور یہی وہ خطرناک ذہنیت ہے جو ہراسانی، تشدد اور سنگین جرائم کو جنم دیتی آئی ہے اور مسلسل دے رہی ہے۔یہ سانحہ صرف ایک مجرم کی یا ایک نوجوان قاتل کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا آئینہ دار بھی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو بہترین موبائل فون تو دیئے رکھے ہیں، مگر بہترین کردار نہیں۔ ہم نے انہیں مہنگے تعلیمی اداروں میں داخل تو کرا رکھا ہے، مگر زندگی کی اصل تعلیم یعنی احترام برداشت اور عدم تشدد دینا بھول گئے ہیں۔ ہم نے انہیں کامیاب بننے کا درس تو رٹا رکھا ہے مگر انسان بننے کی تربیت نہیں دے سکے۔آج نوجوان صبح سے شام تک موبائل کی سکرین پر زندگی سیکھ اور جی رہا ہے۔ اس کے ہیرو وہ لوگ بن چکے ہیں جو دولت، طاقت، نمود و نمائش اور فوری خواہشات کی تکمیل کو کامیابی کا معیار بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو صبر، برداشت، اخلاق اور ذمہ داری سکھاتی تھی، آہستہ آہستہ پس منظر میں چلی گئی ہے۔لیکن اس سانحے کا ایک اور پہلو بھی ہے، اور شاید سب سے خطرناک پہلو۔ کہ آخر اسلام آباد جیسے حساس شہر میں ایک نوجوان درجنوں چیک پوسٹوں اور سکیورٹی ایجنسیز کے جوانوں کے ہوتے ہوے شہر کی سڑکوں پہ مبینہ طور پر بغیر لائسنس اسلحہ لے کر کیسے گھوم رہا تھا؟ یہ سوال صرف پولیس سے نہیں، پوری ریاست سے بھی ہے۔ کہ اگر ایک عام شہری کے ہاتھ میں غیر قانونی اسلحہ اتنی آسانی سے پہنچ سکتا ہے تو پھر دوسرے نہتے، پر امن شہری خود کو محفوظ کیسے سمجھیں؟ اگر دارالحکومت میں بھی اسلحے کی غیر قانونی گردش پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا تو ملک کے دور دراز علاقوں کی صورتحال کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں۔قانون کی اصل طاقت صرف قانون کی کتابوں یا محض زبانی جمع خرچ میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کے فوری، غیر جانبدار اور مو¿ثر نفاذ میں ہوتی ہے۔ جب معاشرے میں یہ تاثر پیدا ہو جائے کہ قانون سے بچ نکلنا ممکن ہے، تو پھر لوگ اپنی خواہشات اور ان کی تکمیل کو قانون سے بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ہم ہر ایسے سانحے کے بعد چند دن غم مناتے ہیں، سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کرتے ہیں، ٹی وی چینلز پر بحثیں ہوتی ہیں اور پھر بد قسمتی سے چند گھنٹوں بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ اگلے سانحے کے وقوع پذیر ہونے تک۔ ہمارا یہ رویہ خود ایک قومی المیہ بن چکا ہے۔
یہاں یہ بھی ضروری اور اہم ہے کہ ہم جذبات میں بہہ کر پوری نوجوان نسل کو مجرم قرار نہ دیں۔ پاکستان کے لاکھوں نوجوان محنت، تعلیم، خدمت اور دیانت داری کے راستے پر گامزن ہیں۔ مسئلہ نوجوان ہونا نہیں، مسئلہ وہ سوچ ہے جو قانون کو کمزور، طاقت کو حق اور دوسروں کی آزادی کو اپنی خواہش کے تابع سمجھتی ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں کو صرف ڈگریاں ہی نہیں دینی بلکہ اپنے طالب علموں میں اعلیٰ کردار بھی پیدا کرنا ہوگا۔ والدین کو صرف بچوں کی خواہشات پوری نہیں کرنا ہوں گی بلکہ انہیں ”نہیں“ سننے کا حوصلہ اور اچھے برے، بڑے چھوٹے کی حیا اور تمیز بھی سکھانا ہوگا۔ مذہبی، سماجی، سیاسی لیڈران اور تعلیمی رہنماوں کو برداشت، احترام اور قانون کی پاسداری کو اپنی گفتگو کا مستقل حصہ بنانا ہوگا۔ ریاست کو غیر قانونی اسلحے کے خاتمے، خواتین کے تحفظ اور جرائم پر فوری انصاف کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔
گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید نے تو اپنی جان دے کر اپنا فرض نبھا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنا فرض ادا کریں گے؟ کیا ہم اس خون کو محض چند گھنٹوں کے لئے ایک خبر بننے دیں گے؟ یا پھر اسے ایک ایسے موڑ میں بدلیں گے جہاں سے وطن عزیز پاکستان قانون کی بالادستی، اخلاقی تربیت اور سماجی اصلاح کی نئی راہ اختیار کرے گا؟تاریخ گواہ ہے کہ قومیں دشمنوں کی گولیوں سے کم، اپنی غفلتوں سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔
اسلام آباد سانحہ نے ہمیں ایک بار پھر جھنجھوڑا ہے۔ اگر اب بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں، غیر قانونی اسلحے کے خلاف فیصلہ کن جنگ نہ لڑی، نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کو قومی ایجنڈا نہ بنایا اور برابری کی بنیاد پہ قانون کا نفاذ نہ کیا، تو آنے والے دنوں میں شاید ہم صرف اپنے پیاروں، اپنے شہدا کی تعداد گنتے رہ جائیں۔
وطن کے اس بہادر سپوت شہید افسر کی قربانی ہم سے ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے: ”کہ کیا اب بھی ہم نہیں جاگیں گے؟“
اسلام آباد۔ ناحق بہا خون ، ہماری اجتماعی ناکامی
10:37 AM, 12 Jul, 2026